@saqi.writes852: میں دختر حیا ہوں... مگر دل بھی رکھتی ہوں خاموش سی دھڑکنوں میں اک انجانی سی صدا بھی رکھتی ہوں۔ نظروں کی جھکی ہوئی چادر میں کئی ان کہی دعائیں بھی رکھتی ہوں۔ اک عکس تھا جو خیال کی دیوار پر ابھرا میں نے اُسے تقدس کا لمس دیا اور وہ میرے اندر کسی اپنے کی طرح بس گیا۔ مگر کچھ رشتے نام نہیں مانگتے وہ بس آزمائش بن کر دل کے دروازے پر دستک دیتے ہیں۔ میں نے چاہا کہ احساس کو پاکیزگی کی چادر اوڑھا دوں مگر ضمیر کی روشنی نے سرگوشی کی بر قربت مقدر نہیں ہوتی۔ اب میں اپنے ہی دل کی نگہبان ہوں اپنی سوچ کی محافظ اپنی حدود کی پاسبان کیونکہ عزت نفس کی خوشبو کسی بھی عارضی کشش سے کہیں زیادہ دیرپا ہوتی ہے۔ میں دختر حیا ہوں