@sembilanbelas_746: #ngaji

sembilan belas
sembilan belas
Open In TikTok:
Region: ID
Saturday 13 June 2026 23:48:10 GMT
11891
147
4
83

Music

Download

Comments

miftakhul.karim3
Miftakhul Karim :
enjeh leres bunyai mator suwon
2026-07-05 11:27:15
0
priyono.jkt
@priyojkt :
rahayu
2026-06-14 02:05:44
0
priyono.jkt
@priyojkt :
👍👍👍
2026-06-14 02:05:00
0
kotakmusik9_99_45
😇 :
👍👍👍👍👍👍
2026-07-12 12:15:41
0
To see more videos from user @sembilanbelas_746, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

دنیا دیکھنے کی عمر میں پتہ نہیں کیوں دنیا چھوڑنے کا دل کر رہا ہے عمر ابھی اتنی بھی نہیں کہ تھکن کا بہانہ بنایا جائے لیکن سانسوں کے اندر ایک عجیب سی خاموشی اتر گئی ہے سب کہتے ہیں ابھی تو جینا ہے، ابھی تو دیکھنا ہے   اور میں ہوں کہ ہر صبح آئینے سے نظریں چرانے لگی ہوں   خواب تھے جو کندھوں پر رکھے تھے، اب بوجھ لگنے لگے ہیں   سب راستے کھلے ہیں، پر قدم آگے بڑھنے سے ڈرتے ہیں دنیا اتنی رنگین ہے، اور دل کے اندر سب سیاہ ہو گیا ہے   دوست ہنستے ہیں، میں ہنسی میں بھی اپنی آواز نہیں پہچانتی شہر کی روشنیاں مجھے اندھیرے سے زیادہ ڈراونی لگتی ہیں لوگ پوچھتے ہیں کیا چاہیے، اور میرے پاس جواب میں صرف خاموشی ہے   کتابوں کے صفحے پلٹتی ہوں تو لگتا ہے میری کہانی وہاں نہیں ہے۔ گانوں میں بھی اب وہ درد نہیں ملتا جو میرے اندر ہے ماں کی دعائیں سر پر ہیں، پھر بھی دل بے گھر سا ہے   دنیا دیکھنے نکلی تھی، راستے میں خود کو کھو بیٹھی ہر نئی جگہ پر لگتا ہے میں پہلے بھی یہاں ٹوٹ چکی ہوں    امید کا لفظ سنتی ہوں تو کان بند کرنے کو جی کرتا ہے نہ کوئی شکایت ہے کسی سے، نہ کوئی گلہ ہے تقدیر سے    بس تھک گئی ہوں بنا دوڑے، ہار گئی ہوں بنا لڑے   میں چاہتی ہوں ایک کمرہ، ایک چارپائی ہو ، اور کوئی آواز نہ ہو نہ سوال، نہ توقع، نہ
دنیا دیکھنے کی عمر میں پتہ نہیں کیوں دنیا چھوڑنے کا دل کر رہا ہے عمر ابھی اتنی بھی نہیں کہ تھکن کا بہانہ بنایا جائے لیکن سانسوں کے اندر ایک عجیب سی خاموشی اتر گئی ہے سب کہتے ہیں ابھی تو جینا ہے، ابھی تو دیکھنا ہے اور میں ہوں کہ ہر صبح آئینے سے نظریں چرانے لگی ہوں خواب تھے جو کندھوں پر رکھے تھے، اب بوجھ لگنے لگے ہیں سب راستے کھلے ہیں، پر قدم آگے بڑھنے سے ڈرتے ہیں دنیا اتنی رنگین ہے، اور دل کے اندر سب سیاہ ہو گیا ہے دوست ہنستے ہیں، میں ہنسی میں بھی اپنی آواز نہیں پہچانتی شہر کی روشنیاں مجھے اندھیرے سے زیادہ ڈراونی لگتی ہیں لوگ پوچھتے ہیں کیا چاہیے، اور میرے پاس جواب میں صرف خاموشی ہے کتابوں کے صفحے پلٹتی ہوں تو لگتا ہے میری کہانی وہاں نہیں ہے۔ گانوں میں بھی اب وہ درد نہیں ملتا جو میرے اندر ہے ماں کی دعائیں سر پر ہیں، پھر بھی دل بے گھر سا ہے دنیا دیکھنے نکلی تھی، راستے میں خود کو کھو بیٹھی ہر نئی جگہ پر لگتا ہے میں پہلے بھی یہاں ٹوٹ چکی ہوں امید کا لفظ سنتی ہوں تو کان بند کرنے کو جی کرتا ہے نہ کوئی شکایت ہے کسی سے، نہ کوئی گلہ ہے تقدیر سے بس تھک گئی ہوں بنا دوڑے، ہار گئی ہوں بنا لڑے میں چاہتی ہوں ایک کمرہ، ایک چارپائی ہو ، اور کوئی آواز نہ ہو نہ سوال، نہ توقع، نہ "تم سے یہ امید تھی" لوگ کہتے ہیں تم بدل گئی ہو، میں کہتی ہوں میں تھک گئی ہوں جوانی کے دن ہیں، پر لگتا ہے میں صدیوں سے بوڑھی ہوں ہر خوشی کے پیچھے ایک خالی پن کھڑا مسکرا رہا ہے دنیا دیکھنے کا شوق تھا، اب دنیا سے چھپنے کا شوق ہے پتہ نہیں یہ اداسی موسم کی ہے یا میری فطرت بن گئی اگر میں کبھی اپنے اللّٰہ کے پاس چلی بھی گئی تو کسی کو قصوروار مت ٹھہرانا بس اتنا سمجھ لینا کہ دنیا دیکھنے کی عمر میں دنیا ہی بہت بھاری ہو گئی تھی ۔ #creatorsearchinsights

About