@z___k.991:

ٱڪټٰۅبۤݛ⁽️
ٱڪټٰۅبۤݛ⁽️
Open In TikTok:
Region: IQ
Monday 15 June 2026 13:26:46 GMT
23911
929
11
111

Music

Download

Comments

userunajafer313
Jafer-🏴‍☠️ :
ي والله صدك
2026-06-15 14:54:54
3
rusul493
rusul2000 :
هههههههه ايي والله صدوك 😂😂
2026-06-16 17:42:00
0
user92632759
🤍✨ :
اي صدك😂😂
2026-06-18 12:36:04
0
mogtaba.dhiaa7
𝓶𝓸𝓰𝓽𝓪𝓫𝓪 𝓭𝓱𝓲𝓪𝓪 :
يي بالله
2026-06-17 15:25:16
0
meena19971997
مينا :
😅😅😅
2026-06-15 17:20:32
1
9xxoo8
𝐁𝐄𝐍𝐙⛎ :
😂😂😂
2026-06-16 05:59:52
1
..m_.ax
محمداللهيبي :
😂😂😂
2026-06-23 13:42:23
0
To see more videos from user @z___k.991, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

منتہا ہم شرمندہ ہیں 🥹🥲🥀 منتہا کی انتہا….! منتہا نے شاید اس صبح ناشتہ بھی نہیں کیا ہوگا۔ چائے پک رہی تھی۔ چینی لانے کے لیے ماں نے اسے قریبی اسٹور بھیج دیا۔ یہ روزمرہ زندگی کا ایک معمولی سا کام تھا۔ نہ ماں کے دل میں کوئی اندیشہ تھا، نہ باپ کے ذہن میں کوئی خوف۔ کون جانتا تھا کہ چند قدموں کا یہ سفر ان کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ بن جائے گا۔ کسے پتہ تھا کہ گھر کی دہلیز سے باہر نکلنے والے یہ ننھے قدم موت کی ایسی تاریک وادی کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ وقت گزرتا گیا مگر منتہا واپس نہ آئی۔ پہلے انتظار ہوا، پھر بے چینی، پھر خوف۔ اہلِ خانہ نے گلیاں چھان ماریں، پڑوسیوں سے پوچھا، رشتہ داروں کو فون کیے، مگر ننھی بچی کا کوئی سراغ نہ ملا۔ جب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج دیکھی گئی تو منتہا ایک دکان کے اندر داخل ہوتی نظر آئی، لیکن باہر نکلتی دکھائی نہ دی۔ پھر وہ خبر آئی جس نے پورے سرگودھا کو سوگوار کر دیا۔ ایک معصوم بچی، جو ابھی زندگی کے معنی بھی نہ سمجھ سکی تھی، درندگی اور سفاکیت کا نشانہ بن گئی۔ وہ ننھی کلی جسے ابھی کھلنا تھا، جس نے ابھی خواب دیکھنا شروع بھی نہیں کیے تھے، اسے بے رحمی سے مسل دیا گیا۔ یہ ایک بچی کی موت ہی نہیں، بلکہ اک ماں کی خوشیوں کا جنازہ ہے، ایک باپ کے خوابوں کا قتل ہے، ایک گھر کی رونق کے اجڑ جانے کا نام ہے۔ جب بھی کوئی معصوم بچہ ظلم کا شکار ہوتا ہے تو صرف ایک خاندان نہیں روتا، پورا معاشرہ کٹہرے میں کھڑا ہو جاتا ہے۔ دل بار بار یہ سوال کرتا ہے کہ آخر ہم کس دور میں جی رہے ہیں؟ وہ کون لوگ ہیں جن کے دل ایک معصوم بچی کی چیخوں پر بھی نہیں پگھلتے؟ وہ کون سی انسانیت ہے جو ایک ننھے وجود پر ظلم کرتے وقت مر جاتی ہے؟ ایسے واقعات صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے نہیں بلکہ ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔ آج منتہا کے جیون کی انتہا ہوگئی، مگر وہ اپنے پیچھے ایک درد، ایک آہ اور ایک سوال چھوڑ گئی ہے: کیا ہماری بیٹیاں واقعی محفوظ ہیں؟ اگر نہیں، تو پھر ہمیں بحیثیت معاشرہ اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا، اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی اور اپنے بچوں کے تحفظ کو محض نعرہ نہیں بلکہ عملی ذمہ داری بنانا ہوگا۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس معصوم فرشتہ صفت بچی کو اپنی بے پایاں رحمتوں میں جگہ عطا فرمائے، اس کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، اس کے دکھی والدین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور اس ظلم کے مرتکب افراد کو ایسا عبرت ناک انجام دے کہ آئندہ کوئی درندہ کسی اور منتہا کی زندگی چھیننے کی جرأت نہ کر سکے۔ منتہا تو چلی گئی، مگر اس کا نام اب ہر اُس معصوم بچی کی علامت بن گیا ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری ہم سب کے کندھوں پر ہے۔ سرگودھا منتہا کو ا ج ت م ائی ز ی ا دت ی کے بعد 😓😓😓
