@shahzaibs777: حضرت کعب بن احبار رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام نے ملک الموت یعنی حضرت عزرائیل علیہ السلام سے فرمایا کہ میں موت کا مزہ چکھنا چاہتا ہوں کیسا ہوتا ہے؟ تم میری روح قبض کر کے دکھاؤ انہوں نے آپ کے حکم کی تعمیل کی روح قبض کر کے پھر اسی وقت لوٹا دی آپ زندہ ہو گئے ۔ پھر آپ نے فرمایا: اب مجھے جہنم دکھا دو تا کہ خوف الہی زیادہ ہو آپ کے ارشاد کی تعمیل کرتے ہوئے آپ کو جہنم کے دروازے پر لے جایا گیا۔ آپ نے مالک نامی فرشتہ جو جہنم کا داروغہ ہے سے فرمایا کہ دروازہ کھولو میں اس سے گذرنا چاہتا ہوں، چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور آپ اس پر سے گذرے۔ پھر آپ نے ملک الموت سے فرمایا: کہ مجھے جنت دکھاؤ! وہ آپ کے حکم کے مطابق آپ کو جنت کے پاس لے گئے ۔ آپ نے جنت کے دروازے کھولنے کا ارشاد فرمایا: تو آپ کے لئے جنت کے دروازے کھول دیئے گئے ۔ آپ جنت میں تشریف لے گئے ۔ ملک الموت نے کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد فرمایا کہ اب آپ چلیں زمین میں اپنے مقام پر تشریف لے چلیں آپ نے فرمایا کہ میں تو یہاں سے کہیں نہیں جاؤں گا کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا: كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوتِ ہر نفس نے موت کا مزا چکھنا ہے میں موت کا ذائقہ چکھ چکا ہوں ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخل ہونے کی یہ شرط لگائی ہے ۔ (وَان مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا) کہ ہر شخص کو جہنم پر گذرنا ہے میں جہنم پر سے بھی گذر کر آچکا ہوں ۔ اب میں جنت میں داخل ہو چکا ہوں جو لوگ جنت میں داخل ہو جاتے ہیں انہیں وہاں سے نکال نہیں جاسکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشادگرامی ہے ( وَمَاهُم مِنْهَا بِمُخْرَجِينَ جنت والوں کو جنت سے نہیں نکالا جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق میں نے یہیں رہنا ہے یہاں سے مجھے نہیں نکالا جا سکتا۔ حضرت ادریس علیہ السلام کے اس کلام کے بعد اللہ تعالی نے ملک الموت کو فرمایا : اے عزرائیل! میرے بندے ادریس نے سب کام میری مرضی سے کئے انہیں یہاں ہی رہنے دو! آپ علیہ السلام ابھی تک آسمانوں میں زندہ ہیں۔۔۔ حوالہ:تزکرۃ الانبیا) #Ms🖤 #writes❤️ #viralaccount🖤👍 #followers🥀💯 #growthmytiktokaccount✅
بسم الله الرحمن الرحيم Fatwa ID: 121-092/D=2/1438 حضرت ادریس علیہ السلام کے زندہ آسمان میں اٹھائے جانے کے متعلق جو روایات ہیں حضرت مفتی شفیع صاحب رحمةاللہ علیہ معارف القرآن میں لکھتے ہیں کہ ان روایات کے بارے میں ابن کثیر رحمة اللہ علیہ نے فرمایا: یہ کعب احبار کی اسرائیلی روایات میں سے ہیں اور اُن میں سے بعض میں نکارت واجنبیت ہے اور حضرت ادریس علیہ السلام کے متعلق قرآن کریم کی آیت وَرَفَعْنٰہُمَکَانًا عَلِیًّا کے معنی یہ ہے کہ اُن کو نبوت و رسالت اور قرب الٰہی کا خاص مقام عطا فرمایا گیا، بہرحال قرآن کریم کے الفاظِ مذکورہ صریح نہیں ہے کہ یہاں رفعت درجہ مراد ہے یا زندہ آسمان میں اٹھانا مراد ہے اس لیے انکار رفع الی السماء قطعی نہیں ہے (معارف القرآن، ج: ۶/۴۰) مذکورہ عبارت سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام کا زندہ جنت میں جانا قطعی نہیں ہے۔ انبیاء علیہم السلام میں سے صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام باحیات ہیں قرآن کریم اس پر شاہد ہے بل رفعہ اللہ إلیہ (النساء آیت: ۱۵۸) اور آپ قرب قیامت میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔ واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
2026-06-17 20:16:22
0
azeemhoney690 :
😭😭😭
2026-06-15 21:25:29
0
Javed bai Javed bai :
🥰🥰🥰
2026-06-15 15:12:47
0
Shahzor Kolachi 🤍🌹🦋 :
💯💯💯
2026-06-15 13:45:26
0
Khurshid Surani :
🥰🥰🥰🥰❤️❤️❤️
2026-06-16 08:59:24
0
To see more videos from user @shahzaibs777, please go to the Tikwm
homepage.