@matricia.17:

SpiderGirl
SpiderGirl
Open In TikTok:
Region: PH
Wednesday 17 June 2026 11:06:24 GMT
2138
250
15
5

Music

Download

Comments

pugunpoop
ปู Sunun Chanphut :
2026-06-18 04:42:35
1
zosemollagas
zosemollagas :
Good morning po idol🥰
2026-06-17 22:19:57
1
paksiwharing
paksiwharing :
gwapaha ou🥰🥰🥰
2026-06-17 11:14:05
1
jeeta.brar78
Jeeta Brar :
magand na po madam
2026-06-17 11:28:46
1
ken011798
kenneth apolo :
🥰🥰🥰
2026-06-17 11:48:49
1
astig4815
astig :
🥰🥰🥰
2026-06-17 11:10:02
1
lapaz_del_reymago
Martín Melchor :
💕💕💕
2026-06-17 11:28:48
1
jerick.autor0
Jerick Autor :
🥰🥰🥰
2026-06-18 00:30:47
1
jamaliaabang
jamal :
❤️❤️❤️
2026-06-17 12:16:27
1
noelnuyda102
Noel Nuyda102 :
🥰🥰🥰🥰
2026-06-17 12:25:34
1
reborn.rn
REBORN⚜RN :
🥰🥰🥰
2026-06-17 11:26:21
1
josellcalderon21
jojo21 calderon :
🥰🥰🥰
2026-06-17 11:51:37
0
1987mdh
Md H :
😋😋😋😋😋
2026-06-17 11:07:21
1
ledifgigante
¥wildog¥ :
🥰🥰🥰
2026-06-18 11:22:46
1
To see more videos from user @matricia.17, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

