@waqasmayo641: شاہ معظم! مجھے آپکے اٹھائیس ارب روپے -سعودی شہریت اور درجہ سفارت قبول نہیں مسلم دنیا کی سب سے معتبر اور دنیا کی سب سے دولتمند شخصیت۔ خادم حرمین شریفین شاہ خالد بن عبدالعزیز بن سعود یہ سن کر سکتے میں آگئے۔ کافی دیر بعد شاہی محل کےنقرئی دبیز صوفے میں فروکش شاہ خالد۔ نے خاموشی توڑی اور محمد علی کلےسے اتنی عظیم الشان شاہی پیشکش رد کرنے کا سبب دریافت کیا۔۔ یہ سال 1978 کا ذکر ہے۔۔ محمد علی کلے قبول اسلام کے بعد متعدد بار حجاز مقدس آچکے تھے۔ شاہ فیصل کے شاہی مہمان کی حیثیت سے انہیں 1972 میں حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی۔ آج وہ دوبارہ شاہی مہمان بنے۔اس ملاقات کے لئے سعودی عرب کا واشنگٹن میں سفارت خانے کافی دیر سے منصوبہ بندی میں مصروف تھا۔ باکسنگ اور کھیلوں کے بلا شرکت غیرے سرتاج۔ محمد علی کلے 36 برس کے تھے۔ اسی برس انہوں نے تیسری مرتبہ ورلڈ ہیوی ویٹ چیمپئن شپ کا اعزاز انسابقہ ورلڈ چیمپئن لیون سپینکس کو ہرا کر حاصل کیا تھا۔۔ بلاشبہ اس وقت محمد علی کلےکودنیائے سپورٹس کا سب سے بڑا نام تھے۔ مگر انکے مالی حالاتت مثالی نہ تھے۔ آج کے ناقابل یقین معاوضوں کے مقابلے میں تب سٹار کھلاڑیوں کو کافی کم معاوضہ ملتا تھا۔ محمد علی کلے نے کبھی مال و زر سے دل نہ لگایا۔ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ اپنے بڑے خاندان کی فلاح اور خیراتی کاموں میں تعاون کی صورت صرف کرتے۔ شاہ خالد محمد علی کلےکو بحیثیت باکسنگ چیمپئن قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ مگر ان کا اصل مقام قبول اسلام کے نتیجے اور ویت نام کی جنگ میں شرکت سے انکار کی پاداش میں باکسنگ چیمپئن شپ کے ٹائیٹل اور مراعات کے چھن جانے پر صبر۔ استقامت اور جرات مندی سے اسلام کا دفاع کرنا تھا۔ انکے کردار کے اس دلکش پہلو۔۔ نے انہیں امت مسلمہ کی آنکھوں کا تارا بنا دیا تھا۔ یہ انکے کیریئر کے عروج کے آخری ایام تھے۔ ہیرے ۔ جواہرات اور سونے سے جڑے اس خوبصورت اور مرصع محل کے اس پرسکون گوشے میں مترجم اور شاہ کے خواص ہی موجود تھے۔ شاہ نے علی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ آپ کی ویت نام کی جنگ کے دوران جرات مندی۔ اپنے دین اور عقیدہ کی حفاظت اور پاسداری کو۔ عالم اسلام محبت اور عقیدت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ آپ دنیا بھر میں بسنے والے مسلمانوں کی آنکھوں کا تارا ہیں۔ محمد علی کلے نے تشکر بھرے لہجے میں اسے محض اللہ پاک کی کرم نوازی گردانا۔ شاہ نے گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھایا اور بولے۔ کہ میں آپ اور آپکی آئندہ نسلوں کے مالی تحفظ کیلئے ایک آفر آپکے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔شاہ کا ایک نائب آگے بڑھے اور ایک بڑا بیگ میز پہ رکھ دیا اور ایک بریفنگ کیس کھول کر شاہ خالد کے سامنے رکھ دیا ۔ شاہ نے محمد علی کلے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ۔ میں آپ کو ایک سو ملین ڈالرز (آج کے اٹھائیس ارب روپے ) آپکی اسلام کیلئے بیش بہا خدمت پر ہدیہ کرنا چاہتا ہوں۔ آپ ہمارے سفیر ہوں گے اور آپ کو سالانہ دس لاکھ ڈالرز(28 کروڑ روپے ) معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ ایک پرائیویٹ جیٹ آپکی ملکیت ہوگا۔ اور ریاض میں ایک عالی شان محل آپکی تصرف میں ہوگا۔ اسکے عوض آپ مغربی ممالک اور بقیہ دنیا میں مسلمانوں اور سعودی عرب کے نمائندے کے طور پر سفر کریں گے اور تقریبات میں سعودی عرب اور اسلام کی نمائندگی کرینگے۔ وہ چھ ماہ سعودی عرب میں قیام رکھیں گے۔ انہیں سعودی شہریت عطا کی جائے گی۔ مگر انہیں امریکی شہریت سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ اتنی شاندار آفر محمد علی کلے۔ انکی اہلیہ ویرونیکا اور وفد کیلئے ناقابل یقین تھی۔ اتنی دولت تو محمد علی کلے اور اتنی سات پشتون کی پرتعیش زندگی کیلئے کافی تھی۔ محمد علی کلے دم بخود تھے۔ کچھ توقف کے بعد بولے ۔۔ شاہ معظم۔۔ مجھے سوچنے کا موقع دیجئے۔ شام کو انکی اہلیہ اور فنانشل ایڈوائزر انہیں بتا رہے تھے کہ باکسنگ مدد کیرئیر سے انہوں نے چند لاکھ ڈالر ہی پس انداز کئے #unfreezemyacount #unfreezemyacount #unfreezemyacount #unfreezemyacount