@yennhigiadung251102: #giayruttopgia #giayruttreotuong #giayvesinh #yennhigiadung #topgia

Yến Nhi gia dụng
Yến Nhi gia dụng
Open In TikTok:
Region: VN
Tuesday 16 June 2026 00:16:10 GMT
74
0
0
1

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @yennhigiadung251102, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

آج کے معاشرے میں شرم، حیا اور سچائی جیسے لفظ صرف کتابوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ ہر شخص اپنے چہرے پر شرافت کا نقاب سجائے پھرتا ہے مگر اندر سے نیتوں کا اندھیرا اُس کے کردار کو کھا چکا ہوتا ہے۔ عجیب زمانہ آ گیا ہے جہاں چور خود منصف بن بیٹھے ہیں اور سچ بولنے والے کٹہرے میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ لوگ دوسروں کی عزت اچھال کر اپنی انا کی تسکین کرتے ہیں اور پھر خود کو معزز کہلوانے کا حق بھی مانگتے ہیں۔ منافقت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ انسان کے لفظوں اور نیتوں کے درمیان صدیوں کا فاصلہ محسوس ہوتا ہے۔ ہر طرف مطلب پرستی کے سائے ہیں، تعلقات مفاد کی بھٹی میں جل رہے ہیں اور وفاداری ایک نایاب خزانہ بن چکی ہے۔ کچھ لوگ دوسروں کے راز تلاش کرتے کرتے اپنی انسانیت کھو بیٹھتے ہیں۔ وہ شک، حسد اور بدگمانی کے ایسے اندھیروں میں گم ہوتے ہیں جہاں نہ محبت باقی رہتی ہے نہ خلوص۔ معاشرے کے یہ کھوجی لوگ دوسروں کے زخموں کو کرید کر سکون محسوس کرتے ہیں جبکہ اپنے کردار کے داغ اُنہیں دکھائی نہیں دیتے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب انسان کے اندر کا ضمیر مر جائے تو اُس کی زبان زہر اور آنکھیں نفرت اُگلنے لگتی ہیں۔ ایسے وقت میں خاموشی سب سے بڑی دانائی بن جاتی ہے کیونکہ ہر سچ سننے والے کانوں تک نہیں پہنچتا، کچھ سچ صرف وقت ہی ثابت کرتا ہے۔
آج کے معاشرے میں شرم، حیا اور سچائی جیسے لفظ صرف کتابوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ ہر شخص اپنے چہرے پر شرافت کا نقاب سجائے پھرتا ہے مگر اندر سے نیتوں کا اندھیرا اُس کے کردار کو کھا چکا ہوتا ہے۔ عجیب زمانہ آ گیا ہے جہاں چور خود منصف بن بیٹھے ہیں اور سچ بولنے والے کٹہرے میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ لوگ دوسروں کی عزت اچھال کر اپنی انا کی تسکین کرتے ہیں اور پھر خود کو معزز کہلوانے کا حق بھی مانگتے ہیں۔ منافقت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ انسان کے لفظوں اور نیتوں کے درمیان صدیوں کا فاصلہ محسوس ہوتا ہے۔ ہر طرف مطلب پرستی کے سائے ہیں، تعلقات مفاد کی بھٹی میں جل رہے ہیں اور وفاداری ایک نایاب خزانہ بن چکی ہے۔ کچھ لوگ دوسروں کے راز تلاش کرتے کرتے اپنی انسانیت کھو بیٹھتے ہیں۔ وہ شک، حسد اور بدگمانی کے ایسے اندھیروں میں گم ہوتے ہیں جہاں نہ محبت باقی رہتی ہے نہ خلوص۔ معاشرے کے یہ کھوجی لوگ دوسروں کے زخموں کو کرید کر سکون محسوس کرتے ہیں جبکہ اپنے کردار کے داغ اُنہیں دکھائی نہیں دیتے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب انسان کے اندر کا ضمیر مر جائے تو اُس کی زبان زہر اور آنکھیں نفرت اُگلنے لگتی ہیں۔ ایسے وقت میں خاموشی سب سے بڑی دانائی بن جاتی ہے کیونکہ ہر سچ سننے والے کانوں تک نہیں پہنچتا، کچھ سچ صرف وقت ہی ثابت کرتا ہے۔

About