@dildilpakistan984: يہ ایک نوجوان کی نہیں، ایک عظیم ہیرو شیر خان کی تصویر ہے یہ یادگار تصویر کیپٹن کرنل شیر خان شہید، نشانِ حیدر کے اس دور کی ایک نایاب تصویر ہے جب وہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول ٹریننگ سینٹر میں پاکستان آرمی میں بحیثیت کمیشن آفیسر ایک نوجوان لیفٹیننٹ کے طور پر عسکری تربیت حاصل کر رہے تھے۔ اس وقت شاید کسی نے نہ سوچا ہو کہ یہی نوجوان ایک دن وطنِ عزیز کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے پاکستان کا عظیم ترین فوجی اعزاز نشانِ حیدر اپنے نام کرے گا۔ کاکول ٹریننگ سینٹر کی سخت تربیت، نظم و ضبط، استقامت اور وطن سے محبت نے ان کی شخصیت کو ایسا نکھارا کہ وہ ایک نڈر، باصلاحیت اور بہادر سپاہی بن کر ابھرے۔ انہوں نے ہمیشہ ہر ذمہ داری کو پوری لگن اور خلوص کے ساتھ نبھایا اور ثابت کیا کہ عظیم سپاہی میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ اپنے کردار، محنت اور تربیت سے تیار ہوتے ہیں۔ یہ تصویر صرف ایک نوجوان فوجی کی یادگار نہیں بلکہ ان خوابوں، عزم اور جذبۂ حب الوطنی کی عکاس ہے جو بعد میں کارگل کے محاذ پر تاریخ رقم کرنے والے ایک عظیم ہیرو کی پہچان بنا۔ کارگل کی برفانی چوٹیوں پر کیپٹن کرنل شیر خان شہید نے جس جرات، دلیری اور قربانی کا مظاہرہ کیا، وہ ہمیشہ پاکستان کی عسکری تاریخ کا سنہری باب رہے گا۔ ان کی زندگی نوجوانوں کے لیے یہ پیغام ہے کہ محنت، کردار، نظم و ضبط اور وطن سے محبت انسان کو عظمت کی بلندیوں تک پہنچا دیتی ہے۔ سلام ہے اس عظیم سپوتِ وطن کو، جس نے کاکول کی تربیت گاہ سے سفر شروع کیا اور میدانِ کارگل میں شہادت کا عظیم مقام پا کر ہمیشہ کے لیے قوم کے دلوں میں زندہ ہو گیا۔ کیپٹن کرنل شیر خان شہید، نشانِ حیدر ہمارا فخر، ہماری شان اور آنے والی نسلوں کے لیے جرات و وفا کی ایک روشن مثال۔ "شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے #sherkhan #Fakhar #army