خانہ کعبہ کی چابیاں سعودی شاہی خاندان کے پاس کیوں نہیں رکھی جاتیں؟ حالانکہ سعودی فرماں روا کو خادم الحرمین الشریفین کہا جاتا ہے، لیکن درحقیقت اگر انہیں بھی کعبہ کے اندر جانا ہو تو دروازہ کھولنے کے لیے چابیاں ان کے پاس نہیں ہوتیں۔ یہ چابیاں صدیوں سے 'شیبی خاندان' کے پاس ہیں، اور اس کے پیچھے ایک ایسی معجزاتی کہانی ہے جسے سن کر آپ کا بھی ایمان تازہ ہو جائے گا۔ دراصل بیت اللہ کی چابیاں اس خاندان کے پاس اس لیے چلی آ رہی ہیں کہ خود اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے ان کا انتخاب کیا تھا۔ بات 8 ہجری کی ہے، جب مکہ فتح ہو چکا تھا۔ چاروں طرف مسلمانوں کا غلبہ تھا، ایسے میں نبی کریم ﷺ نے خانہ کعبہ میں داخل ہونے کی خواہش ظاہر کی، لیکن کعبہ کے بھاری لکڑی کے دروازوں پر ایک بڑا سا تالا پڑا تھا۔ معلوم ہوا کہ صدیوں سے یہ خاندانی چابی عثمان ابن طلحہٰ کے پاس ہے، جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اور مسلمانوں کے خوف سے خانہ کعبہ کی چھت پر چھپے بیٹھے تھے۔ انہوں نے کعبے کی وہ چابی اپنے سینے سے دبا کر رکھی ہوئی تھی کہ آج جان بے شک چلی جائے، پر میرے آباؤ اجداد کی یہ امانت مجھ سے نہ چھنے۔ نبی کریم ﷺ کے حکم پر حضرت علی ؓ چھت پر پہنچے۔ عثمان ابن طلحہٰ نے ڈرتے ڈرتے چابی دینے سے انکار کر دیا۔ مگر فاتحین کا دن تھا، حضرت علی ؓ نے آگے بڑھ کر وہ چابی ان سے چھین لی، نیچے آکر قفل کھولا اور رسول اللہ ﷺ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے۔ عثمان چھت پر بیٹھے آنسو بہا رہے تھے کہ آج ان کی صدیوں کی خاندانی عزت خاک میں مل گئی۔ ابھی رسول اللہ ﷺ کعبہ کے اندر نوافل ادا ہی کر رہے تھے کہ اچانک فضا کا رنگ بدلا۔ حضرت جبریل ؑ اللہ کا پیغام لے کر سیدھے کعبہ کے اندر نازل ہوئے۔ اسی وقت قرآن کی آیت نازل ہوئی:
خانہ کعبہ کی چابیاں سعودی شاہی خاندان کے پاس کیوں نہیں رکھی جاتیں؟ حالانکہ سعودی فرماں روا کو خادم الحرمین الشریفین کہا جاتا ہے، لیکن درحقیقت اگر انہیں بھی کعبہ کے اندر جانا ہو تو دروازہ کھولنے کے لیے چابیاں ان کے پاس نہیں ہوتیں۔ یہ چابیاں صدیوں سے 'شیبی خاندان' کے پاس ہیں، اور اس کے پیچھے ایک ایسی معجزاتی کہانی ہے جسے سن کر آپ کا بھی ایمان تازہ ہو جائے گا۔ دراصل بیت اللہ کی چابیاں اس خاندان کے پاس اس لیے چلی آ رہی ہیں کہ خود اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے ان کا انتخاب کیا تھا۔ بات 8 ہجری کی ہے، جب مکہ فتح ہو چکا تھا۔ چاروں طرف مسلمانوں کا غلبہ تھا، ایسے میں نبی کریم ﷺ نے خانہ کعبہ میں داخل ہونے کی خواہش ظاہر کی، لیکن کعبہ کے بھاری لکڑی کے دروازوں پر ایک بڑا سا تالا پڑا تھا۔ معلوم ہوا کہ صدیوں سے یہ خاندانی چابی عثمان ابن طلحہٰ کے پاس ہے، جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اور مسلمانوں کے خوف سے خانہ کعبہ کی چھت پر چھپے بیٹھے تھے۔ انہوں نے کعبے کی وہ چابی اپنے سینے سے دبا کر رکھی ہوئی تھی کہ آج جان بے شک چلی جائے، پر میرے آباؤ اجداد کی یہ امانت مجھ سے نہ چھنے۔ نبی کریم ﷺ کے حکم پر حضرت علی ؓ چھت پر پہنچے۔ عثمان ابن طلحہٰ نے ڈرتے ڈرتے چابی دینے سے انکار کر دیا۔ مگر فاتحین کا دن تھا، حضرت علی ؓ نے آگے بڑھ کر وہ چابی ان سے چھین لی، نیچے آکر قفل کھولا اور رسول اللہ ﷺ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے۔ عثمان چھت پر بیٹھے آنسو بہا رہے تھے کہ آج ان کی صدیوں کی خاندانی عزت خاک میں مل گئی۔ ابھی رسول اللہ ﷺ کعبہ کے اندر نوافل ادا ہی کر رہے تھے کہ اچانک فضا کا رنگ بدلا۔ حضرت جبریل ؑ اللہ کا پیغام لے کر سیدھے کعبہ کے اندر نازل ہوئے۔ اسی وقت قرآن کی آیت نازل ہوئی: "بے شک اللہ آپ کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں امانت والوں کو پہنچا دو..." اللہ کی طرف سے یہ واضح اشارہ تھا کہ چاہے وہ شخص غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو، لیکن چابی اس کی جائز امانت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فوراً حضرت علی ؓ کو حکم دیا کہ جاؤ، عثمان کو چابی واپس کرو اور درشتی سے چابی چھیننے پر اس سے معافی مانگو! عثمان ابن طلحہٰ چھت پر سمٹے بیٹھے موت کا انتظار کر رہے تھے کہ اچانک حضرت علی ؓ ان کے سامنے آئے، اپنا سر جھکایا، چابی ان کی طرف بڑھائی اور فرمایا: "مجھے معاف کر دو عثمان، میرے رب نے آسمان سے تمہارے حق میں فیصلہ اتار دیا ہے۔" ایک عظیم الشان فاتح کی یہ عاجزی دیکھ کر عثمان ششدر رہ گئے۔ ان کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے اور زبان سے بے اختیار نکلا: "میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں!" عثمان ابن طلحہٰ کے کلمہ پڑھتے ہی جبریل ؑ دوبارہ آئے اور وہ بشارت دی جس نے تاریخ بدل دی: "آج کے بعد تاقیامت خانہ کعبہ کی چابیاں عثمان ابن طلحہٰ کے خاندان کے پاس رہیں گی، اور ظالم کے سوا کوئی ان سے یہ چابیاں نہیں چھینے گا۔" یہ اسی معجزاتی دن کا فیصلہ ہے کہ آج 1400 سال گزرنے کے بعد بھی دنیا کے طاقتور ترین بادشاہ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، لیکن اللہ کے اس وعدے کے مطابق کعبے کی چابیاں آج بھی اسی خاندان کے پاس موجود ہیں۔

About