@kiran_wriite: کچھ لوگ بیماری سے نہیں مرتے... وہ روز تھوڑا تھوڑا اپنی ہی سوچوں میں بکھرتے رہتے ہیں۔ اضطراب ایک ایسی خاموش جنگ ہے جو باہر سے نظر نہیں آتی، مگر اندر انسان کو آہستہ آہستہ کھوکھلا کر دیتی ہے۔ ہر لمحہ ایک نئی فکر ہر رات ایک نئی بے چینی اور ہر دن خود سے ایک نئی لڑائی۔ لوگ مسکراتا ہوا چہرہ دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ سب ٹھیک ہے، مگر حقیقت یہ ہوتی ہے کہ دل کے اندر شور برپا ہوتا ہے۔ اضطراب جسم کو نہیں روح کو تھکا دیتا ہے؛ اور بعض اوقات انسان دوسروں سے نہیں بلکہ اپنی ہی سوچوں کے ہجوم میں گم ہو جاتا ہے۔ پھر بھی جو لوگ اس خاموش جنگ کو جیتنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، وہی اصل میں سب سے زیادہ بہادر ہوتے ہیں۔ ✍️