@user779770194026: حضرت شماس بن عثمان مخزومی قریشی رضی اللہ عنہ اسلام کے ابتدائی دور کے جلیل القدر مہاجر صحابی رسولﷺ تھے، جنہوں نے غزوہ بدر اور غزوہ احد میں شرکت کی اور غزوہ احد میں رسول اللہ ﷺ کا دفاع کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا. ان کا اصل نام عثمان تھا، جبکہ "شَمَّاس" ان کا لقب تھا، ان کا تعلق قریش کی مشہور شاخ بنو مخزوم سے تھا۔ وہ مکہ مکرمہ میں اسلام کے بالکل ابتدائی دور میں مشرف بہ اسلام ہوئے،3 ہجری میں غزوہ احد کے دوران جب مشرکین نے نبی کریم ﷺ پر چاروں طرف سے تیروں اور تلواروں کی بوچھاڑ کر دی، تو حضرت شماسؓ رسول اللہ ﷺ کے لیے ایک مضبوط ڈھال بن گئے۔ آپ ﷺ جس طرف بھی دیکھتے، حضرت شماسؓ وہاں تلوار چلاتے نظر آتے، انہوں نے اپنے جسم کو رسول اللہ ﷺ کے آگے پیش کر دیا اور دشمن کے وار اپنے سینے پر روکے۔ احد کے میدان میں شدید زخمی ہونے کے بعد انہیں مدینہ منورہ لایا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ اسلامی تاریخ، سیرت کی مستند کتابوں (جیسے الطبقات الکبریٰ) اور صحیح احادیث کے مطابق حضرت شماس بن عثمان رضی اللہ عنہ کو نبی کریم ﷺ کے حکم پر احد کے میدان میں ان کے اسی خون آلود لباس سمیت بغیر غسل و کفن کے دفن کیا گیا تھا۔ کیونکہ شہید کا خون اور زخم ہی اس کے لیے گواہ ہوتے ہیں،تاہم، نبی کریم ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں شہدائے احد کے پاس جا کر ان کے لیے خصوصی دعائیں فرمائی تھیں۔ فرمانِ رسول ﷺ: رسول اللہ ﷺ نے خود ان کی جاں نثاری کی گواہی دیتے ہوئے فرمایا "میں احد کے دن دائیں یا بائیں جس طرف بھی دیکھتا تھا، شماس بن عثمان کو اپنی حفاظت کے لیے تلوار چلاتے ہوئے پاتا تھا"۔ آپ ﷺ نے ان کو اپنے لیے ایک بہترین "ڈھال" قرار دیا۔
میری آپ سے گذارش ہے کہ
🌹🌹🌹منہ میٹھا کیجیے آقا دو جہاںﷺتاجدارِ مدینہ ﷺ نور قلب و سینہﷺ احمد مجتبیٰﷺ محترم محمد مصطفیٰﷺکی بارگاہ اقدس میں درود و سلام کا تحفہ ضرور پیش کریں*
*✨:اَلصّلٰوۃُوَالسّلَامُ،عَلَیْکَ,یَاسَیّدِیْ,یَارَسُوْلَ،اللہﷺ*
*اَلصّلٰوۃُوَالسّلَامُ،عَلَیْکَ،یَاسَیّدِیْ،یَاحَبيبَ❤️اللہﷺ*
❤️محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا کثیرا ❤