@bigdogreacts2: @Dark Horizon “Road To Hell” 🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥This was awesome. BANGER. #fyp #ai #rock #metal #react

bigdogreacts2
bigdogreacts2
Open In TikTok:
Region: US
Tuesday 16 June 2026 01:32:32 GMT
220369
6749
187
591

Music

Download

Comments

aki_endang_golek
Aki Endang golex's :
dark horison IS THE BEST 👍🔥🔥
2026-06-16 06:11:29
1
davidriswar
David :
i don't like the title of the song ROAD TO HELL
2026-06-28 06:38:47
3
trevorpgraham77
Trevor P Graham :
2026-06-18 02:03:13
12
bronbolton
Bron Bolton :
Sounds like Five Finger Death Punch! Love it!
2026-06-16 11:53:18
7
pak.jup4
Pak Jup :
muantaaaaap kale ni
2026-08-03 09:53:00
1
souhiel4
سهيل ابو العينين :
besta music tack compis
2026-07-31 11:57:08
1
hermansyh820
dasar.lain :
walau pun aku gak ngerti bahasa ingris tapi aku suka musik ini??
2026-07-31 15:45:09
1
user35850703
AWAN BIRU :
😏
2026-07-02 17:01:58
2
maximeevain925
maximeevain925 :
un vrai
2026-07-07 19:56:58
1
juergenm67
Jürgen :
2026-07-03 19:01:19
2
olitium
Carotte :
2026-07-23 22:27:18
1
123joe36
Joe" :
𝙥𝙤𝙠𝙤𝙠𝙚 𝙟𝙤𝙨𝙨 𝙟𝙤𝙨𝙨 𝙟𝙞𝙨𝙨 𝙤𝙢..
2026-06-26 14:36:36
2
novallfaizal
noval :
2026-06-26 03:49:04
1
kaila12shop
andrie56s :
2026-06-28 07:59:42
1
user4624041700240
user4624041700240 :
metalGahar🤟😎
2026-07-22 04:44:40
1
user1341800238374
ปี๊ดปากน้ำระยองครับผม :
🥰🥰🥰
2026-06-20 16:56:06
1
To see more videos from user @bigdogreacts2, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

