@doyonkabot: 🤷🏻‍♀️

доёна
доёна
Open In TikTok:
Region: BE
Monday 15 June 2026 08:16:41 GMT
61935
5972
7
2498

Music

Download

Comments

shullerggg7070
Mmmm76684 :
УОУОУО
2026-06-15 19:07:43
0
nurzhankuzyy
🤍 :
🤣🤣
2026-06-15 21:44:28
1
akossq7
акося ленова🇰🇿 :
🤣🤣🤣🤣
2026-06-15 19:32:19
0
aitok132
aitok13 :
🤣🤣🤣
2026-06-15 19:50:37
0
To see more videos from user @doyonkabot, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کیا ماں باپ کے ہاتھوں ٹوٹ ٹوٹ کر بکھر جانے والی اولادوں کے دل کبھی جڑ سکتے ہیں؟  وہ دل جس نے پہلی بار ماں کی گود میں دھڑکنا سیکھا تھا،  وہی دل جب ماں کے لفظوں سے چھلنی ہو جائے تو پھر کہاں جائے؟  وہ بچہ جو باپ کی انگلی پکڑ کر دنیا دیکھنے نکلا تھا،  وہی بچہ جب باپ کے ہاتھ سے ہی زخم کھا جائے تو بھروسہ کہاں کرے؟  ماں باپ تو سائیں ہوتے ہیں، چھاؤں ہوتے ہیں، دعا ہوتے ہیں،  پر جب وہی چھاؤں آگ بن جائے تو بچہ کس در پر سر رکھے؟  وہ لفظ جو حوصلہ بننے چاہیے تھے، وہی تیر بن کر دل میں اتر گئے،
کیا ماں باپ کے ہاتھوں ٹوٹ ٹوٹ کر بکھر جانے والی اولادوں کے دل کبھی جڑ سکتے ہیں؟ وہ دل جس نے پہلی بار ماں کی گود میں دھڑکنا سیکھا تھا، وہی دل جب ماں کے لفظوں سے چھلنی ہو جائے تو پھر کہاں جائے؟ وہ بچہ جو باپ کی انگلی پکڑ کر دنیا دیکھنے نکلا تھا، وہی بچہ جب باپ کے ہاتھ سے ہی زخم کھا جائے تو بھروسہ کہاں کرے؟ ماں باپ تو سائیں ہوتے ہیں، چھاؤں ہوتے ہیں، دعا ہوتے ہیں، پر جب وہی چھاؤں آگ بن جائے تو بچہ کس در پر سر رکھے؟ وہ لفظ جو حوصلہ بننے چاہیے تھے، وہی تیر بن کر دل میں اتر گئے، "نالائق ہو تم"، "تم سے کچھ نہیں ہو گا"، "کاش تم پیدا ہی نہ ہوتے" یہ جملے گولیوں کی طرح لگتے ہیں، اور زخم دکھتے نہیں، اندر ہی اندر پیپ بن کر رہ جاتے ہیں۔ بچہ بڑا ہو جاتا ہے، قد لمبا ہو جاتا ہے، پر دل وہیں رہ جاتا ہے، سات سال کے بچے کی طرح سہما ہوا، ہر آواز سے ڈر جانے والا، ہر تنقید پر ٹوٹ جانے والا۔ وہ محبت کے لیے ترستا ہے، توجہ کے لیے بھیک مانگتا ہے، پر ماں باپ کے سامنے سر جھکا کر کہتا ہے "مجھے کچھ نہیں چاہیے" کیونکہ اس نے سیکھ لیا ہے کہ مانگنے پر ڈانٹ پڑتی ہے۔ اس کی ہنسی میں بھی ایک خلا ہوتا ہے، ایسی خالی جگہ جہاں کبھی "شاباش بیٹا" گونجا ہی نہیں، جہاں کبھی باپ نے فخر سے سینے سے نہیں لگایا، جہاں ماں نے بالوں میں ہاتھ پھیر کر نہیں کہا "میری جان ہو تم" وہ بچہ لوگوں کو خوش کرتا ہے، سب کا خیال رکھتا ہے، کیونکہ اسے لگتا ہے اگر میں سب کو خوش رکھوں گا تو شاید میں بھی قابلِ محبت بن جاؤں گا پر گھر آ کر آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر خود سے پوچھتا ہے "میں کس لیے پیدا ہوا؟" جواب میں خاموشی ملتی ہے، وہی خاموشی جو بچپن سے اس کا مقدر بنی، جب وہ روتا تھا تو کہا جاتا تھا روتے نہیں"، جب وہ ڈرتا تھا تو کہا جاتا تھا "بزدل ہو تم" اس کا ڈر، اس کا رونا، اس کا بچپن... سب ماں باپ کے غصے تلے دب گیا، اب وہ بڑا ہو کر بھی خود سے محبت نہیں کر پاتا، کیونکہ اسے سکھایا ہی نہیں گیا کہ خود سے محبت کیسے کرتے ہیں، اسے سکھایا گیا کہ تم بوجھ ہو، تم غلطی ہو، تم کافی نہیں ہو، رات کو جب دنیا سو جاتی ہے تو وہ بچہ جاگ جاتا ہے، وہی سات سال کا سہما ہوا بچہ، جو پوچھتا ہے "میں نے کیا غلط کیا تھا؟" کوئی جواب نہیں دیتا، صرف پرانے زخم رسنے لگتے ہیں، وہ دل جو ٹوٹا تھا ماں باپ کے ہاتھوں، وہ ہر رشتے میں اپنی ماں ڈھونڈتا ہے، اپنے باپ ڈھونڈتا ہے، اور ہر بار دھوکہ کھا کر مزید ٹوٹ جاتا ہے، کیونکہ پہلا زخم گہرا ہوتا ہے، پہلا ٹوٹنا سب سے زیادہ درد دیتا ہے، لوگ کہتے ہیں "معاف کر دو، وہ تمہارے ماں باپ ہیں" پر کوئی نہیں پوچھتا کہ "معاف کر کے دل جوڑ کیسے لے؟" ٹوٹے ہوئے دل کے ٹکڑے چن کر جوڑ دو تو نشان رہ جاتے ہیں، ہر دھڑکن کے ساتھ وہ نشان چبھتے ہیں، یاد دلاتے ہیں کہ تم ٹوٹے ہوئے تھے، شاید کچھ دل جڑ بھی جائیں، وقت کے مرہم سے، کسی کے پیار سے، پر وہ پہلے جیسے کبھی نہیں ہوتے، شفاف نہیں رہتے، ان پر دراڑیں رہ جاتی ہیں، جن سے سردی اندر آ جاتی ہے، وہ ہر بہار میں بھی لرزتے ہیں، کیونکہ جڑیں کاٹ دی گئی تھیں، ماں باپ کے ہاتھوں ٹوٹنے والی اولاد مرتی نہیں، بس جینا بھول جاتی ہے، بس سانس لینا سیکھ جاتی ہے، اور ساری عمر یہ سوال لیے جیتی ہے "اگر ماں باپ ہی اپنے نہ ہوئے تو میرا کون ہو گا؟" اس سوال کا جواب نہ کبھی ملا، نہ کبھی ملے گا، بس دل ٹوٹا رہتا ہے، اور سہتا رہتا ہے، خاموشی سے، کیونکہ دنیا کو بتایا نہیں جا سکتا کہ زخم کس کے ہاتھوں لگے ہیں، نام لیتے ہی رشتہ رسوا ہو جاتا ہے، تو بچہ چپ کر جاتا ہے، اور دل لیے پھرتا ہے، ایک ایسا دل جو جڑنے کے قابل ہی نہیں رہا، کیونکہ جس نے توڑا تھا، اسی کے ہاتھوں جڑنے کی امید بھی مر گئی تھی۔ #creatorsearchinsights #unfreezemyaccount #onemillionviews #viralvideo

About