"قسطنطنیہ ضرور فتح ہو گا۔ اسے فتح کرنے والا امیر کتنا اچھا امیر ہے، اور اس کی فوج کتنی اچھی فوج ہے" یہ حدیث ان کے دل میں آگ کی طرح لگی ہوئی تھی۔ ان کے استاد آق شمس الدین نے بچپن سے یہ بات ان کے ذہن میں بٹھائی تھی۔ 12 سال کی عمر میں جب وہ پہلی بار 6 مہینے کے لیے تخت پر بیٹھے تو بھی یہی خواب دیکھا۔ 2۔ شہرت والا خواب – "قیصرِ روم" محمد فاتح صرف "سلطان" نہیں بننا چاہتے تھے، وہ "قیصرِ روم" بننا چاہتے تھے۔ یعنی رومی سلطنت کے وارث۔ ان کا پلان تھا: 1. *قسطنطنیہ* = پرانے روم کا دارالحکومت تھا۔ اسے لے کر وہ خود کو رومی سلطنت کا جائز وارث ثابت کریں گے 2. *دو براعظموں کا بادشاہ*: ایشیا میں اناطولیہ + یورپ میں بلقان۔ قسطنطنیہ دونوں کے بیچوں بیچ ہے۔ اس کے بغیر سلطنت ادھوری تھی 3. *بازنطینیوں کی دھمکی ختم*: شہزادہ اورخان چلبی بازنطینیوں کے پاس قیدی تھا۔ وہ جب چاہتے اورخان کو تخت پر بٹھا کر عثمانیوں میں خانہ جنگی کروا سکتے تھے۔ قسطنطنیہ گرا تو یہ خطرہ ہمیشہ کے لیے ختم 3۔ خواب کی تیاری – 7 سال کی پلاننگ محمد فاتح نے 1451 میں تخت سنبھالا، 1453 میں قسطنطنیہ فتح کیا۔ ان 2 سالوں میں انہوں نے: 1. *رومی حصار 1452*: قسطنطنیہ کے سامنے قلعہ بنا کر باسفورس بند کر دیا۔ مطلب "اب واپسی نہیں" 2. *شاہی توپ*: اربن سے دنیا کی سب سے بڑی توپ بنوائی۔ 1000 سالہ دیوار گرانے کے لیے 3. *جاسوس نیٹ ورک*: شہر کے اندر پتہ کروایا کہاں دیوار کمزور ہے، کتنا راشن ہے 4. *فوج کا جذبہ*: ہر روز علماء، درویش، سپاہیوں کو جمع کر کے حدیث سناتے تھے۔ پورے لشکر کو یقین دلا دیا کہ "ہم ہی وہ فوج ہیں" 4۔ 28 مئی 1453 کی رات – آخری خواب محاصرے کے 52 دن گزر چکے تھے۔ فوج تھک چکی تھی۔ اس رات محمد فاتح نے پورے خیمے میں چراغ جلوا کر خطبہ دیا: > "اے میرے سپاہیو! یا تو آج ہم قسطنطنیہ میں نماز پڑھیں گے، یا قسطنطنیہ ہم پر نماز پڑھے گا۔ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں، جو پہلا سپاہی دیوار پر جھنڈا گاڑے گا، اسے سونے سے تول دوں گا" پھر وہ خود رو پڑے۔ کہنے لگے "میرے دادا بایزید اول ہار گئے تھے، میرے باپ مراد ثانی نے بھی کوش کی تھی۔ آج اللہ نے یہ سعادت میرے نصیب میں لکھی ہے" 5۔ خواب کی تعبیر 29 مئی صبح فجر کے بعد حملہ ہوا۔ عثمانی دیوار پر چڑھ گئے۔ دوپہر تک شہنشاہ قسطنطین مارا گیا۔ عصر تک شہر فتح ہو گیا۔ محمد فاتح گھوڑے پر سوار ہو کر آیا صوفیہ میں داخل ہوئے۔ مہراب کی طرف رخ کر کے سجدہ کیا۔ 21 سال کے نوجوان نے 1600 سال پرانی سلطنت کا تختہ الٹ دیا۔ *خلاصہ*: محمد فاتح کا خواب صرف "زمین" نہیں تھا۔ وہ "تاریخ" بدلنا چاہتے تھے۔ وہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ عثمانی صرف سرحدی قبیلہ نہیں، وہ رومی سلطنت کے اصل وارث ہیں۔ اور حدیث سچ ہے۔ اسی لیے آج بھی ترک بچے بچے کو "فتحِ استنبول" یاد کروایا جاتا ہے۔ آپ کو لگتا ہے اگر محمد فاتح قسطنطنیہ نہ فتح کرتے تو عثمانی سلطنت اتنی بڑی بن پاتی؟ - @mehmet.fathe2"/> "قسطنطنیہ ضرور فتح ہو گا۔ اسے فتح کرنے والا امیر کتنا اچھا امیر ہے، اور اس کی فوج کتنی اچھی فوج ہے" یہ حدیث ان کے دل میں آگ کی طرح لگی ہوئی تھی۔ ان کے استاد آق شمس الدین نے بچپن سے یہ بات ان کے ذہن میں بٹھائی تھی۔ 12 سال کی عمر میں جب وہ پہلی بار 6 مہینے کے لیے تخت پر بیٹھے تو بھی یہی خواب دیکھا۔ 2۔ شہرت والا خواب – "قیصرِ روم" محمد فاتح صرف "سلطان" نہیں بننا چاہتے تھے، وہ "قیصرِ روم" بننا چاہتے تھے۔ یعنی رومی سلطنت کے وارث۔ ان کا پلان تھا: 1. *قسطنطنیہ* = پرانے روم کا دارالحکومت تھا۔ اسے لے کر وہ خود کو رومی سلطنت کا جائز وارث ثابت کریں گے 2. *دو براعظموں کا بادشاہ*: ایشیا میں اناطولیہ + یورپ میں بلقان۔ قسطنطنیہ دونوں کے بیچوں بیچ ہے۔ اس کے بغیر سلطنت ادھوری تھی 3. *بازنطینیوں کی دھمکی ختم*: شہزادہ اورخان چلبی بازنطینیوں کے پاس قیدی تھا۔ وہ جب چاہتے اورخان کو تخت پر بٹھا کر عثمانیوں میں خانہ جنگی کروا سکتے تھے۔ قسطنطنیہ گرا تو یہ خطرہ ہمیشہ کے لیے ختم 3۔ خواب کی تیاری – 7 سال کی پلاننگ محمد فاتح نے 1451 میں تخت سنبھالا، 1453 میں قسطنطنیہ فتح کیا۔ ان 2 سالوں میں انہوں نے: 1. *رومی حصار 1452*: قسطنطنیہ کے سامنے قلعہ بنا کر باسفورس بند کر دیا۔ مطلب "اب واپسی نہیں" 2. *شاہی توپ*: اربن سے دنیا کی سب سے بڑی توپ بنوائی۔ 1000 سالہ دیوار گرانے کے لیے 3. *جاسوس نیٹ ورک*: شہر کے اندر پتہ کروایا کہاں دیوار کمزور ہے، کتنا راشن ہے 4. *فوج کا جذبہ*: ہر روز علماء، درویش، سپاہیوں کو جمع کر کے حدیث سناتے تھے۔ پورے لشکر کو یقین دلا دیا کہ "ہم ہی وہ فوج ہیں" 4۔ 28 مئی 1453 کی رات – آخری خواب محاصرے کے 52 دن گزر چکے تھے۔ فوج تھک چکی تھی۔ اس رات محمد فاتح نے پورے خیمے میں چراغ جلوا کر خطبہ دیا: > "اے میرے سپاہیو! یا تو آج ہم قسطنطنیہ میں نماز پڑھیں گے، یا قسطنطنیہ ہم پر نماز پڑھے گا۔ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں، جو پہلا سپاہی دیوار پر جھنڈا گاڑے گا، اسے سونے سے تول دوں گا" پھر وہ خود رو پڑے۔ کہنے لگے "میرے دادا بایزید اول ہار گئے تھے، میرے باپ مراد ثانی نے بھی کوش کی تھی۔ آج اللہ نے یہ سعادت میرے نصیب میں لکھی ہے" 5۔ خواب کی تعبیر 29 مئی صبح فجر کے بعد حملہ ہوا۔ عثمانی دیوار پر چڑھ گئے۔ دوپہر تک شہنشاہ قسطنطین مارا گیا۔ عصر تک شہر فتح ہو گیا۔ محمد فاتح گھوڑے پر سوار ہو کر آیا صوفیہ میں داخل ہوئے۔ مہراب کی طرف رخ کر کے سجدہ کیا۔ 21 سال کے نوجوان نے 1600 سال پرانی سلطنت کا تختہ الٹ دیا۔ *خلاصہ*: محمد فاتح کا خواب صرف "زمین" نہیں تھا۔ وہ "تاریخ" بدلنا چاہتے تھے۔ وہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ عثمانی صرف سرحدی قبیلہ نہیں، وہ رومی سلطنت کے اصل وارث ہیں۔ اور حدیث سچ ہے۔ اسی لیے آج بھی ترک بچے بچے کو "فتحِ استنبول" یاد کروایا جاتا ہے۔ آپ کو لگتا ہے اگر محمد فاتح قسطنطنیہ نہ فتح کرتے تو عثمانی سلطنت اتنی بڑی بن پاتی؟ - @mehmet.fathe2 - Tikwm"/> "قسطنطنیہ ضرور فتح ہو گا۔ اسے فتح کرنے والا امیر کتنا اچھا امیر ہے، اور اس کی فوج کتنی اچھی فوج ہے" یہ حدیث ان کے دل میں آگ کی طرح لگی ہوئی تھی۔ ان کے استاد آق شمس الدین نے بچپن سے یہ بات ان کے ذہن میں بٹھائی تھی۔ 12 سال کی عمر میں جب وہ پہلی بار 6 مہینے کے لیے تخت پر بیٹھے تو بھی یہی خواب دیکھا۔ 2۔ شہرت والا خواب – "قیصرِ روم" محمد فاتح صرف "سلطان" نہیں بننا چاہتے تھے، وہ "قیصرِ روم" بننا چاہتے تھے۔ یعنی رومی سلطنت کے وارث۔ ان کا پلان تھا: 1. *قسطنطنیہ* = پرانے روم کا دارالحکومت تھا۔ اسے لے کر وہ خود کو رومی سلطنت کا جائز وارث ثابت کریں گے 2. *دو براعظموں کا بادشاہ*: ایشیا میں اناطولیہ + یورپ میں بلقان۔ قسطنطنیہ دونوں کے بیچوں بیچ ہے۔ اس کے بغیر سلطنت ادھوری تھی 3. *بازنطینیوں کی دھمکی ختم*: شہزادہ اورخان چلبی بازنطینیوں کے پاس قیدی تھا۔ وہ جب چاہتے اورخان کو تخت پر بٹھا کر عثمانیوں میں خانہ جنگی کروا سکتے تھے۔ قسطنطنیہ گرا تو یہ خطرہ ہمیشہ کے لیے ختم 3۔ خواب کی تیاری – 7 سال کی پلاننگ محمد فاتح نے 1451 میں تخت سنبھالا، 1453 میں قسطنطنیہ فتح کیا۔ ان 2 سالوں میں انہوں نے: 1. *رومی حصار 1452*: قسطنطنیہ کے سامنے قلعہ بنا کر باسفورس بند کر دیا۔ مطلب "اب واپسی نہیں" 2. *شاہی توپ*: اربن سے دنیا کی سب سے بڑی توپ بنوائی۔ 1000 سالہ دیوار گرانے کے لیے 3. *جاسوس نیٹ ورک*: شہر کے اندر پتہ کروایا کہاں دیوار کمزور ہے، کتنا راشن ہے 4. *فوج کا جذبہ*: ہر روز علماء، درویش، سپاہیوں کو جمع کر کے حدیث سناتے تھے۔ پورے لشکر کو یقین دلا دیا کہ "ہم ہی وہ فوج ہیں" 4۔ 28 مئی 1453 کی رات – آخری خواب محاصرے کے 52 دن گزر چکے تھے۔ فوج تھک چکی تھی۔ اس رات محمد فاتح نے پورے خیمے میں چراغ جلوا کر خطبہ دیا: > "اے میرے سپاہیو! یا تو آج ہم قسطنطنیہ میں نماز پڑھیں گے، یا قسطنطنیہ ہم پر نماز پڑھے گا۔ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں، جو پہلا سپاہی دیوار پر جھنڈا گاڑے گا، اسے سونے سے تول دوں گا" پھر وہ خود رو پڑے۔ کہنے لگے "میرے دادا بایزید اول ہار گئے تھے، میرے باپ مراد ثانی نے بھی کوش کی تھی۔ آج اللہ نے یہ سعادت میرے نصیب میں لکھی ہے" 5۔ خواب کی تعبیر 29 مئی صبح فجر کے بعد حملہ ہوا۔ عثمانی دیوار پر چڑھ گئے۔ دوپہر تک شہنشاہ قسطنطین مارا گیا۔ عصر تک شہر فتح ہو گیا۔ محمد فاتح گھوڑے پر سوار ہو کر آیا صوفیہ میں داخل ہوئے۔ مہراب کی طرف رخ کر کے سجدہ کیا۔ 21 سال کے نوجوان نے 1600 سال پرانی سلطنت کا تختہ الٹ دیا۔ *خلاصہ*: محمد فاتح کا خواب صرف "زمین" نہیں تھا۔ وہ "تاریخ" بدلنا چاہتے تھے۔ وہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ عثمانی صرف سرحدی قبیلہ نہیں، وہ رومی سلطنت کے اصل وارث ہیں۔ اور حدیث سچ ہے۔ اسی لیے آج بھی ترک بچے بچے کو "فتحِ استنبول" یاد کروایا جاتا ہے۔ آپ کو لگتا ہے اگر محمد فاتح قسطنطنیہ نہ فتح کرتے تو عثمانی سلطنت اتنی بڑی بن پاتی؟ - @mehmet.fathe2"/>