زندگی تیرے راس آنے تک
ہم تجھے گزار چکے ہوں گے۔
ہم نے ہر صبح تیرے سنورنے کا انتظار کیا،
اور ہر شام ٹوٹ کر سو گئے۔
ہم نے سوچا تھا ایک دن تو سمجھے گی،
ایک دن تو ہمیں وہ سکون دے گی
جس کے لیے ہم نے سب کچھ قربان کیا۔
مگر تو ہر بار بدل گئی، ہر بار نیا امتحان لے آئی۔
ہم انتظار کرتے رہے کہ کب تو ہمارے مطابق ڈھلے گی،
اور پتہ ہی نہ چلا کہ ہم خود بکھر گئے۔
اب ہاتھ میں کچھ نہیں بچا، نہ خواب،
نہ امید، نہ وہ دل جو پہلے دھڑکتا تھا۔
تو نے ہمیں اندھیروں کے سوا کچھ نہ دیا۔
ہم نے تیرے لیے لوگوں کو چھوڑا،
تو نے ہمیں اکیلا کر دیا۔
ہم نے ہر زخم مسکرا کر سہا، یہ سوچ کر
کہ شاید کل بہتر ہو جائے۔
زندگی بہت تیز چلتی ہے
جب ہم جینا چاہتے ہیں، اور تب سست چلتی ہے
جب ہم تھک چکے ہوتے ہیں۔
اب ہمارے پاس نہ وہ ہمت ہے، نہ وہ جذبہ، نہ وہ چاہت۔
ہم نے اتنا انتظار کیا کہ انتظار ہی ہماری عادت بن گیا۔
اب خوشی آئے تو بھی عجیب لگتی ہے،
جیسے کوئی اجنبی دستک دے رہا ہو۔
ہم نے سیکھ لیا ہے کہ ہر چیز کے لیے ایک وقت ہوتا ہے،
اور ہمارا وقت نکل چکا ہے۔
مگر مرے ہوئے لوگ دوبارہ نہیں جیتے،
بس سانس لیتے ہیں۔
ہم تجھے گزار چکے ہیں، ہر آنسو کے ساتھ،
ہر خاموشی کے ساتھ، ہر بے بس رات کے ساتھ۔
اب اگر تو راس آ بھی جائے، تو کیا فائدہ؟
جب ہاتھ تھامنے کو دل ہی نہ رہے۔
ہم نے تجھ سے جنگ لڑی، اور ہار گئے۔
اب نہ شکوہ ہے، نہ شکایت، بس ایک تھکاوٹ ہے
جو ہڈیوں تک اتر چکی ہے۔
زندگی نے ہمیں وہ سب سکھا دیا
جو کبھی سیکھنا نہیں چاہتے تھے۔
2026-06-16 07:04:22
0
To see more videos from user @rajpoot_zadaa7, please go to the Tikwm
homepage.