@general.knowledge453: اکیلے رہو، موج میں رہو، خوش رہو اور یہ دوستیاں اور محبتیں انسان کو غلام بنا دیتی ہیں۔ یہ بات سن کر پہلے دل کو چوٹ لگتی ہے، پھر سمجھ آتی ہے۔ کیونکہ ہم نے بچپن سے سنا تھا کہ انسان سماجی جانور ہے، تنہائی موت ہے، دوستوں کے بغیر زندگی ادھوری ہے۔ ہم نے دوست بنائے، محبتیں کیں، رشتے نبھائے۔ پہلے پہل سب اچھا لگا۔ ہنسی تھی، مزاق تھا، وعدے تھے، "ہمیشہ ساتھ" کی قسمیں تھیں۔ مگر پھر آہستہ آہستہ زنجیریں نظر آنے لگیں۔ وہ زنجیریں جو سونے کی تھیں، مگر زنجیریں ہی تھیں۔ دوستی کا مطلب یہ ہو گیا کہ ہر پل جواب دینا پڑے گا۔ محبت کا مطلب یہ ہو گیا کہ ہر سانس کی اجازت لینی پڑے گی۔ آپ ہنسنا چاہیں تو دوسرے کا موڈ دیکھنا پڑے گا۔ آپ رونا چاہیں تو دوسرے کو منانا پڑے گا۔ آپ کا "نہ" کہنا گناہ بن گیا، آپ کا "ہاں" کرنا مجبوری بن گیا۔ آپ آہستہ آہستہ اپنی مرضی، اپنی خوشی، اپنا سکون، سب کچھ دوسروں کے ہاتھ میں دے بیٹھے۔ آپ آزاد پیدا ہوئے تھے، مگر دوستی اور محبت کے نام پر خود کو غلام بنا بیٹھے۔ اکیلا رہنا کوئی عذاب نہیں، اکیلا رہنا آزادی ہے۔ جب آپ اکیلے ہوتے ہیں تو آپ کے فیصلے صرف آپ کے ہوتے ہیں۔ آپ رات 2 بجے اٹھ کر چائے پی سکتے ہیں، کوئی نہیں پوچھے گا "کیوں"۔ آپ بغیر بتائے سفر پر نکل سکتے ہیں، کوئی شکوہ نہیں کرے گا۔ آپ خاموش رہ سکتے ہیں، کوئی "خیر تو ہے" نہیں بولے گا۔ اکیلے رہ کر آپ خود سے دوستی کر لیتے ہیں۔ اور جو خود سے دوستی کر لے، اسے دنیا کے کسی سہارے کی ضرورت نہیں رہتی۔ موج میں رہو۔ موج کا مطلب بےحسی نہیں، موج کا مطلب یہ ہے کہ اپنی زندگی کے مالک خود بنو۔ کسی کے آنے سے خوش، کسی کے جانے سے غمگین نہ ہو۔ سمندر کی طرح بن جاؤ۔ لہریں آئیں اور چلی جائیں، سمندر اپنی جگہ رہتا ہے۔ خوش رہو۔ کیونکہ خوشی مانگنے سے نہیں ملتی، خود سے بنانی پڑتی ہے۔ جو اپنی خوشی دوسروں کے ہاتھ دے دے گا، وہ ساری عمر بھیک مانگتا رہے گا۔ ہاں، یہ مانا کہ دوست اور محبت بری چیز نہیں۔ مگر جب وہ ضرورت بن جائے، جب وہ زنجیر بن جائے، جب آپ کا دم گھٹنے لگے، تب سمجھ جاؤ کہ اب وقت ہے رک جانے کا۔ بھیڑیا ہمیشہ اکیلا شکار کرتا ہے۔ شیر بھی تنہا رہتا ہے۔ کیونکہ طاقتور ہمیشہ اکیلا ہوتا ہے۔ کمزور لوگ ہی جھنڈ بناتے ہیں۔ تو اکیلے رہو، مگر تنہا مت رہو۔ خود کے ساتھ رہو۔ اپنی کتاب، اپنی چائے، اپنی دھن کے ساتھ رہو۔ موج میں رہو، مگر لہروں کے بہاؤ میں نہیں، اپنی لہر بن کر رہو۔ خوش رہو، مگر دوسروں کی خوشی پر انحصار کر کے نہیں، اپنی ذات پر فخر کر کے رہو۔ اور یاد رکھو: جو شخص اپنی تنہائی سے دوستی کر لیتا ہے، دنیا کی کوئی دوستی اسے توڑ نہیں سکتی۔ جو شخص اپنی موج میں مست رہتا ہے، کوئی طوفان اسے ڈبو نہیں سکتا۔ اور جو شخص خود سے خوش رہنا سیکھ لیتا ہے، وہ کبھی کسی کا غلام نہیں بنتا۔