اگر انسانوں پر گزرنے والی کیفیت ان کے دل کے بجائے ماتھے پر لکھی ہوتی، تو تم جن سے حسد کرتے ہو ان پر تمہیں رحم آتا۔
ہم اکثر لوگوں کی زندگی کا وہ حصہ دیکھتے ہیں جو دنیا کو دکھایا جاتا ہے؛ مسکراتے چہرے، کامیابیاں، آسائشیں اور خوشیوں کے چند لمحے۔ مگر ان کے دلوں میں چھپے زخم، خاموش راتوں کے آنسو، ٹوٹے ہوئے خواب اور بے شمار آزمائشیں ہماری نظروں سے اوجھل رہتی ہیں۔ اسی لیے ہم بعض اوقات کسی کی ظاہری چمک کو دیکھ کر اس سے حسد کرنے لگتے ہیں، حالانکہ اگر اس کے دل کی ساری کہانی ہمارے سامنے آ جائے تو شاید حسد کی جگہ ہمدردی لے لے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کسی نہ کسی جنگ میں مصروف ہے۔ کوئی اپنے رشتوں کے درد سے لڑ رہا ہے، کوئی محرومیوں سے، کوئی تنہائی سے اور کوئی ان زخموں سے جن کا ذکر وہ کسی سے نہیں کرتا۔ اسلام بھی ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ دوسروں کی نعمتوں پر نظر رکھنے کے بجائے اپنے رب کے فیصلوں پر راضی رہو، کیونکہ اللہ ہر دل کا حال جانتا ہے۔ ممکن ہے جس زندگی کو تم آسان سمجھ رہے ہو، وہ اپنے اندر ایسی آزمائشیں لیے ہوئے ہو جنہیں تم ایک دن بھی برداشت نہ کر سکو۔ اس لیے حسد کے بجائے دعا کرو، کیونکہ اکثر جن لوگوں سے ہم حسد کرتے ہیں، وہ اندر سے رحم کے زیادہ مستحق ہوتے ہیں۔ 🌿✨🥀