منتہا ہم شرمندہ ہیں 🥹🥲🥀 منتہا کی انتہا….! منتہا نے شاید اس صبح ناشتہ بھی نہیں کیا ہوگا۔ چائے پک رہی تھی۔ چینی لانے کے لیے ماں نے اسے قریبی اسٹور بھیج دیا۔ یہ روزمرہ زندگی کا ایک معمولی سا کام تھا۔ نہ ماں کے دل میں کوئی اندیشہ تھا، نہ باپ کے ذہن میں کوئی خوف۔ کون جانتا تھا کہ چند قدموں کا یہ سفر ان کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ بن جائے گا۔ کسے پتہ تھا کہ گھر کی دہلیز سے باہر نکلنے والے یہ ننھے قدم موت کی ایسی تاریک وادی کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ وقت گزرتا گیا مگر منتہا واپس نہ آئی۔ پہلے انتظار ہوا، پھر بے چینی، پھر خوف۔ اہلِ خانہ نے گلیاں چھان ماریں، پڑوسیوں سے پوچھا، رشتہ داروں کو فون کیے، مگر ننھی بچی کا کوئی سراغ نہ ملا۔ جب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج دیکھی گئی تو منتہا ایک دکان کے اندر داخل ہوتی نظر آئی، لیکن باہر نکلتی دکھائی نہ دی۔ پھر وہ خبر آئی جس نے پورے سرگودھا کو سوگوار کر دیا۔ ایک معصوم بچی، جو ابھی زندگی کے معنی بھی نہ سمجھ سکی تھی، درندگی اور سفاکیت کا نشانہ بن گئی۔ وہ ننھی کلی جسے ابھی کھلنا تھا، جس نے ابھی خواب دیکھنا شروع بھی نہیں کیے تھے، اسے بے رحمی سے مسل دیا گیا۔ یہ ایک بچی کی موت ہی نہیں، بلکہ اک ماں کی خوشیوں کا جنازہ ہے، ایک باپ کے خوابوں کا قتل ہے، ایک گھر کی رونق کے اجڑ جانے کا نام ہے۔ جب بھی کوئی معصوم بچہ ظلم کا شکار ہوتا ہے تو صرف ایک خاندان نہیں روتا، پورا معاشرہ کٹہرے میں کھڑا ہو جاتا ہے۔ دل بار بار یہ سوال کرتا ہے کہ آخر ہم کس دور میں جی رہے ہیں؟ وہ کون لوگ ہیں جن کے دل ایک معصوم بچی کی چیخوں پر بھی نہیں پگھلتے؟ وہ کون سی انسانیت ہے جو ایک ننھے وجود پر ظلم کرتے وقت مر جاتی ہے؟ ایسے واقعات صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے نہیں بلکہ ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔ آج منتہا کے جیون کی انتہا ہوگئی، مگر وہ اپنے پیچھے ایک درد، ایک آہ اور ایک سوال چھوڑ گئی ہے: کیا ہماری بیٹیاں واقعی محفوظ ہیں؟ اگر نہیں، تو پھر ہمیں بحیثیت معاشرہ اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا، اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی اور اپنے بچوں کے تحفظ کو محض نعرہ نہیں بلکہ عملی ذمہ داری بنانا ہوگا۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس معصوم فرشتہ صفت بچی کو اپنی بے پایاں رحمتوں میں جگہ عطا فرمائے، اس کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، اس کے دکھی والدین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور اس ظلم کے مرتکب افراد کو ایسا عبرت ناک انجام دے کہ آئندہ کوئی درندہ کسی اور منتہا کی زندگی چھیننے کی جرأت نہ کر سکے۔ منتہا تو چلی گئی، مگر اس کا نام اب ہر اُس معصوم بچی کی علامت بن گیا ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری ہم سب کے کندھوں پر ہے۔ سرگودھا منتہا کو ا ج ت م ائی ز ی ا دت ی کے بعد 😓😓😓

About