@carissaa.dv: nyari zone zero float trnyta ga sgmpang itu 😠 #tradingforex #xauusd #fullmargin #fyp

Crssaafx
Crssaafx
Open In TikTok:
Region: ID
Tuesday 16 June 2026 12:01:45 GMT
17652
472
18
34

Music

Download

Comments

benangputih_
benang putih :
200 jadi berpq
2026-06-17 13:06:35
3
trader.pemula79
Tradersaurus :
ka boleh bljr TPI gratis g ka
2026-06-19 11:37:46
0
kademi_rypto
Mawan📈 :
pake broker apa bre
2026-06-28 12:33:34
0
gaktautanya01
ARFANN GEGE :
pake apk apa kak
2026-06-16 16:11:00
0
mhammadaldyyy
raja belibis :
gacorrr nii
2026-06-16 22:59:38
0
replay373
Re:Play :
Kak tutorin cara pasang tp,buy limit Ama sel limit kak udh follow
2026-06-20 12:26:41
1
alitxd
Alitt. :
tadi ya kak? wkwk
2026-06-16 20:32:13
0
widex_182
Wd Arta 369 :
boleh copas ilmunya kk? gmana caranya?
2026-06-18 16:23:12
0
gol.d.fx28
GOL D FX :
Leverage Unlimited Exnxxx??
2026-06-16 17:36:57
0
dn.fx.crptstks
DN FX CRPTSTKS :
@carissaa.dv kak cara entryannya banyak, tapi pasang tp nya 1 langkah itu gmna kak ya?? caranya kak please, maaf pemula
2026-06-24 01:09:40
0
To see more videos from user @carissaa.dv, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

