@fb_65_x: انا معك ولك ومنك وأليك🫂❤#تصميم_فيديوهات🎶🎤🎬 #حب🥹🖤

حَݪۅهۃ ‍الہَِ حَي 🌻.
حَݪۅهۃ ‍الہَِ حَي 🌻.
Open In TikTok:
Region: TR
Tuesday 16 June 2026 21:05:31 GMT
18214
1422
6
375

Music

Download

Comments

user4026615440981
آثـٰـيـِـرْ :
معك ولك ومنك وإليك🫀❤️‍🩹🥀✨
2026-06-17 12:02:58
1
5czci67
مــجــهــول ℳ 505 🫦 :
2026-06-17 01:07:13
2
hanan.al.sultani
✨𝑯𝑨𝑵𝑨𝑵✨ :
🥺🥺
2026-06-17 17:20:43
1
user427397173
ALI Ali :
💔💔💔💔
2026-06-17 15:59:11
1
user1300945815631
ركـ❣ـہآوُيهـ❣❤💕 :
❤❤❤❤❤
2026-06-17 17:02:17
1
ali.alme4
Noor 🖤🖤🖤🖤🖤 :
🥺🥺🥺
2026-06-17 17:14:47
0
To see more videos from user @fb_65_x, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ترکوں نے جب مسجد نبوی ﷺ کی تعمیر کا ارادہ کیا تو اپنی وسیع سلطنت میں اعلان کیا کہ انہیں عمارت سازی کے ماہرین درکار ہیں۔ اعلان ہوتے ہی دنیا بھر سے ہر شعبے کے ماہرین نے اپنی خدمات پیش کیں۔ سلطان کے حکم سے استنبول کے باہر ایک شہر بسایا گیا تاکہ اطراف عالم سے آئے ہوئے ماہرین کو الگ الگ محلوں میں رکھا جا سکے۔ خلیفہ وقت، جو دنیا کا سب سے بڑا فرمانروا تھا، شہر میں آیا اور ہر ماہر کو تاکید کی کہ اپنے ذہین ترین بچے کو اپنے فن میں یکتا اور بےمثال بنائے۔ اس اثنا میں ترک حکومت اس بچے کو حافظ قرآن اور باعمل مسلمان بھی بناتی۔ دنیا کی تاریخ کا یہ عجیب منصوبہ تقریباً 25 سال جاری رہا۔ اس دوران نوجوانوں کی ایک جماعت تیار ہوئی، تقریباً 500 لوگ، جو نہ صرف اپنے شعبے میں ممتاز تھے بلکہ ہر ایک حافظ قرآن اور باعمل مسلمان بھی تھا۔ اسی دوران ترکوں نے کانیں دریافت کیں، لکڑیاں اور تختے حاصل کیے، شیشے کا سامان تیار کیا اور یہ سب کچھ نبی ﷺ کے شہر مدینہ منورہ پہنچایا گیا۔ اس کام کی ادبی اور عقیدتی نزاکت کا یہ عالم تھا کہ اسے رکھنے کے لیے مدینہ سے دور ایک بستی بسائی گئی تاکہ شور سے ماحول خراب نہ ہو۔ حجرہ مبارک کی حفاظت کے لیے: اگر کسی پتھر میں ترمیم کی ضرورت پڑتی تو اسے واپس بھیجا جاتا۔ ماہرین کام کے دوران باوضو رہتے، درود شریف پڑھتے اور قرآن تلاوت کرتے۔ جالیوں کو کپڑے سے لپیٹا گیا تاکہ گردوغبار روضہ مبارک میں نہ جائے۔ ستون لگائے گئے تاکہ ریاض الجنہ اور روضہ پاک پر مٹی نہ گرے۔ یہ کام پندرہ سال تک جاری رہا، اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسی عقیدت اور محبت سے کسی تعمیر کی مثال پہلے یا بعد میں نہیں ملی۔ یہ عثمانی دور میں مسجد نبوی ﷺ کی تعمیر تعمیرات کی دنیا میں محبت و عقیدت کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو عشقِ نبی ﷺ سے منور کرے۔ آمین یارب العالمین۔ ✨#malikfarrukh24
ترکوں نے جب مسجد نبوی ﷺ کی تعمیر کا ارادہ کیا تو اپنی وسیع سلطنت میں اعلان کیا کہ انہیں عمارت سازی کے ماہرین درکار ہیں۔ اعلان ہوتے ہی دنیا بھر سے ہر شعبے کے ماہرین نے اپنی خدمات پیش کیں۔ سلطان کے حکم سے استنبول کے باہر ایک شہر بسایا گیا تاکہ اطراف عالم سے آئے ہوئے ماہرین کو الگ الگ محلوں میں رکھا جا سکے۔ خلیفہ وقت، جو دنیا کا سب سے بڑا فرمانروا تھا، شہر میں آیا اور ہر ماہر کو تاکید کی کہ اپنے ذہین ترین بچے کو اپنے فن میں یکتا اور بےمثال بنائے۔ اس اثنا میں ترک حکومت اس بچے کو حافظ قرآن اور باعمل مسلمان بھی بناتی۔ دنیا کی تاریخ کا یہ عجیب منصوبہ تقریباً 25 سال جاری رہا۔ اس دوران نوجوانوں کی ایک جماعت تیار ہوئی، تقریباً 500 لوگ، جو نہ صرف اپنے شعبے میں ممتاز تھے بلکہ ہر ایک حافظ قرآن اور باعمل مسلمان بھی تھا۔ اسی دوران ترکوں نے کانیں دریافت کیں، لکڑیاں اور تختے حاصل کیے، شیشے کا سامان تیار کیا اور یہ سب کچھ نبی ﷺ کے شہر مدینہ منورہ پہنچایا گیا۔ اس کام کی ادبی اور عقیدتی نزاکت کا یہ عالم تھا کہ اسے رکھنے کے لیے مدینہ سے دور ایک بستی بسائی گئی تاکہ شور سے ماحول خراب نہ ہو۔ حجرہ مبارک کی حفاظت کے لیے: اگر کسی پتھر میں ترمیم کی ضرورت پڑتی تو اسے واپس بھیجا جاتا۔ ماہرین کام کے دوران باوضو رہتے، درود شریف پڑھتے اور قرآن تلاوت کرتے۔ جالیوں کو کپڑے سے لپیٹا گیا تاکہ گردوغبار روضہ مبارک میں نہ جائے۔ ستون لگائے گئے تاکہ ریاض الجنہ اور روضہ پاک پر مٹی نہ گرے۔ یہ کام پندرہ سال تک جاری رہا، اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسی عقیدت اور محبت سے کسی تعمیر کی مثال پہلے یا بعد میں نہیں ملی۔ یہ عثمانی دور میں مسجد نبوی ﷺ کی تعمیر تعمیرات کی دنیا میں محبت و عقیدت کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو عشقِ نبی ﷺ سے منور کرے۔ آمین یارب العالمین۔ ✨#malikfarrukh24

About