@alfaazic: کچھ لوگ الفاظ سنتے ہیں اور کچھ لوگ لہجے بھی سمجھ لیتے ہیں۔ مسئلہ تب شروع ہوتا ہے جب انسان صرف بات نہیں سنتا بلکہ اس کے پیچھے چھپی بے رخی، تھکن، ناراضی اور بدلتے ہوئے جذبات بھی محسوس کرنے لگتا ہے۔ پھر وہ جھوٹے یقین نہیں کر پاتا، مصنوعی محبت پر خوش نہیں ہو پاتا اور نہ ہی بدلتے ہوئے رویوں سے بے خبر رہ سکتا ہے۔ بعض اوقات سامنے والا کچھ نہیں کہتا مگر اس کا لہجہ وہ سب کچھ بتا دیتا ہے جو وہ لفظوں میں چھپا رہا ہوتا ہے۔ شاید اسی لیے حساس دل لوگ دوسروں سے نہیں، اپنی سمجھ سے تھک جاتے ہیں۔ وہ وہی محسوس کر لیتے ہیں جسے لوگ چھپانا چاہتے ہیں۔ کیا کبھی کسی کے صرف ایک بدلے ہوئے لہجے نے آپ کو پوری حقیقت سمجھا دی تھی؟ #الفازک