لہو میں ابال ہے روح میں جلال ہے
جانے کس کی نظر کا یہ کمال ہے
کیفیت ہے نہ سمجھ آنے والے ارداس
درحقیقت خوشحال ہے لگے کوئی ملال ہے
ہر جذبہ احساس بھی پامال ہے
ملا کھویا جوبھی اپنا کیا رب کا مال ہے
کہاں نیکیاں کہاں گناہ ہیں پڑتال ہے
حقیقت کچھ نہیں حقیقت میرا خیال ہے
قدم زمین پر روح جیسے پاتال ہے
کیساعروج بخشا یارب مثل ذوال ہے
میری لاش پر کیوں میری روح کادھمال ہے
یہ کوئی وسوسا شر شیطانی اشتیعال ہے
یا حقیقت ہے تباہی کے دہانے پر کیوں استقلال ہے
کیسا جنون ہے جذبہ ہے روح جب نڈھال ہے
سوچ میری شمشیر میرے گلے پر یا ڈھال ہے
تو ذولجلال ہے رب آ بے مثال ہے کمال ہے