@felemes7:

felemes7
felemes7
Open In TikTok:
Region: BR
Saturday 13 June 2026 13:52:41 GMT
162
24
2
0

Music

Download

Comments

strongconsultoriaesp
strong consultoria esportiva :
Te amo lindeza minha.
2026-06-16 16:58:02
1
To see more videos from user @felemes7, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

🚨*عوامی فلاح یا ذاتی تجوریاں؟*  *ناصر حسین شاہ کی وزارتوں کی کارکردگی کا پول* * عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ دونوں ہاتھوں سے لوٹنے اور اختیارات کا کھل کر تماشا لگانے کی جب بھی بات آئے گی، تو سندھ کی سیاست میں سید ناصر حسین شاہ کا نام سرفہرست ملے گا۔ پیپلز پارٹی کے اس 'بااثر' رہنما نے سندھ کے سب سے زیادہ مالدار محکموں—لوکل گورنمنٹ (بلدیات)، ورکس اینڈ سروسز، ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ، اور انرجی—پر بیٹھ کر کس طرح خزانے کا سینہ چیرا ہے، یہ اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ موصوف کی وزارتیں عوامی فلاح کے لیے کم اور ذاتی تجوریاں بھرنے کا زریعہ زیادہ بنیں۔ * ذرا اعداد و شمار کے اس بھیانک کھیل پر نظر ڈالیے! بطور وزیرِ بلدیات اور ورکس اینڈ سروسز، ناصر حسین شاہ کے اختیار میں ہر سال 250 سے 300 ارب روپے کا بھاری بھرکم ترقیاتی بجٹ ہوتا تھا۔ اکیلے مقامی حکومتوں کے لیے 100 سے 150 ارب روپے سالانہ جھونکے جاتے تھے۔ لیکن آڈٹ رپورٹس اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے انکشافات نے اس تمام لوٹ مار کا پول کھول کر رکھ دیا؛ اس وزنی بجٹ کا 60 فیصد سے زائد حصہ شفاف ٹینڈرنگ کے نام پر صرف اور صرف من پسند ٹھیکیداروں اور کرپٹ مافیا کو نوازنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ * زمینی حقائق کا منہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ گھوٹکی، سکھر سے لے کر کراچی تک اربوں روپے کے فنڈز جاری ہونے کے باوجود 70 فیصد سے زائد ترقیاتی منصوبے آج بھی یا تو ادھورے پڑے ہیں یا پھر وہ صرف اور صرف کاغذی فائلوں کی حد تک وجود رکھتے ہیں۔ * دوسری طرف شاہانہ طرزِ زندگی کا یہ عالم ہے کہ کروڑوں روپے مالیت کی امپورٹڈ لگژری گاڑیاں ذاتی سواری بنی رہیں، جن کا پٹرول، مینٹیننس اور پروٹوکول کا سارا شاہانہ خرچہ بھی غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی سے چلنے والے سرکاری خزانے سے اٹھایا گیا۔ نیب (NAB) اور دیگر تحقیقاتی اداروں کے ریکارڈ میں اختیارات کے ناجائز استعمال، بے نامی پراپرٹیز اور اثاثہ جات کی انکوائریاں آج بھی موجود ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ ہر بار سیاسی اثر و رسوخ کا گھناؤنا کھیل کھیل کر ان فائلوں کو دبا کیوں دیا جاتا ہے؟ عوام اب اس کھلی لوٹ مار کا حساب مانگنے کے لیے تیار بیٹھی ہے!
🚨*عوامی فلاح یا ذاتی تجوریاں؟* *ناصر حسین شاہ کی وزارتوں کی کارکردگی کا پول* * عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ دونوں ہاتھوں سے لوٹنے اور اختیارات کا کھل کر تماشا لگانے کی جب بھی بات آئے گی، تو سندھ کی سیاست میں سید ناصر حسین شاہ کا نام سرفہرست ملے گا۔ پیپلز پارٹی کے اس 'بااثر' رہنما نے سندھ کے سب سے زیادہ مالدار محکموں—لوکل گورنمنٹ (بلدیات)، ورکس اینڈ سروسز، ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ، اور انرجی—پر بیٹھ کر کس طرح خزانے کا سینہ چیرا ہے، یہ اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ موصوف کی وزارتیں عوامی فلاح کے لیے کم اور ذاتی تجوریاں بھرنے کا زریعہ زیادہ بنیں۔ * ذرا اعداد و شمار کے اس بھیانک کھیل پر نظر ڈالیے! بطور وزیرِ بلدیات اور ورکس اینڈ سروسز، ناصر حسین شاہ کے اختیار میں ہر سال 250 سے 300 ارب روپے کا بھاری بھرکم ترقیاتی بجٹ ہوتا تھا۔ اکیلے مقامی حکومتوں کے لیے 100 سے 150 ارب روپے سالانہ جھونکے جاتے تھے۔ لیکن آڈٹ رپورٹس اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے انکشافات نے اس تمام لوٹ مار کا پول کھول کر رکھ دیا؛ اس وزنی بجٹ کا 60 فیصد سے زائد حصہ شفاف ٹینڈرنگ کے نام پر صرف اور صرف من پسند ٹھیکیداروں اور کرپٹ مافیا کو نوازنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ * زمینی حقائق کا منہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ گھوٹکی، سکھر سے لے کر کراچی تک اربوں روپے کے فنڈز جاری ہونے کے باوجود 70 فیصد سے زائد ترقیاتی منصوبے آج بھی یا تو ادھورے پڑے ہیں یا پھر وہ صرف اور صرف کاغذی فائلوں کی حد تک وجود رکھتے ہیں۔ * دوسری طرف شاہانہ طرزِ زندگی کا یہ عالم ہے کہ کروڑوں روپے مالیت کی امپورٹڈ لگژری گاڑیاں ذاتی سواری بنی رہیں، جن کا پٹرول، مینٹیننس اور پروٹوکول کا سارا شاہانہ خرچہ بھی غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی سے چلنے والے سرکاری خزانے سے اٹھایا گیا۔ نیب (NAB) اور دیگر تحقیقاتی اداروں کے ریکارڈ میں اختیارات کے ناجائز استعمال، بے نامی پراپرٹیز اور اثاثہ جات کی انکوائریاں آج بھی موجود ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ ہر بار سیاسی اثر و رسوخ کا گھناؤنا کھیل کھیل کر ان فائلوں کو دبا کیوں دیا جاتا ہے؟ عوام اب اس کھلی لوٹ مار کا حساب مانگنے کے لیے تیار بیٹھی ہے!

About