@rana.ishaq8391: عنوان: زنا بالرضا کے مقدمات میں FIR کا قانونی جواز لاہور ہائی کورٹ نے 2024 PCrLJ 1972 میں یہ اصول واضح کیا ہے کہ دو بالغ افراد کے درمیان باہمی رضامندی سے قائم تعلق (زنا بالرضا) کی صورت میں پولیس کی جانب سے ایف آئی آر کا اندراج قانون کے مطابق درست نہیں۔ ایسے معاملات عموماً دفعہ 371 اور 372-B کے تحت درج کر دیے جاتے ہیں، تاہم عدالتِ عالیہ کے مطابق زنا بالرضا سے متعلقہ قانونی دائرہ کار دفعہ 496 تعزیراتِ پاکستان (PPC) میں آتا ہے، جس کے لیے کارروائی دفعہ 200 ضابطہ فوجداری (Cr.P.C.) کے تحت نجی شکایت (Private Complaint / استغاثہ) کے ذریعے کی جانی چاہیے، نہ کہ پولیس رپورٹ یا ایف آئی آر کے ذریعے۔ لہٰذا ایسے مقدمات میں ایف آئی آر کا اندراج قانونی طور پر درست نہیں ہوتا اور اکثر اوقات مجسٹریٹ صاحبان ابتدائی سماعت پر ہی ملزمان کو ڈسچارج کر دیتے ہیں کیونکہ قانونی طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا ہوتا۔ 2024 PCrLJ 1972 #LegalAwareness #PakistanLaw #CriminalLaw #FIR #ZinaBilRaza