@adilafghan025: اس وقت بیشتر پشتون قوم پرست سیاسی جماعتیں اندرونی بحران، تنظیمی کمزوری اور عوامی حمایت میں کمی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض جماعتوں، خصوصاً عوامی نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی، نے اس بحران سے شاید درست سبق نہیں سیکھا۔ ان کا تاثر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ اسٹ یبل شمنٹ کی سرپرستی یا اس کی سیاسی حکمتِ عملیوں کے قریب رہیں گی تو مستقبل میں ان کے سیاسی امکانات بہتر ہو جائیں گے۔ لیکن تاریخ یہ بتاتی ہے کہ قوم پرست جماعتوں کی اصل طاقت عوامی رابطہ، نظریاتی استقامت اور تنظیمی مضبوطی میں ہوتی ہے، نہ کہ طاقتور حلقوں کی عارضی حمایت میں۔ جو جماعتیں اپنی عوامی بنیادوں کو مضبوط بنانے کے بجائے مقتدر قوتوں پر انحصار کرتی ہیں، وہ وقتی فائدہ تو حاصل کر سکتی ہیں، مگر طویل المدت سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ #anp #bachakhanipakarda🚩🚩🚩 #ndm #ptm #peshawar