@safirkhan5160: #ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ ایک شخص دوسرے کی قبر کے پاس سے گزرے گا اور کہے گا، کاش! میں اسی کی جگہ ہوتا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7115]#جب ضمیر مر جاتا ہے، تو انسان کے اندر اچھے اور برے کی تمیز، احساسِ ندامت اور خوفِ خدا ختم ہو جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا روحانی اور اخلاقی زوال ہے جہاں غلط کاموں پر بھی دکھی ہونے کے بجائے خوشی یا بے حسی محسوس ہوتی ہے، اور انسان کا نفس بالکل بے قابو ہو جاتا ہے۔#احساسِ ندامت کا خاتمہانسان گناہ یا غلطی کر کے پچھتانے کے بجائے اسے اپنا حق سمجھنے لگتا ہے۔ دل میں نرمی اور رحم دلی کی جگہ پتلا پن اور خود غرضی لے لیتی ہے۔#تکبر اور خود پسندییہ کیفیت انسان میں انا اور تکبر پیدا کرتی ہے۔ وہ ہر تنقید کو مسترد کر کے اپنی اصلاح کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیتا ہے۔روحانی اور اخلاقی نقطہ نظر سے اس کیفیت سے نکلنے کے لیے توبہ، ذکرِ الٰہی اور محاسبہ نفس (اپنے اعمال کا جائزہ لینا) بے حد ضروری ہے تاکہ ضمیر دوبارہ زندہ ہو کر نیکی اور بدی میں تمیز کر سکے#following