@m_saddam_sajid: جھوٹ تو اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ خود انسان مسئلہ یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگ اب اپنے حقیقی چہروں اور ان نقابوں کے درمیان فرق نہیں کر پاتے جو وہ ہر روز پہنتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ نقاب ہی چہرہ بن جاتا ہے اور اداکاری عادت بن جاتی ہے اور فضیلت کا دکھاوا کرنا، اسے اپنانے سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے مضبوط آدمی کو سب کے سامنے اچھا دکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ اپنی تصویر چمکانے میں اپنی عمر گزارتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ قیمت اس میں نہیں ہے جو لوگ اس کے بارے میں کہتے ہیں، بلکہ اس میں ہے جو وہ اس وقت ہوتا ہے جب اسے کوئی نہیں دیکھ رہا ہوتا رہا کمزور، تو وہ اپنی تصویر کا قیدی بن کر جیتا ہے وہ ڈرتا ہے کہ کہیں اس کی حقیقت کھل نہ جائے اور وہ ڈرتا ہے کہ اسے ویسا ہی نہ دیکھ لیا جائے جیسا وہ ہے چنانچہ وہ اصولوں کی باتیں بہت زیادہ کرتا ہے اور اخلاقیات کی نمائش کرتا ہے اور اپنے اصل حجم سے بڑی ساکھ بنانے کی جدوجہد کرتا ہے اس لیے نہیں کہ لوگوں نے اس سے یہ مانگا ہوتا ہے بلکہ اس لیے کہ وہ اپنے باطن میں جانتا ہے کہ حقیقت اس کے ساتھ نہیں ہے اسی لیے وہ غلطی کرنے سے اتنا نہیں ڈرتا جتنا وہ گواہ سے ڈرتا ہے اسے اس بات کا خوف نہیں ہوتا کہ وہ برا ہے بلکہ اسے اس بات کا خوف ہوتا ہے کہ کوئی اسے بنا کسی بناوٹ کے دیکھ لے اور اسی وجہ سے صراحت ہمیشہ خوفناک رہی ہے اس لیے نہیں کہ وہ تکلیف دہ ہوتی ہے بلکہ اس لیے کہ وہ چیزوں سے سجاوٹ کو اتار دیتی ہے اور انہیں ان کی اصل حالت پر لوٹا دیتی ہے پس مرد اپنے بارے میں کہی گئی باتوں سے نہیں پہچانے جاتے اور نہ ہی اس سے جو وہ اپنے بائیو میں لکھتے ہیں اور نہ ہی ان کے لیے تالیاں بجانے والوں کی تعداد سے مرد تو خوف کے وقت پہچانے جاتے ہیں اور مال کے وقت اور طاقت کے وقت اور اس پہلے موقع پر جب وہ بنا کسی حساب کتاب کے جو چاہیں کر سکتے ہوں صرف وہیں نقاب گرتے ہیں اور اصل مادہ ظاہر ہوتا ہے چنانچہ کچھ لوگوں کو مرد دکھنے کے لیے ایک پوری عمر درکار ہوتی ہے اور کچھ مردوں کے لیے پہچانے جانے کو بس ایک لمحہ ہی کافی ہوتا ہے۔ #foryoupage #barish🌨 #trending #fypviralvideo #fypviralvideo