*سوال:اگر پتھر کو خدا سمجھ کر سجدہ کرنا شرک ہے تو پھر پتھر کو شیطان سمجھ کر کنکریاں مارنا ثواب کیوں ہے؟*   ```الجواب و بااللہ التوفيق:✨```  چند نکات پیش خدمت ہیں    *نکتہ اول:* کنکریاں مارنے کا عمل (رمی جمرات) شرک نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ کے حکم کی تعمیل میں ایک علامتی عبادت ہے، اور اس کے پیچھے شرعی مقصد سجدہ کرنے کے مقصد سے بالکل مختلف ہے۔  سجدہ ہمیشہ تعظیم اور عبادت کے لیے کیا جاتا ہے۔  اسلام میں سجدہ صرف اور صرف اللہ رب العزت کے لیے جائز ہے۔ لہذا ، اگر کسی پتھر (یا کسی بھی مخلوق) کو خدا سمجھ کر، یا اس کی عبادت اور تعظیم کی نیت سے سجدہ کیا جائے تو یہ شرک اکبر ہے، کیونکہ یہ اللہ کی الوہیت میں کسی اور کو شریک کرنا ہے۔ اسی طرح ، رمی جمرات کی نیت تعظیم نہیں، بلکہ اطاعت اور نفرت کا اظہار ہے۔  یہ عمل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کی پیروی اور اللہ کے حکم کی تعمیل میں کیا جاتا ہے۔  کنکریاں مارنا دراصل شیطان کی وسوسہ انگیزی کے خلاف نفرت اور مزاحمت کا ایک علامتی اظہار ہے، جہاں شیطان نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ کے حکم (حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی) سے روکنے کی کوشش کی تھی۔ یہ حج کے مناسک میں سے ایک واجب عمل ہے، جو اللہ نے اپنے رسولوں کے ذریعے سکھایا ہے۔  لہٰذا ، یہاں حجاج کرام ان پتھروں کی عبادت نہیں کرتے، نہ ہی یہ پتھر بذاتِ خود شیطان ہیں ۔ وہ صرف اللہ کے حکم پر ایک جگہ پر ایک خاص عمل (کنکریاں پھینکنا) انجام دے رہے ہیں، جس کا ثواب صرف اس اطاعت کی وجہ سے ملتا ہے۔  *نکتہ دوم:* رمی جمرات (کنکریاں مارنا) اور پتھر کو خدا سمجھ کر سجدہ کرنے کے درمیان بنیادی اور فیصلہ کن فرق مقصد اور نیت کا ہے۔  سجدہ ہمیشہ تعظیم اور عبادت کے لیے مخصوص ہوتا ہے، اور اسے اللہ کے سوا کسی اور کے لیے بجا لانا شرک اکبر ہے، کیونکہ اس میں پتھر کو اللہ کے برابر کا درجہ دے کر بندگی کی نیت شامل ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، رمی جمرات کا مقصد قطعاً تعظیم نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ کے حکم کی تعمیل میں ایک علامتی عمل ہے، جو شیطان کے خلاف نفرت اور مزاحمت کو ظاہر کرتا ہے، اور اس میں پتھروں کی عبادت کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔    پتھر کو سجدہ کرنا حرام اور شرک ہے، جسے اسلام میں سب سے بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ رمی جمرات حج کے واجب مناسک میں سے ہے، جس کا ثواب درحقیقت پتھر کو مارنے پر نہیں، بلکہ اللہ کے مقرر کردہ حکم کی اطاعت اور فرمانبرداری پر ملتا ہے۔ پس، ایک عمل خالق کی الوہیت  کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے اور دوسرا خالصتاً اس کی اطاعت کو ثابت کرتا ہے۔ #foryou #foryoupage #islam #islamic_video #allah
*سوال:اگر پتھر کو خدا سمجھ کر سجدہ کرنا شرک ہے تو پھر پتھر کو شیطان سمجھ کر کنکریاں مارنا ثواب کیوں ہے؟* ```الجواب و بااللہ التوفيق:✨``` چند نکات پیش خدمت ہیں *نکتہ اول:* کنکریاں مارنے کا عمل (رمی جمرات) شرک نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ کے حکم کی تعمیل میں ایک علامتی عبادت ہے، اور اس کے پیچھے شرعی مقصد سجدہ کرنے کے مقصد سے بالکل مختلف ہے۔ سجدہ ہمیشہ تعظیم اور عبادت کے لیے کیا جاتا ہے۔ اسلام میں سجدہ صرف اور صرف اللہ رب العزت کے لیے جائز ہے۔ لہذا ، اگر کسی پتھر (یا کسی بھی مخلوق) کو خدا سمجھ کر، یا اس کی عبادت اور تعظیم کی نیت سے سجدہ کیا جائے تو یہ شرک اکبر ہے، کیونکہ یہ اللہ کی الوہیت میں کسی اور کو شریک کرنا ہے۔ اسی طرح ، رمی جمرات کی نیت تعظیم نہیں، بلکہ اطاعت اور نفرت کا اظہار ہے۔ یہ عمل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کی پیروی اور اللہ کے حکم کی تعمیل میں کیا جاتا ہے۔ کنکریاں مارنا دراصل شیطان کی وسوسہ انگیزی کے خلاف نفرت اور مزاحمت کا ایک علامتی اظہار ہے، جہاں شیطان نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ کے حکم (حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی) سے روکنے کی کوشش کی تھی۔ یہ حج کے مناسک میں سے ایک واجب عمل ہے، جو اللہ نے اپنے رسولوں کے ذریعے سکھایا ہے۔ لہٰذا ، یہاں حجاج کرام ان پتھروں کی عبادت نہیں کرتے، نہ ہی یہ پتھر بذاتِ خود شیطان ہیں ۔ وہ صرف اللہ کے حکم پر ایک جگہ پر ایک خاص عمل (کنکریاں پھینکنا) انجام دے رہے ہیں، جس کا ثواب صرف اس اطاعت کی وجہ سے ملتا ہے۔ *نکتہ دوم:* رمی جمرات (کنکریاں مارنا) اور پتھر کو خدا سمجھ کر سجدہ کرنے کے درمیان بنیادی اور فیصلہ کن فرق مقصد اور نیت کا ہے۔ سجدہ ہمیشہ تعظیم اور عبادت کے لیے مخصوص ہوتا ہے، اور اسے اللہ کے سوا کسی اور کے لیے بجا لانا شرک اکبر ہے، کیونکہ اس میں پتھر کو اللہ کے برابر کا درجہ دے کر بندگی کی نیت شامل ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، رمی جمرات کا مقصد قطعاً تعظیم نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ کے حکم کی تعمیل میں ایک علامتی عمل ہے، جو شیطان کے خلاف نفرت اور مزاحمت کو ظاہر کرتا ہے، اور اس میں پتھروں کی عبادت کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔ پتھر کو سجدہ کرنا حرام اور شرک ہے، جسے اسلام میں سب سے بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ رمی جمرات حج کے واجب مناسک میں سے ہے، جس کا ثواب درحقیقت پتھر کو مارنے پر نہیں، بلکہ اللہ کے مقرر کردہ حکم کی اطاعت اور فرمانبرداری پر ملتا ہے۔ پس، ایک عمل خالق کی الوہیت کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے اور دوسرا خالصتاً اس کی اطاعت کو ثابت کرتا ہے۔ #foryou #foryoupage #islam #islamic_video #allah

About