@sponsoredcontent95031: You don't have to have it all worked out. With BetterHelp, therapy is just a conversation.

BetterHelp
BetterHelp
Open In TikTok:
Region: FAKE-AD
Wednesday 17 June 2026 04:16:16 GMT
75946
18
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @sponsoredcontent95031, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

بہشتی دروازے کی حقیقت  مشہور ہے کہ حضرت بابا صاحب کا وصال ہوا تو حضرت سلطان المشائخ نظام الدین اولیاء دہلی میں تھے، حضرت بابا صاحب نے وصیت فرمائی تھی میرا خرقہ، عصا، کھڑاویں اور تبرکات مولانا نظام الدین دہلی سے آئیں تو ان کو دے دینا اور وہی میری قبر بھی بنوائیں گے چنانچہ حضرت کو بطور امانت کے ایک جگہ دفن کر دیا اور جب حضرت سلطان المشائخ اجودھن(پاک پتن شریف) حاضر ہوئے تو انہوں نے حضرت کو اس جگہ دوبارہ دفن کیا جہاں آج کل مزار ہے اور اس پر ایک چھوٹا قبہ بنایا جس کے دو  دروازے رکھے ایک مشرق کی طرف اور جنوب کی طرف جنوبی دروازے کے پاس حضرت کھڑے تھے یکا یک ایک جوش اور وجد اور بے خودی کی حالت حضرت پر طاری ہوئی اور حضرت نے تالیاں بجا کر فرمایا لو دیکھو رسول اللہ تشریف لائے ہیں اور فرماتے ہیں  کہ جو اس دروازے سے داخل ہوگا امن پائے گا‘‘۔ اللّہ محمد چار یار حاجی خواجہ قطب فرید حق فرید یا فرید رح  .  پانچ محرم الحرام کو بہشتی دروازہ زہرین کے لیے بعد نماز عشاء کھولا جاتا ہے فجر کی نماز تک۔ 10 محرم الحرام تک بہشتی دروازہ  زہرین کے لیے کھولا جاتا ہے  حضرت بابا فرید کی لحد کی ایک ایک اینٹ پر قرآن پڑھوایا آج سے آٹھ صدیاں قبل دریائے ستلج اپنی تمام ترطغیانیوں کے ساتھ حضرت شیخ العالم بابا فرید مسعود گنج شکر کے بلند ٹیلے پر موجود خانقاہ کے نیچے رواں دواں تھا۔ اس ٹیلے کی بلندی آج بھی تین منزلہ ہے۔ میری گنہگار آنکھیں چشم تصور سے مبہوت ہو کر وہ منظر دیکھ رہی ہیں کہ حضرت بابا جی کے وصال کے بعد حضرت محبوب الٰہی دہلی سے اجودھن تشریف لاتے ہیں اور آپ کے جسد مبارک کو خانقاہ پر پہلے سے دفن شدہ مقام سے نکال کر موجودہ مقام پر اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتارتے ہیں خانقاہ درویشوں، مریدوں اور عقیدت مندوں سے بھری ہوئی ہے اور حضرت محبوب الٰہی تمام حفاظ کرام کو  بٹے سے نیچے ستلج کے کنارے لے جاتے ہیں اور ان سب کو اینٹیں دے دی جاتی ہیں جو ستلج کے پانی میں دھو کر اس پر مکمل قرآن پاک پڑھتے ہیں یوں مزار مبارک کی تمام اینٹوں پر ایک ایک قرآن پاک پڑھا گیا اور یہ تمام اینٹیں حضرت محبوب الٰہی نے اپنے ہاتھوں سے اور اپنے زیر نگرانی لگوائیں یہی وجہ ہے کہ آج سے آٹھ صدیوں بعد بھی آپ کے روضہ مبارک کی توسیع نہیں کی گئی کیونکہ حضرت محبوب الٰہی کے ہاتھ سے لگائی متبرک اینٹوں پر جن پر قرآن پاک پڑھا گیا ہے۔ انہیں اکھاڑنا اور بدلنا ممکن نہیں #haqfareedyafareed #ursmubarak #DarbarSharif #pakpatan
