@.holidayymainn: i’m a little late on the trend but wtv #xyzbca #fyp #makemefamous #music

.holidayymainn
.holidayymainn
Open In TikTok:
Region: US
Sunday 14 June 2026 18:46:25 GMT
92
38
9
0

Music

Download

Comments

rowanbroskay
Rowan :
period
2026-06-14 19:27:41
0
ggs.spammmm
g :
i love how half of the pictures were taken with me 🥰😁🤗
2026-06-14 19:10:51
0
bella09361
paloma🤍 :
This trend is so cuteee
2026-06-14 19:18:44
0
ava.tillery2
️A V A 💌 :
You have GOOD music taste
2026-06-14 19:10:24
0
dont.give.mia.gun
miaa.R🍭 :
OMG I LOVE GIRLS!!
2026-06-14 18:59:44
0
rowanbroskay
Rowan :
awesomeee
2026-06-14 19:27:37
0
dont.give.mia.gun
miaa.R🍭 :
21 pilots🥹
2026-06-14 18:59:56
0
dont.give.mia.gun
miaa.R🍭 :
i love your music
2026-06-14 18:59:35
0
To see more videos from user @.holidayymainn, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

سردار ملی خان 19ویں صدی کے ایک عظیم حریت پسند اور جنگجو تھے، جنہوں نے سکھ سلطنت اور ڈوگرا راجہ گلاب سنگھ کے ظلم کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔ سکھوں کے خلاف جنگ: جب 1819ء میں سکھ سلطنت نے کشمیر پر قبضہ کیا، تو پونچھ اور سدھنوتی کے پہاڑی قبائل نے سکھوں کی اطاعت دل سے قبول نہ کی۔ سردار ملی خان نے شروع ہی سے سکھ فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ 1819ء کی ایک لڑائی میں وہ سکھوں کی پہاڑی توپ کا گولا لگنے سے زخمی بھی ہوئے تھے۔ 1832ء کی مشہور بغاوت: پونچھ کی تاریخ کی سب سے خونریز اور بڑی بغاوت 1832ء سے 1837ء کے درمیان ہوئی۔ اس بغاوت کی قیادت سردار شمس خان کر رہے تھے، جبکہ ان کے سدا بہار ساتھی اور دستِ راست سردار ملی خان اور سردار سبز علی خان تھے۔ ان مجاہدین نے ڈوگرا راجہ گلاب سنگھ کی فوج کے چھکے چھڑا دیے اور کئی قلعے آزاد کروا لیے۔ بغاوت کو کچلنا اور سازش: راجہ گلاب سنگھ ایک بہت بڑا لشکر لے کر پونچھ پر حملہ آور ہوا اور مقامی غداروں کو پیسے اور عہدوں کا لالچ دے کر مجاہدین کے ٹھکانوں کا پتہ لگایا۔ منگ (Mong) کے مقام پر ایک آخری اور فیصلہ کن معرکہ ہوا جہاں مجاہدین کو محصور کر لیا گیا۔ عبرتناک اور دردناک شہادت: سردار ملی خان اور سردار سبز علی خان کو سکھ اور ڈوگرا فوج نے قیدی بنا لیا۔ راجہ گلاب سنگھ نے عبرت کا نشان بنانے کے لیے ان دونوں غیور سرداروں کو منگ کے مقام پر ایک درخت سے باندھا اور زندہ کھالیں کھینچنے (Flayed Alive) کا حکم دیا۔ سردار ملی خان اور سردار سبز علی خان نے اپنی کھالیں تو اتروا دیں، لیکن ڈوگرا راج کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ منگ (آزاد کشمیر) میں آج بھی ان عظیم شہدا کی یادگار
سردار ملی خان 19ویں صدی کے ایک عظیم حریت پسند اور جنگجو تھے، جنہوں نے سکھ سلطنت اور ڈوگرا راجہ گلاب سنگھ کے ظلم کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔ سکھوں کے خلاف جنگ: جب 1819ء میں سکھ سلطنت نے کشمیر پر قبضہ کیا، تو پونچھ اور سدھنوتی کے پہاڑی قبائل نے سکھوں کی اطاعت دل سے قبول نہ کی۔ سردار ملی خان نے شروع ہی سے سکھ فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ 1819ء کی ایک لڑائی میں وہ سکھوں کی پہاڑی توپ کا گولا لگنے سے زخمی بھی ہوئے تھے۔ 1832ء کی مشہور بغاوت: پونچھ کی تاریخ کی سب سے خونریز اور بڑی بغاوت 1832ء سے 1837ء کے درمیان ہوئی۔ اس بغاوت کی قیادت سردار شمس خان کر رہے تھے، جبکہ ان کے سدا بہار ساتھی اور دستِ راست سردار ملی خان اور سردار سبز علی خان تھے۔ ان مجاہدین نے ڈوگرا راجہ گلاب سنگھ کی فوج کے چھکے چھڑا دیے اور کئی قلعے آزاد کروا لیے۔ بغاوت کو کچلنا اور سازش: راجہ گلاب سنگھ ایک بہت بڑا لشکر لے کر پونچھ پر حملہ آور ہوا اور مقامی غداروں کو پیسے اور عہدوں کا لالچ دے کر مجاہدین کے ٹھکانوں کا پتہ لگایا۔ منگ (Mong) کے مقام پر ایک آخری اور فیصلہ کن معرکہ ہوا جہاں مجاہدین کو محصور کر لیا گیا۔ عبرتناک اور دردناک شہادت: سردار ملی خان اور سردار سبز علی خان کو سکھ اور ڈوگرا فوج نے قیدی بنا لیا۔ راجہ گلاب سنگھ نے عبرت کا نشان بنانے کے لیے ان دونوں غیور سرداروں کو منگ کے مقام پر ایک درخت سے باندھا اور زندہ کھالیں کھینچنے (Flayed Alive) کا حکم دیا۔ سردار ملی خان اور سردار سبز علی خان نے اپنی کھالیں تو اتروا دیں، لیکن ڈوگرا راج کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ منگ (آزاد کشمیر) میں آج بھی ان عظیم شہدا کی یادگار "یادگارِ شہدا" کے نام سے موجود ہے، جو کشمیریوں کو ان کی قربانی کی یاد دلاتی ہے۔ ان دونوں شخصیات کا نام تاریخِ کشمیر میں سنہرے حروف سے لکھا گیا ہے—ایک نے خطے کو سدھنوتی کی پہچان دی اور دوسرے نے اسی مٹی کی آزادی کے لیے اپنی کھال کا نذرانہ پیش کیا۔

About