@mr_meer_official1: کبھی کبھی انسان کی اصل تھکن جسم کی نہیں ہوتی، بلکہ وہ بوجھ ہوتا ہے جو وہ اپنے اندر لیے پھرتا ہے۔ وہ باتیں جو کبھی کسی سے کہی نہیں گئیں، وہ درد جو ہمیشہ دبایا گیا، وہ سوال جن کے جواب کبھی نہیں ملے… یہ سب آہستہ آہستہ دل میں جگہ بنا لیتے ہیں۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب انسان خود کو پہچان نہیں پاتا۔ وہی چہرہ، وہی مسکراہٹ… مگر اندر سب کچھ بدل چکا ہوتا ہے۔ یہ گھٹن صرف احساس نہیں ہوتی، یہ ایک خاموش جنگ ہوتی ہے جو انسان ہر روز خود سے لڑتا ہے— بغیر کسی کو بتائے، بغیر کسی کو دکھائے۔ لوگ کہتے ہیں وقت سب ٹھیک کر دیتا ہے، مگر کچھ چیزیں وقت کے ساتھ ٹھیک نہیں ہوتیں، وہ بس انسان کے اندر کہیں چھپ جاتی ہیں۔ اور پھر وہی چھپی ہوئی باتیں انسان کی آنکھوں کی چمک لے جاتی ہیں، اس کی ہنسی کو خاموشی میں بدل دیتی ہیں… اور وہ جیتا تو رہتا ہے، مگر صرف دنیا کے لیے— خود کے لیے نہیں 💭🖤