آج کے Gen Z بچوں کو شاید کبھی یہ احساس نہ ہو سکے کہ اگست کا مہینہ کبھی صرف ایک مہینہ نہیں ہوتا تھا… یہ تو ہمارے بچپن کی سب سے خوبصورت عید ہوا کرتا تھا۔ جیسے ہی یکم اگست قریب آتی، دلوں میں ایک عجیب سی خوشی جاگ اٹھتی۔ ہم سب بچے اپنی جیب خرچ سے چند روپے بچاتے، پھر محلے کا کوئی بڑا لڑکا شہر جا کر سبز و سفید جھنڈیاں، بیجز، بانسریاں، بیلون اور کھلونے لے آتا۔ ہر گلی میں ایک ننھا سا سٹال سجتا، جہاں صرف چیزیں نہیں بکتیں… وہاں خواب، خوشیاں اور وطن سے محبت تقسیم ہوتی تھی۔ پھر شروع ہوتا اصل جشن… امی کے باورچی خانے سے تھوڑا سا آٹا مانگ کر اس میں پانی ملاتے، دھاگہ زمین پر پھیلاتے اور ایک ایک کاغذی جھنڈی کو بڑے پیار سے اس پر چپکاتے۔ نہ کسی کو گرمی کی پروا ہوتی، نہ دھوپ کی تپش کا احساس۔ گلی کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک جھنڈیاں باندھتے ہوئے ایسا لگتا تھا جیسے ہم اپنے چھوٹے سے محلے کو نہیں، بلکہ پورے پاکستان کو سجا رہے ہوں۔ وہ وقت کتنا خوبصورت تھا… نہ موبائل تھے، نہ سوشل میڈیا، نہ مہنگے کیمرے… پھر بھی ہر چہرے پر ایسی مسکراہٹ ہوتی تھی جو آج ہزاروں تصویروں میں بھی نظر نہیں آتی۔ مگر وقت… وقت کبھی ایک جیسا نہیں رہتا۔ وہی بچے جو کبھی آٹے سے جھنڈیاں چپکاتے تھے، آج رزق کی تلاش میں پسینے سے بھیگے ہوئے ہیں۔ کسی کے کندھوں پر ماں باپ کی ذمہ داری ہے، کوئی اپنی اولاد کے مستقبل کے لیے دن رات محنت کر رہا ہے، اور کوئی اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے اپنے وطن سے ہزاروں میل دور پردیس میں آنسو چھپا کر جیتا ہے۔ جشنِ آزادی پر آٹے سے جھنڈیاں لگانے والے وہی بچے، آج اسی گھر کا آٹا پورا کرنے کے لیے اپنی جوانی کھپا رہے ہیں۔ کاش ایک بار پھر وقت لوٹ آئے… کاش ایک بار پھر وہی محلہ ہو… وہی دوست ہوں… وہی کاغذی جھنڈیاں ہوں… وہی آٹے سے چپکے ہاتھ ہوں… اور امی کی وہ آواز آئے:
آج کے Gen Z بچوں کو شاید کبھی یہ احساس نہ ہو سکے کہ اگست کا مہینہ کبھی صرف ایک مہینہ نہیں ہوتا تھا… یہ تو ہمارے بچپن کی سب سے خوبصورت عید ہوا کرتا تھا۔ جیسے ہی یکم اگست قریب آتی، دلوں میں ایک عجیب سی خوشی جاگ اٹھتی۔ ہم سب بچے اپنی جیب خرچ سے چند روپے بچاتے، پھر محلے کا کوئی بڑا لڑکا شہر جا کر سبز و سفید جھنڈیاں، بیجز، بانسریاں، بیلون اور کھلونے لے آتا۔ ہر گلی میں ایک ننھا سا سٹال سجتا، جہاں صرف چیزیں نہیں بکتیں… وہاں خواب، خوشیاں اور وطن سے محبت تقسیم ہوتی تھی۔ پھر شروع ہوتا اصل جشن… امی کے باورچی خانے سے تھوڑا سا آٹا مانگ کر اس میں پانی ملاتے، دھاگہ زمین پر پھیلاتے اور ایک ایک کاغذی جھنڈی کو بڑے پیار سے اس پر چپکاتے۔ نہ کسی کو گرمی کی پروا ہوتی، نہ دھوپ کی تپش کا احساس۔ گلی کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک جھنڈیاں باندھتے ہوئے ایسا لگتا تھا جیسے ہم اپنے چھوٹے سے محلے کو نہیں، بلکہ پورے پاکستان کو سجا رہے ہوں۔ وہ وقت کتنا خوبصورت تھا… نہ موبائل تھے، نہ سوشل میڈیا، نہ مہنگے کیمرے… پھر بھی ہر چہرے پر ایسی مسکراہٹ ہوتی تھی جو آج ہزاروں تصویروں میں بھی نظر نہیں آتی۔ مگر وقت… وقت کبھی ایک جیسا نہیں رہتا۔ وہی بچے جو کبھی آٹے سے جھنڈیاں چپکاتے تھے، آج رزق کی تلاش میں پسینے سے بھیگے ہوئے ہیں۔ کسی کے کندھوں پر ماں باپ کی ذمہ داری ہے، کوئی اپنی اولاد کے مستقبل کے لیے دن رات محنت کر رہا ہے، اور کوئی اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے اپنے وطن سے ہزاروں میل دور پردیس میں آنسو چھپا کر جیتا ہے۔ جشنِ آزادی پر آٹے سے جھنڈیاں لگانے والے وہی بچے، آج اسی گھر کا آٹا پورا کرنے کے لیے اپنی جوانی کھپا رہے ہیں۔ کاش ایک بار پھر وقت لوٹ آئے… کاش ایک بار پھر وہی محلہ ہو… وہی دوست ہوں… وہی کاغذی جھنڈیاں ہوں… وہی آٹے سے چپکے ہاتھ ہوں… اور امی کی وہ آواز آئے: "بس بہت ہوگیا… پہلے آ کر روٹی کھا لو!" مگر اب نہ وہ بچپن واپس آئے گا، نہ وہ دن… بس رہ جائیں گی تو چند دھندلی یادیں… جو ہر اگست میں دل کی آنکھوں کو نم کر دیتی ہیں۔ اے اللہ! ہمارے وطن پاکستان کو ہمیشہ سلامت رکھ، اور ہمارے بچوں کو بھی وہی محبتِ وطن نصیب فرما جو کبھی ہمارے بچپن کی پہچان تھی۔ 🇵🇰 #fyppppppppppppppppppppppp #deepthoughts #viral #dontunderreviewmyvideo #fypシ゚viral

About