بہشتی دروازے کی حقیقت مشہور ہے کہ حضرت بابا صاحب کا وصال ہوا تو حضرت سلطان المشائخ نظام الدین اولیاء دہلی میں تھے، حضرت بابا صاحب نے وصیت فرمائی تھی میرا خرقہ، عصا، کھڑاویں اور تبرکات مولانا نظام الدین دہلی سے آئیں تو ان کو دے دینا اور وہی میری قبر بھی بنوائیں گے چنانچہ حضرت کو بطور امانت کے ایک جگہ دفن کر دیا اور جب حضرت سلطان المشائخ اجودھن(پاک پتن شریف) حاضر ہوئے تو انہوں نے حضرت کو اس جگہ دوبارہ دفن کیا جہاں آج کل مزار ہے اور اس پر ایک چھوٹا قبہ بنایا جس کے دو دروازے رکھے ایک مشرق کی طرف اور جنوب کی طرف جنوبی دروازے کے پاس حضرت کھڑے تھے یکا یک ایک جوش اور وجد اور بے خودی کی حالت حضرت پر طاری ہوئی اور حضرت نے تالیاں بجا کر فرمایا لو دیکھو رسول اللہ تشریف لائے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جو اس دروازے سے داخل ہوگا امن پائے گا‘‘۔ اللّہ محمد چار یار حاجی خواجہ قطب فرید حق فرید یا فرید رح . پانچ محرم الحرام کو بہشتی دروازہ زہرین کے لیے بعد نماز عشاء کھولا جاتا ہے فجر کی نماز تک۔ 10 محرم الحرام تک بہشتی دروازہ زہرین کے لیے کھولا جاتا ہے حضرت بابا فرید کی لحد کی ایک ایک اینٹ پر قرآن پڑھوایا آج سے آٹھ صدیاں قبل دریائے ستلج اپنی تمام ترطغیانیوں کے ساتھ حضرت شیخ العالم بابا فرید مسعود گنج شکر کے بلند ٹیلے پر موجود خانقاہ کے نیچے رواں دواں تھا۔ اس ٹیلے کی بلندی آج بھی تین منزلہ ہے۔ میری گنہگار آنکھیں چشم تصور سے مبہوت ہو کر وہ منظر دیکھ رہی ہیں کہ حضرت بابا جی کے وصال کے بعد حضرت محبوب الٰہی دہلی سے اجودھن تشریف لاتے ہیں اور آپ کے جسد مبارک کو خانقاہ پر پہلے سے دفن شدہ مقام سے نکال کر موجودہ مقام پر اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتارتے ہیں خانقاہ درویشوں، مریدوں اور عقیدت مندوں سے بھری ہوئی ہے اور حضرت محبوب الٰہی تمام حفاظ کرام کو بٹے سے نیچے ستلج کے کنارے لے جاتے ہیں اور ان سب کو اینٹیں دے دی جاتی ہیں جو ستلج کے پانی میں دھو کر اس پر مکمل قرآن پاک پڑھتے ہیں یوں مزار مبارک کی تمام اینٹوں پر ایک ایک قرآن پاک پڑھا گیا اور یہ تمام اینٹیں حضرت محبوب الٰہی نے اپنے ہاتھوں سے اور اپنے زیر نگرانی لگوائیں یہی وجہ ہے کہ آج سے آٹھ صدیوں بعد بھی آپ کے روضہ مبارک کی توسیع نہیں کی گئی کیونکہ حضرت محبوب الٰہی کے ہاتھ سے لگائی متبرک اینٹوں پر جن پر قرآن پاک پڑھا گیا ہے۔ انہیں اکھاڑنا اور بدلنا ممکن نہیں #haqfareedyafareed #ursmubarak #DarbarSharif #pakpatan

About