@vinodedits02: ۲محرم الحرام مرثیہ نو تصنیف “پیاس“ سے چند بند پیاس پیاس قدموں میں پیاس زینے میں پیاس طُوفاں زدہ سفینے میں پیاس اک قیمتی نگینے میں پیاس پلتی ہے آب گینے میں گوہرِ آب دار پیاس بنے ایک قطرہ صدف کی پیاس بنے پیاس ترتیب کے قرینے میں پیاس صدیوں کے ہر دفینے میں پیاس لعل و گہر خزینے میں خیر کی پیاس ہے مدینے میں پیاس ادنی کو اعلی کرتی ہے پیاس جذبے سنبھالا کرتی ہے پیاس اک ارض پیاس طُول بھی ہے پیاس میں زندگی ملُول بھی ہے پیاس میں درد کا شمُول بھی ہے پیاس شرمندۂ حصول بھی ہے پیاس ہونٹوں کا زخمِ وحشت ہے پیاس دریاؤں کی ندامت ہے پیاس اکمل میں پیاس کامل میں پیاس جاہل میں پیاس عاقل میں پیاس تقدیر کے مراحل میں پیاس دریا میں، پیاس ساحل میں حرفِ کُن میں کہیں اُداسی ہے اب بھی یہ کائنات پیاسی ہے زاہد شمسی #2محرم_الحرام_😭😭😭 #السلام_عليك_يااباعبد_الله_الحسين #unfreezemyaccount