@aliwatjn82e: ایک رات پھر قلم اٹھاؤں گا، اور اپنے نصیب کا ایک ادھورا باب لکھوں گا۔ خود کو قصوروار اور تجھے بے قصور لکھوں گا، اپنی ہر ہار کا سبب صرف اپنے آپ کو لکھوں گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اب ہمارا ملنا ممکن نہیں، مگر میں خوابوں میں روز تیری آمد کا حساب لکھوں گا۔ جو باتیں کبھی کہہ نہ سکا، انہیں خاموش لفظوں میں بے حساب لکھوں گا۔ تو شاید کسی اور کی دنیا میں خوش ہوگی، اور میں اپنی تنہائی کو اپنا نصاب لکھوں گا۔ رات بھر جاگ کر چاند سے تیرا ذکر کروں گا، اور ہر ٹوٹتے تارے پر تیرا نام لکھوں گا۔ لوگ پوچھیں گے محبت کا انجام کیا ہوا، میں مسکرا کر اپنی آنکھوں کو جواب لکھوں گا۔ ایک کتاب میں نہیں، اپنی پوری زندگی میں تیری کمی کا عذاب لکھوں گا۔ �