@yadjidabakh0:

yadji DABAKH♥️📿
yadji DABAKH♥️📿
Open In TikTok:
Region: SN
Tuesday 16 June 2026 22:24:57 GMT
1667
506
10
6

Music

Download

Comments

dabakhrawane
Dabakh ibn Rawhane❤️ :
رضي الله عنه ❤️
2026-06-17 03:16:00
1
oumzosy0
Oumzo Sy :
amine
2026-06-17 06:53:48
0
user1700819332783
cheikh sarr :
amine yarabi
2026-06-17 09:10:58
0
rokhayasopoudabakh
ROKHAYA83 :
amine yarabi
2026-06-17 07:53:00
1
diengmaguette232
Maguette dieng :
Amine 🤲❤️💚💚💚💚💚💚💚💚💚
2026-06-17 07:20:11
0
ndiaye..talib
Ndiaye. 🤍💯💚Talibè :
🥰🥰🥰
2026-06-17 05:20:28
0
yarouyewu
YARUYEWUYEETÉ🇸🇳✌🏾❤️ :
❤️
2026-06-16 23:04:14
0
dabakh875
D@B@KH☪️✂️ :
❤️❤️❤️
2026-06-16 22:30:07
0
footballclub098
Fans sadio mané 09❤️🇸🇳 :
❤️❤️❤️
2026-06-16 22:28:30
0
nabou4004
Nabou400 :
💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚
2026-06-17 08:44:42
0
To see more videos from user @yadjidabakh0, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

وقت کے بے رحم سمندر میں کچھ چیزیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو ڈوبتی نہیں، بلکہ نسلوں تک سفر کرتی رہتی ہیں۔ یہ پرانی رسید بھی انہی خاموش مسافروں میں سے ایک ہے۔ 14 جولائی 1962 کی صبح تھی۔ سورج کی روشنی ابھی پوری طرح بازار پر نہیں اتری تھی۔ مٹی کی گلیوں میں چلتے لوگوں کے قدم آہستہ آہستہ روزگار کی طرف بڑھ رہے تھے۔ دکانوں کے لکڑی کے شٹر کھل رہے تھے، کہیں چائے کی کیتلی چڑھ رہی تھی اور کہیں تازہ گڑ اور مصالحوں کی خوشبو فضا میں گھل رہی تھی۔ اسی بازار میں
وقت کے بے رحم سمندر میں کچھ چیزیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو ڈوبتی نہیں، بلکہ نسلوں تک سفر کرتی رہتی ہیں۔ یہ پرانی رسید بھی انہی خاموش مسافروں میں سے ایک ہے۔ 14 جولائی 1962 کی صبح تھی۔ سورج کی روشنی ابھی پوری طرح بازار پر نہیں اتری تھی۔ مٹی کی گلیوں میں چلتے لوگوں کے قدم آہستہ آہستہ روزگار کی طرف بڑھ رہے تھے۔ دکانوں کے لکڑی کے شٹر کھل رہے تھے، کہیں چائے کی کیتلی چڑھ رہی تھی اور کہیں تازہ گڑ اور مصالحوں کی خوشبو فضا میں گھل رہی تھی۔ اسی بازار میں "ماشاء اللہ کریانہ اسٹور" بھی موجود تھا۔ ایک سادہ سی دکان، مگر اپنے اندر پورے محلے کی ضروریات سمیٹے ہوئے۔ لکڑی کی الماریوں میں شکر، دالیں، چائے اور گھی کے ڈبے سجے تھے۔ ترازو کے پلڑے اعتماد کی طرح متوازن اور دکاندار کا چہرہ دیانت کی طرح روشن تھا۔ اس روز ایک گاہک آیا۔ اس نے ایک صابن، ایک کلو شکر، مختلف دالیں اور ایک کلو گھی خریدا۔ دکاندار نے احتیاط سے سامان تول کر دیا، قلم سیاہی میں ڈبویا اور یہ رسید لکھ دی۔ کل حساب بنا: دو روپے آٹھ آنے۔ آج دو روپے آٹھ آنے شاید کسی بچے کی توجہ بھی حاصل نہ کر سکیں، مگر اُس وقت یہ رقم محنت، پسینے اور قدر کی علامت تھی۔ ہر آنا اہم تھا اور ہر خریداری سوچ سمجھ کر کی جاتی تھی۔ اس دور میں نہ موبائل فون تھے، نہ سوشل میڈیا اور نہ ہی ڈیجیٹل ادائیگیاں۔ خبروں کا ذریعہ ریڈیو تھا، تعلقات کا ذریعہ ملاقات تھی اور اعتبار کا ذریعہ انسان کا کردار۔ لوگ ایک دوسرے کو نام سے جانتے تھے، دکھ سکھ میں شریک ہوتے تھے اور بازار صرف خرید و فروخت کی جگہ نہیں بلکہ رشتوں کی آماجگاہ ہوتا تھا۔ شاید اس رسید پر دستخط کرنے والے محمد یعقوب صاحب نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو کہ ان کا لکھا ہوا یہ کاغذ ایک دن تاریخ کا حصہ بن جائے گا۔ مگر آج، چھ دہائیوں بعد، یہی رسید ہمیں اُس زمانے میں لے جاتی ہے جہاں زندگی سادہ تھی، خواہشیں محدود تھیں اور دل نسبتاً مطمئن تھے۔ یہ صرف کاغذ نہیں، ایک دور کی سانس ہے۔ اس کی شکنوں میں وقت کی گرد، اس کی سیاہی میں گزرے لوگوں کی یادیں اور اس کے الفاظ میں ایک ایسی دنیا آباد ہے جو اب قصوں اور یادوں میں زندہ ہے۔ "کبھی کبھی تاریخ بڑی کتابوں میں نہیں، بلکہ ایسے زرد پڑے کاغذوں میں محفوظ ہوتی ہے جنہیں لوگ عام سمجھ کر سنبھال لیتے ہیں، اور وقت انہیں غیر معمولی بنا دیتا ہے۔" #foryoupage #fyp #foryoupageofficiall

About