@user5254724133317:

ميسون🌹💖
ميسون🌹💖
Open In TikTok:
Region: TR
Sunday 14 June 2026 18:24:05 GMT
7135
422
61
110

Music

Download

Comments

arshad132373
ارشد :
2026-06-16 16:57:18
0
user2813352104231
علي العراقي :
مجنون اشلون ما أشوفك
2026-06-16 08:45:42
0
user15679430253416
salem mzeri :
2026-06-16 01:00:46
0
user4601138519595
صقر تكتك :
حبيبت قلبي احبك
2026-06-15 13:38:44
0
user7651857621285
ابو جيمي :
يسعد مساكي يا قمر 🌹 🌹 🌹 🌹 رووووعه 🌹 قمر 🌹 🌹 زووووق 🌹 🌹 وأناقه 🌹 🌹 🌹
2026-06-15 14:19:16
0
user3813812516550
سید حمید خداپرست :
سلام علی اجمل الوردات الملون جمیل احبکیا نجوم سمائ قلبی احبکم ما اجمل الوجهکم وجمالکم
2026-06-15 08:23:55
0
user3852126245466
حسن ابوباسل :
💐❤👀👀💞💞 ❤💐💞👀❤💐💞 ❤💐💞👀❤💐💞 ❤💐💞👀❤💐💞 ❤💐💞👀❤💐💞 ❤💐💞👀❤💐💞. عسل 🍯 ❤️❤️❤️👀👀👀💐💐💐
2026-06-15 20:23:48
0
blamed36
محـ𓄂ᬼ𓆃ـمد𓅇أبن𓅇 موصـ𓄂ᬼ𓆃ـل :
💕💕💕
2026-06-16 10:22:16
0
user9124037792984
Mustafa :
🥰🥰🥰
2026-06-16 09:30:11
0
mohammed.el.allali3
Mohammed El Allali :
🌷🌷🌷
2026-06-16 17:12:14
0
mohamed.zeghab
mohamed zeghab :
🥰🥰🥰
2026-06-14 18:27:38
0
To see more videos from user @user5254724133317, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

Beshak ✨🥀🤍🤲  شہیدوں کے خون سے تاریخ لکھی جاتی ہے، مگر  حسینؑ نے اپنے خون سے عشقِ الٰہی کی وہ تفسیر لکھی جسے آج بھی آسمان آنسوؤں سے پڑھتا ہے۔ کربلا کے تپتے ہوئے صحرا میں  جب ہر طرف ظلم کے سائے تھے،  ایک طرف دنیا کی طاقت کھڑی تھی اور  دوسری طرف حسینؑ کا سجدہ۔  ایک طرف لشکر تھا، دوسری طرف اللہ پر کامل یقین۔    کربلا میں صرف جسم زخمی نہیں ہوئے تھے جب اپنے جوان بیٹے کی لاش سامنے آئی، جب  بھائی عباسؑ وفا کی داستان بن کر زمین پر گرے، جب  خیموں میں بچوں کی پیاس سسکیوں میں بدل گئی، تب بھی حسینؑ کے لبوں پر شکوہ نہ آیا۔ کربلا کی ریت پر جب آخری سجدہ ادا ہو رہا تھا، تب صرف ایک انسان سجدے میں نہیں تھا، بلکہ صبر، وفا، رضا اور بندگی اپنے عروج پر تھے۔ آسمان خاموش تھا، زمین ساکت تھی، مگر حسینؑ کا لہو ایک ایسا پیغام لکھ رہا تھا جو زمانوں کی گرد سے کبھی دھندلا نہیں سکتا۔  وہاں وفا نے اپنے آپ کو قربان کیا ، صبر نے اپنے عروج کو چھوا، اور عشقِ الٰہی نے اپنی مکمل تفسیر لکھی تھی
Beshak ✨🥀🤍🤲 شہیدوں کے خون سے تاریخ لکھی جاتی ہے، مگر حسینؑ نے اپنے خون سے عشقِ الٰہی کی وہ تفسیر لکھی جسے آج بھی آسمان آنسوؤں سے پڑھتا ہے۔ کربلا کے تپتے ہوئے صحرا میں جب ہر طرف ظلم کے سائے تھے، ایک طرف دنیا کی طاقت کھڑی تھی اور دوسری طرف حسینؑ کا سجدہ۔ ایک طرف لشکر تھا، دوسری طرف اللہ پر کامل یقین۔ کربلا میں صرف جسم زخمی نہیں ہوئے تھے جب اپنے جوان بیٹے کی لاش سامنے آئی، جب بھائی عباسؑ وفا کی داستان بن کر زمین پر گرے، جب خیموں میں بچوں کی پیاس سسکیوں میں بدل گئی، تب بھی حسینؑ کے لبوں پر شکوہ نہ آیا۔ کربلا کی ریت پر جب آخری سجدہ ادا ہو رہا تھا، تب صرف ایک انسان سجدے میں نہیں تھا، بلکہ صبر، وفا، رضا اور بندگی اپنے عروج پر تھے۔ آسمان خاموش تھا، زمین ساکت تھی، مگر حسینؑ کا لہو ایک ایسا پیغام لکھ رہا تھا جو زمانوں کی گرد سے کبھی دھندلا نہیں سکتا۔ وہاں وفا نے اپنے آپ کو قربان کیا ، صبر نے اپنے عروج کو چھوا، اور عشقِ الٰہی نے اپنی مکمل تفسیر لکھی تھی

About