@rajputzadiiii7: خود ہی ہیں باعثِ تکلیف ہم اپنے لیے... کبھی کبھی زندگی میں سب سے بڑی جنگ کسی اور سے نہیں، اپنے ہی دل سے ہوتی ہے۔ ہم ہی خواب بُنتے ہیں، ہم ہی امیدوں کو پروان چڑھاتے ہیں، اور پھر انہی امیدوں کے بکھرنے پر سب سے زیادہ زخمی بھی ہم ہی ہوتے ہیں۔ دل ایک عجیب امانت ہے؛ جس سے محبت کرو، اسی کے اختیار میں اپنی خوشیاں، اپنے سکون اور اپنی بےقراری دے دیتے ہو۔ سوچتی ہوں اگر ہم اتنا محسوس نہ کرتے، اگر دل اتنا نرم نہ ہوتا، اگر وابستگیاں اتنی گہری نہ ہوتیں، تو شاید دکھ بھی اتنے شدید نہ ہوتے۔ نہ کسی کے لفظ تیر بنتے، نہ کسی کی خاموشی اذیت دیتی، نہ کسی کی بےرخی راتوں کی نیند چرا لیتی۔ مگر پھر خیال آتا ہے کہ یہی دل تو زندگی کی اصل پہچان ہے۔ یہی دل محبت سکھاتا ہے، وفا سکھاتا ہے، انتظار کا مطلب سمجھاتا ہے۔ درد نہ ہو تو احساس کی قیمت کیسے معلوم ہو؟ جدائی نہ ہو تو قربت کی مٹھاس کیسے محسوس ہو؟ شاید مسئلہ دل رکھنے میں نہیں، بلکہ ہر کسی کو دل کا مالک بنا دینے میں ہے۔ شاید تکلیف محبت سے نہیں، بےجا توقعات سے جنم لیتی ہے۔ اور شاید سکون اس دن ملتا ہے جب انسان دوسروں سے زیادہ اپنے آپ کو سمجھنا سیکھ لیتا ہے۔ خود ہی ہیں باعثِ تکلیف ہم اپنے لیے، نہ ہم ہوتے، نہ دل ہوتا، نہ دل آزاریاں ہوتیں... مگر پھر شاید محبت بھی نہ ہوتی، اور محبت کے بغیر زندگی صرف سانسوں کا نام رہ جاتی۔