@zakaullahkhatak: شہید لیفٹیننٹ فیض سلطان ملک کے حوالے سے ایک ایمان افروز واقعہ دلوں کو موہ لینے والی ایک کہانی پاک فوج کے بائیس سال کے شہید نوجوان آفیسرلیفٹیننٹ فیض سلطان ملک شہید کی بھی ہے۔ جن کے والد کو جب جی ایچ کیو(جنرل ہیڈ کوارٹر راولپنڈی) سے مطلع کیا گیا کہ انکا بیٹا شہید ہو گیا ہے اور مزید جب ان سے استفسار کیا گیا کہ انکا جسد خاکی کہاں لایا جائے تو انہوں نے ان تاریخی الفاظ کے ساتھ پاکستان کی عسکری تاریخ میں خود کو سنہری حروف میں محفوظ کر لیا، “کہ اگر میرے بیٹے کے سینے پر گولیاں ہیں تو اسے چکوال لے آؤ اوراگراس کی پیٹھ پر گولیاں ہیں تواسے وہیں چھوڑ دو”۔ لیفٹنینٹ فیض شہید کے والد کی یہ بات سن کر جی ایچ کیو کے اہلکاروں نے انہیں آگاہ کیا کہ “مبارک ہو سر! آپ کے بیٹے کے سینے پر بائیس گولیاں لگی ہیں اور انہوں نے 35 دہشت گردوں کو واصل جہنم کیا ہے۔” پاک فوج کے اس شیر دل آفیسر نے اپنی زیر قیادت لڑنے والے سپاہیوں کی بھی آگے بڑھ کر نہ صرف دلیرانہ راہنمائی کی بلکہ اپنے ایک زخمی سپاہی یسین کو بھی خود اپنے ہاتھوں میں اٹھا کر پہاڑ سے نیچے لائے جس نے بعد ازاں پشاور سی ایم ایچ میں جام شہادت نوش کیا۔ اور یہاں یہ بات بھی آپ کے گوش گزار کرنا نہایت ضروری امر ہوگا کہ 11 جون سنہ2009ءمیں شیر دل آپریشن کے دوران شہید ہونے والے اس کمسن آفیسر نے دو دنوں سے کھانا نہیں کھایا ہوا تھا کیونکہ تب مہمند ایجنسی میں نامساعد حالات کے پیش نظر( فوڈ سپلائی) خوراک کی ترسیل بھی بند تھی۔ لیفٹیننٹ فیض کم عمری سے ہی اپنے ملک اور حضرت قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ سے والہانہ عقیدت رکھتے تھے اور ان کے سامنے روز قیامت سرخرو ہونے کے متمنی تھے۔ جسکا اظہار ایک بار انہوں نے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں سے ان الفاظ میں کیا، “کہ جب حضرت قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ اللہ تعالٰی کے حضور حاضر ہونگے تو اللہ تعالٰی انہیں بولیں گے”ویلڈن جناح” اور جب میں جاؤں تو میری خواہش ہے کہ مجھے چلو یہ نہ بولیں کہ ویلڈن فیض مگر اتنا تو ضرور کہیں، ویل ایٹمپٹڈ فیض!”۔ Pak Military Things @top fans