@sammul.balouch.143: جو بشیر زیب بلوچ آج آپ کو بلوچستان بھر میں آپریشن ہیروف 2 کی خد کمان سنبھالتے اور بلوچستان بھر میں ہونڈا 125 دوڑاتے نظر آ رہے ہیں، وہ کبھی کوئٹہ پریس کلب میں کھڑے ہو کر اپنے مطالبات سیاسی اور پرامن طریقے سے پیش کیا کرتے تھے۔ مگر 2014 میں بلوچستان کے سیاسی کارکنوں پر ہونے والے کریک ڈاؤن کے بعد جب بہت سے بلوچ رہنماؤں کو قتل کر دیا گیا تو بشیر زیب بھی انڈر گراؤنڈ ہو گئے۔ کیونکہ ان کے مطالبات سننے والا کوئی نہ تھا اور جو کوئی بھی اپنے سیاسی حقوق پر مانگتا تھا، اسے چپ کرا دیا جاتا تھا یا قتل کر دیا جاتا تھا۔ ان حالات نے بشیر زیب کو قلم کے بجائے بندوق اٹھانے پر مجبور کر دیا اور بی ایل اے میں شامل ہو گئے۔ آج وہ بشیر زیب بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی) کے ایک سینئر کمانڈر بن چکے ہیں۔ وہ تنظیم جو کبھی صرف گیارہ افراد پر مشتمل تھی، آج اس کی ریکروٹمنٹ ہزاروں میں ہو چکی ہے۔ پہلے بی ایل اے کی طرف سے محدود حملے ہوتے تھے، مگر اب جب سے بشیر زیب نے کمانڈ سنبھالی ہے، بی ایل اے کا اسکیل کافی وسیع ہو چکا ہے۔ اب بات کوئٹہ سمیت پورا بلوچستان بنچنگ تک پہنچ چکی ہے۔ اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ ان حالات کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور ان کے ذمہ دار آخر کون ہیں؟ یہ فیصلہ آپ خود کریں۔ #operationherof2