@awias0090: واہ پاکستانیوں واہ! آج مردان کے ایک مجبور باپ نے بجلی کا بل ادا کرنے کے لیے اپنی دو سالہ معصوم بیٹی کے کانوں سے وہ بالیاں اتار لیں جو اسے پیدائش کے وقت اس کی نانی نے محبت اور دعا کے ساتھ پہنائی تھیں۔ سوچئے، وہ لمحہ کتنا اذیت ناک ہوگا جب ایک باپ اپنی کلی جیسی بچی کے کانوں سے بالیاں نکال رہا ہوگا، بچی حیرت سے اپنے والد کو دیکھ رہی ہوگی، ماں ایک کونے میں بیٹھ کر آنسو بہا رہی ہوگی، اور غربت ان کے گھر کی دیواروں پر ماتم کر رہی ہوگی۔ یہ صرف ایک باپ کی بے بسی نہیں، یہ پورے نظام کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے۔ ایک طرف حکمرانوں کے لمبے لمبے پروٹوکول، درجنوں گاڑیاں، سرکاری خزانے سے عیاشیاں، مفت بجلی، مفت پٹرول اور شاہانہ اخراجات ہیں، جبکہ دوسری طرف ایک غریب باپ اپنی بیٹی کی نشانی بیچ کر بجلی کا بل ادا کرنے پر مجبور ہے۔ یہ کیسا انصاف ہے کہ غریب روز بروز غریب تر ہوتا جا رہا ہے اور امیر روز بروز امیر تر؟ یہ کیسا نظام ہے جہاں سرکاری دفاتر میں بجلی دن رات جلتی رہتی ہے، سرکاری وسائل ذاتی استعمال میں لائے جاتے ہیں، مگر ایک مزدور کے گھر کا میٹر بل کی ادائیگی نہ ہونے پر کاٹ دیا جاتا ہے؟ واپڈا کے ظالمانہ بلوں نے غریب آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔ ایک مزدور، ایک کسان، ایک دیہاڑی دار آخر کہاں جائے؟ اپنے بچوں کا پیٹ پالے، گھر کا کرایہ دے یا بجلی کے بل ادا کرے؟ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم خاموش ہیں۔ یاد رکھیں! ظلم کرنے والا ہی نہیں، ظلم پر خاموش رہنے والا بھی جرم میں برابر کا شریک ہوتا ہے۔ اگر آج ایک بچی کی بالیاں بکی ہیں تو کل کسی کے گھر کا آخری برتن، کسی ماں کا زیور اور کسی باپ کی عزت بھی بک سکتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ عوام کے مسائل پر آواز بلند کی جائے، غریب کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا جائے، اور اس ظالمانہ معاشی نظام کے خلاف کھڑا ہوا جائے۔ اللہ تعالیٰ اس معصوم بچی کے نصیب روشن فرمائے، اس مجبور باپ کی پریشانیاں دور فرمائے، اور اس ملک کے حکمرانوں کو عوام کا درد محسوس کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ چیئرمین تحریک گجر قومی حقوق پاکستان ملک پائندہ خان کھٹانہ نواس نواس