@faizanullahullah4: Cem Sultan (جَم سلطان) عثمانی تاریخ کے سب سے مشہور شہزادوں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ 1459ء میں پیدا ہوئے اور Mehmed II (سلطان محمد فاتح) کے بیٹے تھے۔ وہ ذہین، بہادر اور علم دوست شہزادے سمجھے جاتے تھے۔ 1481ء میں سلطان محمد فاتح کے انتقال کے بعد عثمانی تخت کے لیے جَم سلطان اور ان کے بھائی Bayezid II کے درمیان جنگ شروع ہو گئی۔ جَم سلطان نے خود کو سلطان قرار دیا، لیکن بایزید ثانی کی فوج زیادہ طاقتور ثابت ہوئی۔ شکست کے بعد جَم سلطان مصر چلے گئے، جہاں انہیں مملوک سلطنت نے پناہ دی۔ بعد میں انہوں نے دوبارہ تخت حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ آخرکار وہ یورپ چلے گئے، جہاں انہیں مختلف حکمرانوں نے سیاسی مقاصد کے لیے اپنے پاس رکھا۔ جَم سلطان نے اپنی زندگی کے تقریباً 13 سال یورپ میں قید اور نگرانی میں گزارے۔ یورپی بادشاہ اور پوپ انہیں عثمانی سلطنت پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرتے رہے۔ اگرچہ وہ ایک شہزادہ تھے، لیکن اپنے وطن اور خاندان سے دور زندگی گزارنے پر مجبور رہے۔ 1495ء میں Cem Sultan کا انتقال اٹلی میں ہوا۔ ان کی موت کے بارے میں مختلف روایات موجود ہیں؛ بعض مؤرخین بیماری کو سبب قرار دیتے ہیں جبکہ بعض زہر دیے جانے کا امکان بیان کرتے ہیں، لیکن اس کا قطعی ثبوت موجود نہیں۔ بعد میں ان کی میت عثمانی سلطنت لائی گئی اور دفن کی گئی۔ جَم سلطان کو آج بھی ایک ایسے شہزادے کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جس نے تخت کے لیے جدوجہد کی، لیکن اپنی زندگی کا بڑا حصہ جلاوطنی اور قید میں گزارا۔