@sadiksarawta:

sadik sarawta habu tela
sadik sarawta habu tela
Open In TikTok:
Region: CM
Monday 15 June 2026 20:21:29 GMT
5758
525
13
42

Music

Download

Comments

user3347693729292
Amada mahamat :
bsr tu e ou ?
2026-06-25 21:10:55
1
saboura.hamadou
saboura hamadou :
super Boss
2026-06-26 07:56:11
1
user3347693729292
Amada mahamat :
je veux ensemble comme ça
2026-06-25 21:20:25
0
ibrahim.ibrahi60
Ibrahim DAOUDA :
🙏🙏🙏🙏🙏🙏🙏🙏🙏
2026-06-15 21:34:12
1
djibrila.djibsone
Djibrila Top. MODEL 🥷🏾 :
🥰🥰🥰
2026-06-22 15:26:59
1
sadamawal0
Sadam axai :
😁😁😁
2026-06-19 04:21:19
1
To see more videos from user @sadiksarawta, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

یہ آنکھیں تیری دید کے فاقوں سے مڑ گئی۔ خوابوں کی سڑکیں سنسان ہو گئیں۔ یادوں کی کھڑکیاں گرد سے بھر گئیں۔ انتظار کی شامیں زرد شفق میں تحلیل ہو گئیں۔ دریچوں کے چراغ بجھ گئے۔ خاموشیوں کے سائے بڑھ گئے۔ دل کی دھڑکنوں نے تھکن اوڑھ لی۔ پیاسے لب دعا سے بھی خالی ہو گئے۔ خواہشوں کی کلیاں سوکھ کے جھڑ گئیں۔ نظر کے افق پہ اندھیرے اتر گئے۔ امید کے صحرا میں کوئی سایہ نہ رہا۔ پھولوں کی خوشبو پتھروں میں دفن ہو گئی۔ محبت کی صورت بھی اجنبی لگنے لگی۔ یقین کے چہرے پہ دراڑیں پڑ گئیں۔ ہجر کی ساعتیں لہو روتی رہیں۔ یاد کی بارش میں موسم بھی بکھر گیا۔ کرب کی لکیر ماتھے پہ گہری ہو گئی۔ نگاہوں کا سمندر سوکھ گیا۔ چاہت کی کشتیاں ڈوب گئیں۔ یہ آنکھیں تیری دید کے فاقوں سے مڑ گئیں۔ یہ آنکھیں تیری دید کے فاقوں سے مڑ گئی۔ وہ آنکھیں جو کبھی خوابوں کی روشنی تھیں جو ہر لمحہ تیری جھلک کی آرزو میں نم رہتی تھیں، اب محرومی کی خاک اوڑھ کر بجھ گئی ہیں۔ انتظار کے ریگ زار نے ان کے جادو کو سلب کر لیا ہے۔ برسوں کی پیاس جب دید کے قطرے سے نہ بجھ سکی تو نگاہوں کی تازگی بھی مرجھا گئی۔ وہ منظر جو کبھی رنگین تھا اب سیاه پردوں میں ڈھل گیاہے۔   یہ آنکھیں اب تیری تلاش میں نہیں، بلکہ اپنی تھکن میں الجھ کر کنارہ کر چکی ہیں۔ یہ نہ تو سوال کرتی ہیں نہ جواب چاہتی ہیں، بس خاموشی کے بوجھ تلے جھک کر ہجر کی اذیت کو تقدیر مان چکی ہیں۔
یہ آنکھیں تیری دید کے فاقوں سے مڑ گئی۔ خوابوں کی سڑکیں سنسان ہو گئیں۔ یادوں کی کھڑکیاں گرد سے بھر گئیں۔ انتظار کی شامیں زرد شفق میں تحلیل ہو گئیں۔ دریچوں کے چراغ بجھ گئے۔ خاموشیوں کے سائے بڑھ گئے۔ دل کی دھڑکنوں نے تھکن اوڑھ لی۔ پیاسے لب دعا سے بھی خالی ہو گئے۔ خواہشوں کی کلیاں سوکھ کے جھڑ گئیں۔ نظر کے افق پہ اندھیرے اتر گئے۔ امید کے صحرا میں کوئی سایہ نہ رہا۔ پھولوں کی خوشبو پتھروں میں دفن ہو گئی۔ محبت کی صورت بھی اجنبی لگنے لگی۔ یقین کے چہرے پہ دراڑیں پڑ گئیں۔ ہجر کی ساعتیں لہو روتی رہیں۔ یاد کی بارش میں موسم بھی بکھر گیا۔ کرب کی لکیر ماتھے پہ گہری ہو گئی۔ نگاہوں کا سمندر سوکھ گیا۔ چاہت کی کشتیاں ڈوب گئیں۔ یہ آنکھیں تیری دید کے فاقوں سے مڑ گئیں۔ یہ آنکھیں تیری دید کے فاقوں سے مڑ گئی۔ وہ آنکھیں جو کبھی خوابوں کی روشنی تھیں جو ہر لمحہ تیری جھلک کی آرزو میں نم رہتی تھیں، اب محرومی کی خاک اوڑھ کر بجھ گئی ہیں۔ انتظار کے ریگ زار نے ان کے جادو کو سلب کر لیا ہے۔ برسوں کی پیاس جب دید کے قطرے سے نہ بجھ سکی تو نگاہوں کی تازگی بھی مرجھا گئی۔ وہ منظر جو کبھی رنگین تھا اب سیاه پردوں میں ڈھل گیاہے۔ یہ آنکھیں اب تیری تلاش میں نہیں، بلکہ اپنی تھکن میں الجھ کر کنارہ کر چکی ہیں۔ یہ نہ تو سوال کرتی ہیں نہ جواب چاہتی ہیں، بس خاموشی کے بوجھ تلے جھک کر ہجر کی اذیت کو تقدیر مان چکی ہیں۔

About