@sseannjn: #jeno #leejeno

ian
ian
Open In TikTok:
Region: ID
Wednesday 17 June 2026 15:11:45 GMT
17709
5372
13
250

Music

Download

Comments

jeno0olee._
jenbul :
kl wamil jd gapura negara ini mah😭
2026-06-18 07:04:40
64
likeualotlii
kaell :
gapura gbk kakk😭😭😭😭
2026-06-17 22:55:15
47
howdaraeyou
Dara :
aduh mas, kok mantep?
2026-06-18 00:14:40
7
jenoooo__leee
Jenolee :
BOJO KU.
2026-06-18 10:48:13
3
ulpah7049
Ulpah :
apa ini kok ganteng sih mas jeno
2026-06-18 05:35:54
2
fpsikologi
caw :
papahhh waktunya bayar ukt pahhhh
2026-06-19 06:23:47
0
jenowie_
ljn23 :
🤤🤤🤤
2026-06-18 01:49:46
2
To see more videos from user @sseannjn, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

مير انيس کا یہ کلام کربلا کے مصائب اور مدینے میں تڑپتی ہوئی بہن، شہزادی فاطمہ صغریٰ علیہا السلام کی حسرتوں کا وہ نوحہ ہے جو پتھر دل انسان کو بھی رولا دے۔ کربلا کے تپتے ہوئے میدان میں جہاں ہر طرف لاشیں بکھری پڑی تھیں، وہاں ایک مظلوم باپ اپنے جوان بیٹے کے لاشے پر کھڑا ہے اور اس کے ہاتھ میں مدینے سے آئی ہوئی بیمار بہن کا وہ خط ہے جو اب ایک الوداعی بین بن چکا ہے۔ اس لرزہ خیز اور غمگین منظر کو اس پیراگراف میں یوں محسوس کیا جا سکتا ہے: --- جب امام حسین علیہ السلام اپنے نازوں پلے جوان بیٹے، شہزادہ علی اکبر کے لاشے پر پہنچے، تو اسی دوران مدینے سے آئی ہوئی صغریٰ کا وہ خط کھولا گیا جو انہوں نے اپنے بھائی کے نام لکھا تھا۔ اس خط کا آغاز ہی اس دعا اور تمنا سے ہوا تھا کہ **
مير انيس کا یہ کلام کربلا کے مصائب اور مدینے میں تڑپتی ہوئی بہن، شہزادی فاطمہ صغریٰ علیہا السلام کی حسرتوں کا وہ نوحہ ہے جو پتھر دل انسان کو بھی رولا دے۔ کربلا کے تپتے ہوئے میدان میں جہاں ہر طرف لاشیں بکھری پڑی تھیں، وہاں ایک مظلوم باپ اپنے جوان بیٹے کے لاشے پر کھڑا ہے اور اس کے ہاتھ میں مدینے سے آئی ہوئی بیمار بہن کا وہ خط ہے جو اب ایک الوداعی بین بن چکا ہے۔ اس لرزہ خیز اور غمگین منظر کو اس پیراگراف میں یوں محسوس کیا جا سکتا ہے: --- جب امام حسین علیہ السلام اپنے نازوں پلے جوان بیٹے، شہزادہ علی اکبر کے لاشے پر پہنچے، تو اسی دوران مدینے سے آئی ہوئی صغریٰ کا وہ خط کھولا گیا جو انہوں نے اپنے بھائی کے نام لکھا تھا۔ اس خط کا آغاز ہی اس دعا اور تمنا سے ہوا تھا کہ **"پہلے پہل لکھا تھا میرے اکبر کی خیر ہو"**۔ ایک بیمار بہن، جو مدینے کے سنسان گھر میں اپنے بھائی کی راہ تکتے تکتے ادھ موئی ہو چکی تھی، اسے کیا معلوم تھا کہ جس بھائی کی سلامتی کے لیے وہ دعائیں لکھ رہی ہے، اس کا سینہ برچھی کے پھل سے چھلنی ہو چکا ہے اور وہ دنیا سے رخصت ہو چکا ہے۔ جب امامِ مظلوم نے علی اکبر کی بے گور و کفن لاش پر صغریٰ کے یہ الفاظ پڑھے ہوں گے، تو ان کے دل پر کیا گزری ہوگی! ایک طرف جوان بیٹے کا لاشہ تھا اور دوسری طرف دور وطن میں بیٹھی بہن کی وہ تڑپتی ہوئی امیدیں جو اب خاک میں مل چکی تھیں۔ یہ سطر اس ابدی اور تڑپا دینے والے خاندانی درد کی عکاسی کرتی ہے، جہاں بہن کی دعائیں اور بھائی کی زندگی کا سفر کربلا کی ریت پر ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔ #fyp #foryou #foryoupage #viral #trending

About