@jihansikandar_23: وَاللّٰهُ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ترجمہ: "اور اللہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت دے دیتا ہے۔" *یعنی ہدایت اصل میں اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے،* /کسی کو ہدایت مل جانا یہ خدائے وحدہ لاشریک کی طرف سے خاص انعام ہے ،/ جس کا شکر روز قیامت تک کیا جائے تب بھی کم ہے، یہ ہدایت اللہ ربّ العزت کا عطیہ ہے ، جو صرف اس کے ہی اختیار میں ہے ، جیسے کہ نبی ﷺ کی دعاء میں شامل ابو جہل بھی تھا، پر ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو چنا ، اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ، کہ ابو جہل نے صفا پہاڑی کے پاس نبی کریم ﷺ کو سخت تکلیف دی۔ جب حضرت حمزہؓ کو معلوم ہوا تو غصے میں ابو جہل کے پاس گئے اور کہا: “کیا تم محمد ﷺ کو برا کہتے ہو؟ میں بھی ان کے دین پر ہوں!” یوں وہ اسلام لے آئے اور بعد میں اسد اللہ (اللہ کا شیر) کہلائے۔ حضرت خالد بن ولید ؓ پہلے مسلمانوں کے خلاف جنگوں میں شریک رہے (احد میں بھی)۔ بعد میں غور و فکر کیا کہ اسلام غالب آ رہا ہے اور یہ دین حق ہے۔ مدینہ آ کر رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “خالد اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے” اسی لیے سیف اللہ کہلائے۔ صحابہؓ کے ایمان لانے کے واقعات مختلف تھے: کسی نے فوراً تصدیق کی (ابو بکرؓ) کسی پر قرآن کا اثر ہوا (عمرؓ) کسی کو غیرتِ ایمانی نے کھینچا (حمزہؓ) کسی نے دعوت پر لبیک کہا (عثمانؓ) کسی نے غور و فکر کے بعد حق کو پہچانا (خالدؓ) بہر حال *واللہ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم* کے مصداق بنے *اور جس کو رب ہدایت نا دینا چاہے* *تو انبیاء علیہم السلام کی دعاء بھی کارگر نہیں ہوتی ہے* *آپ خود ملاحظہ فرمائیں* قرآن کیا کہتا ہے آپ ﷺ کے چچا ابو طالب نے پوری زندگی رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کی، مگر ایمان نہ لائے۔ نبی ﷺ نے وفات کے وقت فرمایا: *( يَا عَمِّ، قُلْ: لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، كَلِمَةً أَشْهَدُ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ)* “چچا! لا الٰہ الا اللہ کہہ دیجئے، میں آپ کے لیے اللہ کے ہاں گواہی دوں گا۔” لیکن وہ اپنے آبائی دین پر وفات پاگئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: *(إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ (سورة القصص28: 56))* (اے محمدﷺ !) بلاشبہ آپ ،جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے ، لیکن اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے۔ اور وہ ہدایت قبول کرنے والوں کو خوب جانتا ہے مزید ملاحظہ فرمائیں نوح علیہ السلام نے تقریباً 950 سال دعوت دی۔ طوفان کے وقت اپنے بیٹے سے فرمایا: “اے میرے بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا، کافروں میں نہ رہ۔” بیٹے نے انکار کیا اور پہاڑ پر پناہ لینے کی بات کی، مگر ڈوب گیا۔ یہاں بھی باپ نبی تھے، دعا اور نصیحت کی، مگر ہدایت نصیب نہ ہوئی۔ آگے سنیں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد آزر کو بار بار سمجھایا “اے میرے ابا جان! شیطان کی عبادت نہ کیجئے…” لیکن والد نے انکار کیا اور دھمکی دی۔ بالآخر ایمان نہ لائے۔ اسے ایسے سمجھیے (1) ہدایت کی دو قسمیں ہیں: (الف) ہدایت توفیقی (ب) ہدایت دلالت ہدایت توفیقی: اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ اپنے کسی بندے کے دل میں ہدایت قبول کرنے کا جذبہ پیدا کر دے۔ کیونکہ انسانوں کے قلوب اللہ کے تصرف میں ہیں۔ وہ انہیں جدھر چاہے پھیرتا رہتا ہے۔ دلوں میں ہدایت قبول کرنے کا جذبہ بھی اللہ ہی پیدا کرتا ہے۔ یہ معاملہ اس کے علاوہ کسی کے اختیار میں نہیں حتی کہ کوئی نبی بھی اپنی مرضی سے جسے چاہے مسلمان یا ہدایت یافتہ نہیں بناسکتا۔ نبیﷺکے رشتہ داروں میں سب سے زیادہ آپ کا ساتھ دینے والے ابوطالب تھے لیکن اس کے باوجود آپ انھیں ہدایت کی توفیق نہ دے سکے۔ ہدایت دلالت: اس سے صراط مستقیم کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرنا مراد ہے۔ جیسا کہ نبی ﷺاور دیگر تمام انبیاء و رسل رہنمائی کرتے رہیں، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: (وَيَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِنْ رَبِّهِ إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرٌ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ (سورة الرعد13: )* “آپ تو محض(ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانی سے)ڈرانے والے ہیں۔ اور ہر قوم کا کوئی نہ کوئی ہادی ضرور ہوتا ہے۔” نیز اللہ تعالی نے نبیﷺسے فرمایا: (وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (سورة الشورى) “اور یقینا آپ ، لوگوں کی سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔” نتیجہ انبیاء علیہم السلام دل سے دعا کرتے تھے۔ وہ نصیحت اور محبت سے بلاتے تھے۔ مگر ہدایت دینا اللہ کے اختیار میں ہے۔ جیسا کہ قرآن بار بار کہتا ہے وَاللَّهُ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ #jihansikandar_23 #xyzabc #goviral #fypviralシviral #fyppppppppppppppppppppppp