@code_with_imran: کینٹین کی کوئی غلطی نہیں ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ اپنی ناکام پالیسیوں کو چھپانے کے لیے کینٹین پر الزام لگا رہی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یونیورسٹی کے پاس کوئی مناسب ٹرانسپورٹ سسٹم موجود نہیں ہے، نہ ہی گاڑیوں کو اندر آنے دیا جاتا ہے۔ طلبہ کو یونیورسٹی گیٹ سے اپنے ڈیپارٹمنٹ تک شدید گرمی میں تقریباً 3 کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا ہے۔ تذیل کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ وہ یونیورسٹی گیٹ سے اپنے ڈیپارٹمنٹ تک 45 ڈگری گرمی میں تقریباً 3 کلومیٹر پیدل گیا اور جا کر پیپر دیا۔ جب وہ کلاس روم سے باہر آیا تو ڈیپارٹمنٹ میں پینے کا پانی نہ ٹھنڈا تھا اور نہ ہی صاف۔ اتنی شدید گرمی میں طلبہ آخر کہاں جائیں؟ یونیورسٹی کے کلاس رومز میں اے سی تو لگے ہوئے ہیں، لیکن ایک بھی اے سی درست طریقے سے نہیں چلتا۔ ایک کلاس روم میں 50 سے زائد طلبہ موجود ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے گرمی اور حبس ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ذمہ دار کون ہے، سوال یہ ہے کہ طلبہ کو بنیادی سہولیات کب فراہم کی جائیں گی۔ ایک معیاری تعلیمی ادارے کی ذمہ داری صرف کلاسز لینا نہیں بلکہ طلبہ کے لیے محفوظ، آرام دہ اور صحت مند ماحول مہیا کرنا بھی ہے۔ اگر یونیورسٹی انتظامیہ واقعی طلبہ کی فلاح چاہتی ہے تو اسے فوری طور پر ٹرانسپورٹ، صاف اور ٹھنڈے پانی کی فراہمی، اور کلاس رومز میں مؤثر ایئر کنڈیشننگ کے مسائل حل کرنے چاہئیں۔ طلبہ اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے یونیورسٹی آتے ہیں، نہ کہ شدید گرمی، تھکن اور بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا کرنے کے لیے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ الزامات لگانے کے بجائے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے اور ایسے اقدامات کرے جو مستقبل میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روک سکیں۔ طلبہ کی جان، صحت اور عزتِ نفس ہر ادارے کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ #fvpシ♡ #viral #iub #tikunfrezzmyaccouncount🙈🥺👉