ماشاءاللہ آپ کی بات سے میں متفق ہوں ۔
لیکن حدیث مبارکہ سے تو ( رفع الیدین) کے ساتھ بھی ثابت ہے
اور ( رفع الیدین) کے بغیر بھی ثابت ہے
تو نماز کس طریقہ سے پڑھیں
آپ کے جواب کا منتظر ہوں۔
شکریہ ۔
hafiz furqan۔
2026-07-02 12:12:56
0
Islam Dubai :
good 💯
2026-07-18 13:22:50
0
Muhammad Ashraf :
♥️♥️♥️🥰🥰🥰
2026-06-20 17:13:51
0
HUSSAIN :
1۔ نماز میں ہاتھ باندھنے کا مقام (سینے پر یا ناف کے نیچے؟)
اس مسئلے میں احادیثِ مبارکہ اور صحابہ کرام کے عمل کی روشنی میں دو بڑے اور معتبر مؤقف موجود ہیں:
ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا (احناف/حنفی مؤقف):
دلیل: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: "سنت یہ ہے کہ نماز میں ہتھیلی کو ہتھیلی پر ناف کے نیچے رکھا جائے۔" (سنن ابو داؤد: 756). پاکستان میں اکثریت (علماءِ احناف) اسی پر عمل کرتی ہے۔
سینے پر یا سینے کے قریب ہاتھ باندھنا (شوافع اور اہلحدیث مؤقف):
دلیل: حضرت وائل بن حُجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: "میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، تو آپ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر اپنے سینے پر رکھا۔" (صحیح ابنِ خزیمہ: 479).
خلاصہ: دونوں طریقے احادیث کی کتابوں سے ثابت ہیں۔ حنفی مکتبہ فکر ناف کے نیچے اور اہلحدیث و شافعی حضرات سینے پر ہاتھ باندھنے کو افضل سمجھتے ہیں۔
2۔ رفع یدین کرنا (رکوع میں جاتے اور اٹھتے وقت ہاتھ اٹھانا)
رفع یدین کے بارے میں بھی دونوں مؤقف کے پاس مضبوط دلائل موجود ہیں:
رفع یدین کرنے کے قائلین (اہلحدیث، شافعی اور حنبلی):
دلیل: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ: "رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے، رکوع میں جاتے، اور رکوع سے سر اٹھاتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے تھے (یعنی رفع یدین کرتے تھے)۔" (صحیح بخاری: 735، صحیح مسلم: 390).
رفع یدین نہ کرنے کے قائلین (احناف/حنفی):
دلیل: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (اپنے شاگردوں سے) فرمایا: "کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز نہ پڑھاؤں؟" پھر انہوں نے نماز پڑھی اور صرف پہلی مرتبہ (تکبیرِ تحریمہ کے وقت) ہاتھ اٹھائے، پھر دوبارہ (پوری نماز میں) ہاتھ نہیں اٹھائے۔ (سنن ابو داؤد: 748، سنن ترمذی: 257 - امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے).
خلاصہ: نبی پاک ﷺ سے رفع یدین کرنا بھی ثابت ہے، اور بعد میں بعض کبار صحابہ (جیسے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کے عمل سے اسے نہ کرنا بھی ثابت ہے۔ اس لیے دونوں طریقے سنت کے دائرے میں آتے ہیں۔
3۔ جماعت کے پیچھے (امام کے پیچھے) سورہ فاتحہ پڑھنا
یہ مسئلہ امت میں سب سے زیادہ زیرِ بحث رہتا ہے، اور اس میں بھی قرآن و حدیث کی روشنی میں دو واضع اور معتبر مؤقف ہیں:
امام کے پیچھے سورہ فاتحہ نہ پڑھنا (حنفی مؤقف):
قرآنی دلیل: "اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔" (سورہ الاعراف: 204).
حدیث کی دلیل: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس کا کوئی امام ہو، تو امام کی قرأت (پڑھنا) ہی اس کی قرأت ہے۔" (سنن ابنِ ماجہ: 850). یعنی اما
2026-07-08 19:28:54
0
—͟͟͞͞𖣘🇦𝑫𝑵𝑨𝑵★᭄ :
❤️❤️❤️
2026-06-17 08:35:06
2
M Numan :
💯💓💓💓
2026-06-17 07:13:37
3
qAsimjam786 :
🥰🥰🥰
2026-06-17 02:41:14
2
مقرب عباسی :
❤️❤️
2026-06-17 06:08:21
2
🥷Malik⚔️talha⚔️awan,🥷 :
❤️❤️❤️❤️
2026-06-17 02:41:42
2
Mhmd AhMad :
🥰🥰🥰
2026-06-17 02:41:39
2
🥷Malik⚔️talha⚔️awan,🥷 :
❤️❤️❤️
2026-06-17 02:41:33
2
BADSHA 💲 :
❤️❤️❤️
2026-06-17 02:41:17
2
حمدان :
❤️❤️❤️
2026-07-09 03:12:34
1
ساحر بلوچ :
🥰🥰🥰🥰🥰
2026-06-17 02:43:09
1
Usama❣️ :
😎😎😎
2026-06-17 16:56:18
1
Xtaiylish queen :
🥰🥰🥰
2026-06-17 11:37:03
1
To see more videos from user @asliislam4520, please go to the Tikwm
homepage.