@risepk0: آزاد کشمیر میں بجلی کے بھاری بلوں، آٹے کی قیمتوں میں اضافے اور بنیادی معاشی حقوق کے حصول کے لیے جاری عوامی احتجاج پر معروف دفاعی تجزیہ کار زید حامد کا انتہائی سخت اور متنازع موقف سامنے آیا ہے۔ انہوں نے عوامی حقوق کی اس تحریک کو عام شہریوں کا معاشی مسئلہ تسلیم کرنے کے بجائے ایک گہری اور منظم بیرونی سازش قرار دے دیا ہے۔ زید حامد کا دعویٰ ہے کہ احتجاج کی آڑ میں مقامی آبادی کو پاکستان اور پاک فوج کے خلاف اکسایا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت میں آزاد کشمیر کا مکمل انحصار پاکستان کی سپلائی اور معیشت پر ہے۔ انہوں نے مظاہرین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ روزمرہ کی اشیاءِ خورونوش اور گیس تک پاکستان سے آتی ہے، اس لیے ایک الگ ریاست یا پاسپورٹ کا تصور محض ایک خام خیالی ہے اور جو لوگ مفت بجلی اور آٹے کے نام پر ریاست کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں، وہ دراصل دشمن ملک کے ایجنڈے کو مضبوط کر رہے ہیں۔ دوسری طرف، شوکت نواز میر کی قیادت میں قائم عوامی ایکشن کمیٹیوں کا یہ موقف رہا ہے کہ ان کا احتجاج کسی ریاست مخالف ایجنڈے کا حصہ نہیں بلکہ خالصتاً مہنگائی اور معاشی بقا کی جنگ ہے. یہ صورتحال اس گہرے تضاد کو واضح کرتی ہے جو اس وقت ریاستی بیانیے کے حامیوں اور زمینی حقائق کا سامنا کرنے والے مقامی شہریوں کے درمیان پایا جاتا ہے۔ جہاں تجزیہ کار اس پوری لہر کو ہائبرڈ وارفیئر اور سیکیورٹی کے ترازو میں تول رہے ہیں، وہاں مقامی عوام اپنے بنیادی حقوق اور معاشی ریلیف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس رپورٹ میں تفصیلی طور پر جائزہ لیا گیا ہے کہ کس طرح معاشی بحران پر مبنی ان جائز عوامی مطالبات کو بیرونی سازش کا رنگ دے کر سیکیورٹی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، اور اس طرح کے سخت بیانات سے مقامی آبادی کے اندر دوری اور مایوسی کے جذبات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ #breakingnews #9june #mirpur_ajk🇵🇰🇬🇧 #RisePk #rawalakot