@khanaliamiri:

Khanali Amiri
Khanali Amiri
Open In TikTok:
Region: DE
Thursday 18 June 2026 18:35:45 GMT
9236
493
12
39

Music

Download

Comments

farya1005
farya :
السلام علیک یا ابوالفضل عباس
2026-06-20 15:10:04
0
sita.media
Sita Media :
یاحسین جان
2026-06-19 14:14:00
1
hhhdiuhhrrkk
pppppppgf :
2026-06-20 10:32:49
0
beloved0268
beloved :
يا زینب کبريٰ. سلام الله علیها ، 💔💔💔😭😭😭 أمان از دل زینب
2026-06-20 07:52:35
0
username82207
. :
😭😭😭😭😭😭😭😭🤲🏿🤲🏿🤲🏿🤲🏿🤲🏿
2026-06-19 11:50:46
2
mohammad.ali.ahma44
Mohammad Ali Ahmadi :
🤲🤲🤲
2026-06-19 10:12:24
1
ahmad.hasani759
Ahmad Hasani :
🌹🌹🌹🌹❤❤❤❤❤
2026-06-19 21:19:46
0
hhhdiuhhrrkk
pppppppgf :
😭😭😭😭😭😭😭😭🤲🤲😭😭😭😭😭😭
2026-06-20 10:32:57
0
hakimnadjim
Hakim Nadjim :
❤️❤️❤️
2026-06-19 15:37:54
1
sakhi.qambari
Sakhi Qambari :
😳😳😳
2026-06-21 05:13:39
0
To see more videos from user @khanaliamiri, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ہر اس شخص کو خود پر دوبارہ غور کرنا چاہیے جو اپنے شجرے، ذات پات، خاندان یا وراثت میں ملے ہوئے عقائد کی بنیاد پر خود کو دوسروں سے بہتر سمجھتا ہے۔ کیونکہ انسان کی اصل عظمت اس چیز میں نہیں ہوتی جو اسے پیدا ہوتے ہی مل گئی ہو، بلکہ اس چیز میں ہوتی ہے جو وہ اپنے کردار، علم، اخلاق اور اعمال سے حاصل کرتا ہے۔ کسی خاندان میں پیدا ہونا انسان کا انتخاب نہیں، کسی خاص ذات سے تعلق رکھنا اس کی کامیابی نہیں، اور آباؤ اجداد کے کارنامے اس کی ذاتی فضیلت نہیں ہوتے۔ اگر برتری صرف نسب اور وراثت سے ملتی تو پھر دنیا میں محنت، کردار، علم اور اخلاق کی کوئی اہمیت باقی نہ رہتی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض لوگ اپنی ذات، قبیلے، خاندان یا عقیدے کو دوسروں پر فوقیت دینے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ وہ خود کو دوسروں سے اونچا سمجھنے لگتے ہیں، حالانکہ انسان کی اصل پہچان اس کا رویہ ہوتا ہے۔ ایک اچھا کردار رکھنے والا انسان، چاہے کسی بھی پس منظر سے ہو، اس شخص سے کہیں زیادہ قابلِ احترام ہے جو صرف اپنے نام یا نسب پر فخر کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بہت سے عظیم انسان سادہ خاندانوں سے نکلے، جبکہ بہت سے طاقتور اور نامور خاندانوں کے لوگ اپنے کردار کی وجہ سے فراموش ہو گئے۔ وقت ہمیشہ ناموں کو نہیں، بلکہ اعمال کو یاد رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غرور اکثر وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں انسان اپنی ذاتی خوبیوں کے بجائے ایسی چیزوں پر فخر کرنے لگتا ہے جنہیں حاصل کرنے میں اس کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ ذات، نسل، خاندان اور وراثت انسان کو پہچان دے سکتے ہیں، مگر عظمت نہیں۔ عظمت ہمیشہ اخلاق، انصاف، علم، عاجزی اور انسانیت سے حاصل ہوتی ہے۔ جو شخص دوسروں کو کمتر سمجھتا ہے، وہ دراصل اپنی سوچ کی تنگی ظاہر کرتا ہے۔ اور جو شخص ہر انسان کو عزت دیتا ہے، وہ اپنی شخصیت کی وسعت ظاہر کرتا ہے۔ کیونکہ بڑے لوگ وہ نہیں ہوتے جو دوسروں کو چھوٹا ثابت کریں، بلکہ وہ ہوتے ہیں جو اپنی بلندی کے باوجود دوسروں کی عزت قائم رکھیں۔ آخرکار قبر میں نہ ذات پوچھی جاتی ہے، نہ خاندان، نہ دولت اور نہ منصب۔ انسان کے ساتھ اگر کچھ جاتا ہے تو وہ اس کا کردار، اس کے اعمال اور اس کی انسانیت ہوتی ہے۔ اسی لیے بہتر ہے کہ فخر اپنے اخلاق پر کیا جائے، اپنے رویوں پر کیا جائے، نہ کہ ان چیزوں پر جو محض اتفاق سے وراثت میں مل گئی ہوں۔ 🖤#foryoure #viralvideos #foryoupage #followers #everyone
ہر اس شخص کو خود پر دوبارہ غور کرنا چاہیے جو اپنے شجرے، ذات پات، خاندان یا وراثت میں ملے ہوئے عقائد کی بنیاد پر خود کو دوسروں سے بہتر سمجھتا ہے۔ کیونکہ انسان کی اصل عظمت اس چیز میں نہیں ہوتی جو اسے پیدا ہوتے ہی مل گئی ہو، بلکہ اس چیز میں ہوتی ہے جو وہ اپنے کردار، علم، اخلاق اور اعمال سے حاصل کرتا ہے۔ کسی خاندان میں پیدا ہونا انسان کا انتخاب نہیں، کسی خاص ذات سے تعلق رکھنا اس کی کامیابی نہیں، اور آباؤ اجداد کے کارنامے اس کی ذاتی فضیلت نہیں ہوتے۔ اگر برتری صرف نسب اور وراثت سے ملتی تو پھر دنیا میں محنت، کردار، علم اور اخلاق کی کوئی اہمیت باقی نہ رہتی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض لوگ اپنی ذات، قبیلے، خاندان یا عقیدے کو دوسروں پر فوقیت دینے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ وہ خود کو دوسروں سے اونچا سمجھنے لگتے ہیں، حالانکہ انسان کی اصل پہچان اس کا رویہ ہوتا ہے۔ ایک اچھا کردار رکھنے والا انسان، چاہے کسی بھی پس منظر سے ہو، اس شخص سے کہیں زیادہ قابلِ احترام ہے جو صرف اپنے نام یا نسب پر فخر کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بہت سے عظیم انسان سادہ خاندانوں سے نکلے، جبکہ بہت سے طاقتور اور نامور خاندانوں کے لوگ اپنے کردار کی وجہ سے فراموش ہو گئے۔ وقت ہمیشہ ناموں کو نہیں، بلکہ اعمال کو یاد رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غرور اکثر وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں انسان اپنی ذاتی خوبیوں کے بجائے ایسی چیزوں پر فخر کرنے لگتا ہے جنہیں حاصل کرنے میں اس کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ ذات، نسل، خاندان اور وراثت انسان کو پہچان دے سکتے ہیں، مگر عظمت نہیں۔ عظمت ہمیشہ اخلاق، انصاف، علم، عاجزی اور انسانیت سے حاصل ہوتی ہے۔ جو شخص دوسروں کو کمتر سمجھتا ہے، وہ دراصل اپنی سوچ کی تنگی ظاہر کرتا ہے۔ اور جو شخص ہر انسان کو عزت دیتا ہے، وہ اپنی شخصیت کی وسعت ظاہر کرتا ہے۔ کیونکہ بڑے لوگ وہ نہیں ہوتے جو دوسروں کو چھوٹا ثابت کریں، بلکہ وہ ہوتے ہیں جو اپنی بلندی کے باوجود دوسروں کی عزت قائم رکھیں۔ آخرکار قبر میں نہ ذات پوچھی جاتی ہے، نہ خاندان، نہ دولت اور نہ منصب۔ انسان کے ساتھ اگر کچھ جاتا ہے تو وہ اس کا کردار، اس کے اعمال اور اس کی انسانیت ہوتی ہے۔ اسی لیے بہتر ہے کہ فخر اپنے اخلاق پر کیا جائے، اپنے رویوں پر کیا جائے، نہ کہ ان چیزوں پر جو محض اتفاق سے وراثت میں مل گئی ہوں۔ 🖤#foryoure #viralvideos #foryoupage #followers #everyone

About