Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@mecuakunkit: #nailxuhuong gói kê tay tg nail . gối kê tay làm nail . chống mỏi chống rung.#phukiennail #goiketaylamnail #goiketaynail #nailxinhtaydep
Mẹ Của Kun Kít
Open In TikTok:
Region: VN
Tuesday 16 June 2026 08:42:38 GMT
1517
5
5
4
Music
Download
No Watermark .mp4 (
3.1MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
3.1MB
)
Watermark .mp4 (
0MB
)
Music .mp3
Comments
Ann Một Mình Mở Tiệm 🍵 :
Đã lên đơn ạ
2026-06-17 06:17:41
1
Mẹ Của Kun Kít :
xịn lắm a
2026-06-16 08:43:32
1
Mẹ Của Kun Kít :
❤️
2026-06-30 20:16:50
0
To see more videos from user @mecuakunkit, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
Todo pensado para gue solo disfrutes.#Camping #CampingEssentials #familytent #SquareTent
film paket santet tayang 27 Agustus 2026 di bioskop 🔥 #filmpaketsantet #paketsantet #dikiriminpaketsantet #fyppppppppppppppppppppppp #viral
#sailormoon #90sanime #retro #nostalgic #animecity
1991 میں متحدہ عرب امارات کے شہر العین میں چار سالہ عمر ویبیر کو اسکول سے گھر لایا جا رہا تھا کہ ان کی گاڑی ایک اسکول بس سے ٹکرا گئی۔ عمر کی والدہ منیرہ عبداللہ نے حادثہ آتا دیکھ کر فوراً بیٹے کو سینے سے لپٹا لیا۔ عمر صرف معمولی چوٹ کے ساتھ محفوظ رہا، مگر اسے بچانے والی ماں کے دماغ پر ایسی شدید چوٹ آئی کہ وہ انتہائی محدود شعوری حالت میں چلی گئیں۔ منیرہ بول سکتی تھیں، نہ اپنی ضرورت بتا سکتی تھیں۔ انہیں خوراک ٹیوب کے ذریعے دی جاتی اور پٹھوں کو ناکارہ ہونے سے بچانے کے لیے فزیوتھراپی کروائی جاتی۔ ڈاکٹر عمر کو بار بار بتاتے رہے کہ شاید ان کی والدہ کبھی دوبارہ بات نہ کرسکیں، لیکن جس ماں نے حادثے کے وقت اپنے جسم کو بیٹے کی ڈھال بنایا تھا، عمر نے اسے حالات کے رحم و کرم پر چھوڑنے سے انکار کردیا۔ وہ چار سالہ بچے سے ایک بالغ شخص بن گیا، مگر ماں سے ملنا اس کے روزمرہ معمول کا حصہ رہا۔ وہ کئی کلومیٹر پیدل چل کر ہسپتال پہنچتا، گھنٹوں ان کے پاس بیٹھتا اور ان کے خاموش چہرے کے معمولی تاثرات سے سمجھنے کی کوشش کرتا کہ انہیں کہاں درد یا تکلیف ہے۔ اس مسلسل ذمہ داری کے باعث عمر کے لیے باقاعدہ ملازمت کرنا بھی مشکل ہوگیا، مگر اسے کبھی اپنی خدمت پر پچھتاوا نہیں ہوا۔ منیرہ کو علاج اور انشورنس کی پابندیوں کی وجہ سے متحدہ عرب امارات کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا جاتا رہا۔ بالآخر 2017 میں ابوظبی کے ولی عہد کی عدالت نے ان کا معاملہ سن کر جرمنی کے خصوصی بحالی مرکز میں جامع علاج کے اخراجات فراہم کیے۔ وہاں ان کے کمزور پٹھوں کی سرجری ہوئی، مرگی کو قابو کرنے کی کوشش کی گئی اور مسلسل جسمانی و ذہنی بحالی کا عمل شروع ہوا۔ جون 2018 میں جرمنی میں علاج کے آخری دنوں کے دوران عمر کی ہسپتال کے کمرے میں کسی سے تکرار ہوگئی۔ منیرہ نے بظاہر محسوس کیا کہ ان کا بیٹا خطرے میں ہے اور اچانک غیرمعمولی آوازیں نکالنے لگیں۔ تین دن بعد عمر سو رہا تھا کہ کسی نے اسے نام لے کر پکارا۔ آنکھ کھلی تو سامنے وہی ماں تھی جس کی آواز سننے کے لیے وہ 27 سال سے منتظر تھا۔ منیرہ کی زبان سے نکلنے والا پہلا واضح لفظ “عمر” تھا۔ بعد میں منیرہ نے اپنے بہن بھائیوں کے نام بھی لیے، اپنی تکلیف بتانے لگیں اور قرآن کی آیات پڑھنے میں عمر کا ساتھ دینے لگیں۔ عمر کا کہنا تھا کہ دنیا نے انہیں ایک ناامید مریض سمجھ لیا تھا، مگر اس نے کبھی اپنی ماں کو زندگی سے خارج نہیں کیا۔ 27 سال پہلے ماں نے ایک لمحے میں بیٹے کو بچایا تھا؛ پھر اسی بیٹے نے اپنی پوری جوانی ماں کی واپسی کی امید میں گزار دی—اور جب اس خاموشی نے آخرکار لفظ کا روپ لیا تو وہ لفظ بھی اسی وفادار بیٹے کا نام تھا۔
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy