@allamayasinqadri:

Allama Yasin Qadri
Allama Yasin Qadri
Open In TikTok:
Region: PK
Wednesday 17 June 2026 02:33:59 GMT
158004
10877
327
1521

Music

Download

Comments

asad.iqbal9168
Asad.Iqbal :
میں تو بس اتنا جانتا ہوں میرے نبی نے فرمایا تمام انسانوں میں نبیوں کے بعد سب سے افضل حضرت ابوبکر صدیق ہیں بات ختم♥️
2026-06-17 12:20:40
46
alihaq014
Ya Allah Ya Muhammad Ya Ali🤲 :
جو نبی کے جنازے میں نہیں تھے انہوں نے نبی کی اولاد کے جنازے میں کس منہ سے آنا تھا
2026-06-17 12:26:04
29
dr.taj
M. B. Taj :
allama sb plz constructive bat kia krain. apka sheva h distructive speech.
2026-06-17 14:12:35
1
al.waheibi5
YALDRAM :
Allah aap ko hidayat naseeb farmayen Ameen
2026-06-17 08:27:04
24
prof..dilawar.awan
prof. Dilawar Awan :
حدیث میں یہ الفاظ ہی نہیں کہ سیدہ ناراض ہوگئیں تعلق توڑ لیا
2026-06-17 11:34:05
13
muhammad.bin.zahi6
Muhammad Bin zahid :
Allama Sahb yeh Jo kuch ap bta rh hn Kia qbr mein yeh sb kuch poocha Jae GA
2026-06-17 08:38:28
14
sham.ali582
Sham Ali :
lanat hay un per jo Umat e Muslima ko intishaar ki taraf lay kar ha rahay hein
2026-06-17 10:22:57
17
adnan2jam0
🅰️dnan🅰️ :
نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس کسی کو بھیجا اور اپنی میراث کا مطالبہ کیا آنحضور ﷺ کے اس مال سے جو آپ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ اور فدک میں عنایت فرمایا تھا اور خیبر کا جو پانچواں حصہ رہ گیا تھا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ جواب دیا کہ آنحضرت ﷺ نے خود ہی ارشاد فرمایا تھا کہ ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا ‘ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے ‘ البتہ آل محمد ﷺ اسی مال سے کھاتی رہے گی اور میں ، خدا کی قسم ! جو صدقہ حضور اکرم ﷺ چھوڑ گئے ہیں اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں کروں گا ۔ جس حال میں وہ آنحضور ﷺ کے عہد میں تھا اب بھی اسی طرح رہے گا اور اس میں ( اس کی تقسیم وغیرہ ) میں ، میں بھی وہی طرز عمل اختیار کروں گا جو آنحضور ﷺ کا اپنی زندگی میں تھا ۔ غرض ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کچھ بھی دینا منظور نہ کیا ۔ اس پر فاطمہ رضی اللہ عنہا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے خفا ہو گئیں اور ان سے ترک ملاقات کر لیا اور اس کے بعد وفات تک ان سے کوئی گفتگو نہیں کی ۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا آنحضور ﷺ کے بعد چھ مہینے تک زندہ رہیں ۔ جب ان کی وفات ہوئی تو ان کے شوہر علی رضی اللہ عنہ نے انہیں رات میں دفن کر دیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر نہیں دی اور خود ان کی نماز جنازہ پڑھ لی ۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا جب تک زندہ رہیں علی رضی اللہ عنہ پر لوگ بہت توجہ رکھتے رہے لیکن ان کی وفات کے بعد انہوں نے دیکھا کہ اب لوگوں کے منہ ان کی طرف سے پھرے ہوئے ہیں ۔ اس وقت انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے صلح کر لینا اور ان سے بیعت کر لینا چاہا ۔ اس سے پہلے چھ ماہ تک انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بیعت نہیں کی تھی پھر انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور کہلا بھیجا کہ آپ صرف تنہا آئیں اور کسی کو اپنے ساتھ نہ لائیں ان کو یہ منظور نہ تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ آئیں ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اللہ کی قسم ! آپ تنہا ان کے پاس نہ جانا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کیوں وہ میرے ساتھ کیا کریں گے میں تو خدا کی قسم ! ضرور ان کے پاس جاؤں گا ۔ آخر آپ علی رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے ۔ علی رضی اللہ عنہ نے خدا کو گواہ کیا ‘ اس کے بعد فرمایا ہمیں آپ کے فضل و کمال اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بخشا ہے ‘ سب کا ہمیں اقرار ہے جو خیر و امتیاز آپ کو اللہ تعالیٰ نے دیا تھا ہم نے اس میں کوئی ریس بھی نہیں کی لیکن آپ نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ( کہ خلافت کے معاملہ میں ہم سے کوئی مشورہ نہیں لیا ) ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اپنی قرابت کی
2026-06-17 13:40:10
5
hayat.abbasi45
Hayat Abbasi :
نبیوں کے بعد سب سے افضل جو ہیں وہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ ہیں
2026-06-17 14:36:12
4
oooooppppqqqqrrr
True Lines :
اللّٰہ آپ کو سلامت رکھے ، میری خواہش ہے کہ میں آپ سے ملاقات کروں
2026-06-17 09:40:52
13
syed.faisal.shah.b3
Syed Faisal Shah bukhari :
جیو جیو قادری یاسین صاحب مولا مولا اپ کو سلامت رکھے آمین 🥰🥰🥰
2026-06-17 09:37:45
14
waraich00920
waraich :
تِلْكَاُمّةٌ قَدْخَلَتْۚ-لَهَا مَا كَسَبَتْوَلَكُمْمّا كَسَبْتُمْۚ-وَلَا تُسْــٴَـلُوْنَعَمّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ (141) وہ ایک گروہ ہے کہ گزر گیا ان کے لئے ان کی کمائی اور تمہارے لئے تمہاری کمائی اور ان کے کاموں کی تم سے پرسش نہ ہوگی۔
2026-06-17 09:32:34
7
devilarxh
Arshman Zaidi :
Mashallah, mola salamat rkhen janab apko
2026-06-17 16:23:01
3
syedwaris71
Syed Waris :
کمنٹس میں سب علامہ بننے کے کوشش نہ کریں اپنے اپنے علاموں مفتیوں کو بولو علامہ یاسین قادری کی باتوں کا رد کریں جب وہ کہہ رہا ہے مجھ سے مناظرہ کرو تو کیوں نہیں کرتے کیوں چھپتے ہیں سامنے آئیں تاکہ سب کو پتہ چلے سچ کیا ہے
2026-06-17 15:10:26
4
mfkworld90
× F A R ح A N × :
Masla sara roti ka hai
2026-06-17 13:45:13
0
shakeelahmed7395
shakeelahmed7395 :
story man
2026-06-17 17:12:35
0
babakazmi12
BaBa gg :
good 👍 jeo
2026-06-17 12:11:36
0
zoya.kassim
Zoya Kassim :
MASHALLAH VERY WELL SAID 100%AGREE
2026-06-17 13:49:40
0
haded149
M E Z :
اس ساری بحث و تقریر کا مطلب ہر 2 یا 4 سال بعد تفریق کو ہوا دینے کے لیے کوئی کھڑا ہوجاتا ہے
2026-06-17 10:44:14
3
raza45031
Raza :
Rasool saw k wiasal k sirf 6 mah bad esa kia hoa jo. Rasool saw ki beti na rahi....? Bemar b nahi te... Yeh cheze kio ni btate ulma?????? Zulm ki inteha ha
2026-06-17 11:26:28
1
intzar.ali4819
intzar Ali :
alama sab umat ko gumrah mat Karin izan ka mutlab Hy hukam dyna
2026-06-17 08:11:42
3
syedmanawarhassain51214
syed manawar hassain :
mola ali wali allah salamat rakhe g Geo g mashaali g
2026-06-17 13:55:16
2
doc.hassan.ch
Dr Hassan Kazim® :
nabi ki miras wali hadees b parh lo janab ... k masla roti ka ha
2026-06-17 11:29:13
1
tinnu.bhai
tinnu bhai :
اس سے ابوبکرؓ کو کوئ فرق نہیں پڑتا کہ کسکا جنازہ انہوں نے پڑھایا کسکا نہیں وہ رسالتﷺ کے جانشین تھے عظیم خلیفہ تھے جہاد کے قافلے آ جا رہے تھے دسیوں کام تھے انہیں گھر میں بیٹھے تھوڑی تھے
2026-06-17 15:09:12
1
callmemudasir077
ㅤㅤᴬˢSᴇɴɪᴏʀ :
Puri hadees pardo 🥰word to word کریم ﷺ کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس کسی کو بھیجا اور اپنی میراث کا مطالبہ کیا آنحضور ﷺ کے اس مال سے جو آپ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ اور فدک میں عنایت فرمایا تھا اور خیبر کا جو پانچواں حصہ رہ گیا تھا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ جواب دیا کہ آنحضرت ﷺ نے خود ہی ارشاد فرمایا تھا کہ ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا ‘ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے ‘ البتہ آل محمد ﷺ اسی مال سے کھاتی رہے گی اور میں ، خدا کی قسم ! جو صدقہ حضور اکرم ﷺ چھوڑ گئے ہیں اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں کروں گا ۔ جس حال میں وہ آنحضور ﷺ کے عہد میں تھا اب بھی اسی طرح رہے گا اور اس میں ( اس کی تقسیم وغیرہ ) میں ، میں بھی وہی طرز عمل اختیار کروں گا جو آنحضور ﷺ کا اپنی زندگی میں تھا ۔ غرض ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کچھ بھی دینا منظور نہ کیا ۔ اس پر فاطمہ رضی اللہ عنہا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے خفا ہو گئیں اور ان سے ترک ملاقات کر لیا اور اس کے بعد وفات تک ان سے کوئی گفتگو نہیں کی ۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا آنحضور ﷺ کے بعد چھ مہینے تک زندہ رہیں ۔ جب ان کی وفات ہوئی تو ان کے شوہر علی رضی اللہ عنہ نے انہیں رات میں دفن کر دیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر نہیں دی اور خود ان کی نماز جنازہ پڑھ لی ۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا جب تک زندہ رہیں علی رضی اللہ عنہ پر لوگ بہت توجہ رکھتے رہے لیکن ان کی وفات کے بعد انہوں نے دیکھا کہ اب لوگوں کے منہ ان کی طرف سے پھرے ہوئے ہیں ۔ اس وقت انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے صلح کر لینا اور ان سے بیعت کر لینا چاہا ۔ اس سے پہلے چھ ماہ تک انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بیعت نہیں کی تھی پھر انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور کہلا بھیجا کہ آپ صرف تنہا آئیں اور کسی کو اپنے ساتھ نہ لائیں ان کو یہ منظور نہ تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ آئیں ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اللہ کی قسم ! آپ تنہا ان کے پاس نہ جانا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کیوں وہ میرے ساتھ کیا کریں گے میں تو خدا کی قسم ! ضرور ان کے پاس جاؤں گا ۔ آخر آپ علی رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے ۔ علی رضی اللہ عنہ نے خدا کو گواہ کیا ‘ اس کے بعد فرمایا ہمیں آپ کے فضل و کمال اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بخشا ہے ‘ سب کا ہمیں اقرار ہے جو خیر و امتیاز آپ کو اللہ تعالیٰ نے دیا تھا ہم نے اس میں کوئی ریس بھی نہیں کی لیکن آپ نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ( کہ خلافت کے معاملہ میں ہم سے کوئی مشورہ نہیں لیا ) ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اپنی قرابت کی وجہ سے اپنا حق سمجھتے تھے ( کہ آپ ہم سے مشورہ کرتے ) ابوبکر رضی اللہ عنہ پر ان باتوں سے گریہ طاری ہو گیا اور جب بات کرنے کے قابل ہوئے تو فرمایا اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے رسول اللہ ﷺ کی قرابت کے ساتھ صلہ رحمی مجھے اپنی قرابت سے زیادہ عزیز ہے ۔ لیکن میرے اور آپ لوگوں کے درمیان ان اموال کے سلسلے میں جو اختلاف ہوا ہے تو میں اس میں حق اور خیر سے نہیں ہٹا ہوں اور اس سلسلہ میں جو راستہ میں نے حضور اکرم ﷺ کا دیکھا خود میں نے بھی اسی کو اختیار کیا ۔ علی رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ دوپہر کے بعد میں آپ سے بیعت کروں گا ۔ چنانچہ ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر آئے اور خطبہ کے بعد علی رضی اللہ عنہ کے معاملے کا اور ان کے اب تک بیعت نہ کرنے کا ذکر کیا اور وہ عذر بھی بیان کیا جو علی رضی اللہ عنہ نے پیش کیا تھا پھر علی رضی اللہ عنہ نے استغفار اور شہادت کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حق اور ان کی بزرگی بیان کی اور فرمایا کہ جو کچھ انہوں نے کیا ہے اس کا باعث ابوبکر رضی اللہ عنہ سے حسد نہیں تھا اور نہ ان کے اس فضل و کمال کا انکار مقصود تھا جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عنایت فرمایا یہ بات ضرور تھی کہ ہم اس معاملہ خلافت میں اپنا حق سمجھتے تھے ( کہ ہم سے مشورہ لیا جاتا ) ہمارے ساتھ یہی زیادتی ہوئی تھی جس سے ہمیں رنج پہنچا ۔ مسلمان اس واقعہ پر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ آپ نے درست فرمایا ۔ جب علی رضی اللہ عنہ نے اس معاملہ میں یہ مناسب راستہ اختیار کر لیا تو مسلمان ان سے خوش ہو گئے اور علی رضی اللہ عنہ سے اور زیادہ محبت کرنے لگے جب دیکھا کہ انہوں نے اچھی بات اختیار کر لی ہے ۔
2026-06-17 12:48:27
1
To see more videos from user @allamayasinqadri, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos


About