@raee.aaliyah:

®aaliyah🎞️
®aaliyah🎞️
Open In TikTok:
Region: US
Wednesday 17 June 2026 02:13:47 GMT
191
20
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @raee.aaliyah, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ہمارے معاشرے میں یہ تضاد بہت افسوسناک ہے کہ جہاں ایک طرف مہنگائی اور غربت کے باعث بنیادی ضروریاتِ زندگی تک عام آدمی کی رسائی مشکل ہو چکی ہے وہیں توہم پرستی اور لاعلمی کی وجہ سے لوگ اپنی محدود آمدنی کا بڑا حصہ نذرانوں اور پیروں فقیروں کی نذر کر دیتے ہیں۔ یہ صورتحال معاشرے میں تعلیم کی کمی اور شعور کے فقدان کی وجہ سے ہے، جس کا فائدہ اکثر نوسر باز اٹھاتے ہیں۔  غریب طبقہ بنیادی خوراک خریدنے کی استطاعت بھی کھو چکا ہے۔ لوگ معاشی تنگی کے باوجود اپنے مسائل کے حل کے لیے ایسے لوگوں پر قیمتی املاک یا جانور قربان کر دیتے ہیں جو ان کا استحصال کرتے ہیں۔  اکثر پیر یا عاملینِ بد مذہب کا غلط استعمال کر کے لوگوں کے خوف اور عقیدے کا فائدہ اٹھاتے ہیں، جس سے غریب طبقہ مزید معاشی مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔ معاشرے کا غریب طبقہ مہنگائی کی وجہ سے گوشت جیسی بنیادی غذا سے محروم ہو رہا ہے۔ اسی غریب طبقے کی معصومیت اور مجبوریوں کا فائدہ اٹھا کر جعل ساز پیر اپنا کاروبار چمکاتے ہیں۔ مذہب اور عقیدت کے نام پر غریبوں کی جمع پونجی لوٹ لی جاتی ہے۔ تعلیم کی کمی کے باعث لوگ مسائل کا حل محنت اور علم کے بجائے تعویذ دھاگوں میں ڈھونڈتے ہیں۔ جب تک معاشرے میں تنقیدی سوچ پیدا نہیں ہوگی، تب تک ایسے تضادات ختم نہیں ہو سکتے۔ یہ جملہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ جب تک ہم اپنے عقائد کو علم اور عقل پر نہیں پرکھیں گے، تب تک ہم معاشی اور ذہنی دونوں طرح کی غلامی سے نجات حاصل نہیں کر سکتے۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ تعلیم اور درست مذہبی و سماجی شعور کی کمی کس طرح غریب کو مزید معاشی بحران میں دھکیل دیتی ہے۔ #foryou #foryoupage #unfrezzmyaccount #fyppppppppppppppppppppppp #viralvideo
ہمارے معاشرے میں یہ تضاد بہت افسوسناک ہے کہ جہاں ایک طرف مہنگائی اور غربت کے باعث بنیادی ضروریاتِ زندگی تک عام آدمی کی رسائی مشکل ہو چکی ہے وہیں توہم پرستی اور لاعلمی کی وجہ سے لوگ اپنی محدود آمدنی کا بڑا حصہ نذرانوں اور پیروں فقیروں کی نذر کر دیتے ہیں۔ یہ صورتحال معاشرے میں تعلیم کی کمی اور شعور کے فقدان کی وجہ سے ہے، جس کا فائدہ اکثر نوسر باز اٹھاتے ہیں۔ غریب طبقہ بنیادی خوراک خریدنے کی استطاعت بھی کھو چکا ہے۔ لوگ معاشی تنگی کے باوجود اپنے مسائل کے حل کے لیے ایسے لوگوں پر قیمتی املاک یا جانور قربان کر دیتے ہیں جو ان کا استحصال کرتے ہیں۔ اکثر پیر یا عاملینِ بد مذہب کا غلط استعمال کر کے لوگوں کے خوف اور عقیدے کا فائدہ اٹھاتے ہیں، جس سے غریب طبقہ مزید معاشی مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔ معاشرے کا غریب طبقہ مہنگائی کی وجہ سے گوشت جیسی بنیادی غذا سے محروم ہو رہا ہے۔ اسی غریب طبقے کی معصومیت اور مجبوریوں کا فائدہ اٹھا کر جعل ساز پیر اپنا کاروبار چمکاتے ہیں۔ مذہب اور عقیدت کے نام پر غریبوں کی جمع پونجی لوٹ لی جاتی ہے۔ تعلیم کی کمی کے باعث لوگ مسائل کا حل محنت اور علم کے بجائے تعویذ دھاگوں میں ڈھونڈتے ہیں۔ جب تک معاشرے میں تنقیدی سوچ پیدا نہیں ہوگی، تب تک ایسے تضادات ختم نہیں ہو سکتے۔ یہ جملہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ جب تک ہم اپنے عقائد کو علم اور عقل پر نہیں پرکھیں گے، تب تک ہم معاشی اور ذہنی دونوں طرح کی غلامی سے نجات حاصل نہیں کر سکتے۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ تعلیم اور درست مذہبی و سماجی شعور کی کمی کس طرح غریب کو مزید معاشی بحران میں دھکیل دیتی ہے۔ #foryou #foryoupage #unfrezzmyaccount #fyppppppppppppppppppppppp #viralvideo

About