کرو کج جبیں پہ سر کفن مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو کہ غرور عشق کا بانکپن پس مرگ ہم نے بھلا دیا اس شعر کی تشریح یہ شعر اردو کے مشہور شاعر فیض احمد فیض کی غزل کا حصہ ہے۔ اس شعر میں عاشق کی انا، خودداری اور محبوب سے وابستہ وفاداری کا بہت خوبصورت اور پُرعزم انداز میں اظہار کیا گیا ہے۔اس شعر کا مفہوم اور تشریح درج ذیل ہے:مفہوم:عاشق اپنے دوستوں یا جنازہ اٹھانے والوں سے وصیت کر رہا ہے کہ میرے کفن کا سرا میری پیشانی پر ذرا ٹیڑھا (کج) رکھنا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مرنے کے بعد میرے قاتلوں (محبوب یا زمانہ) کو یہ گمان گزرے کہ میں نے شکست تسلیم کر لی ہے یا عشق کی شان و شوکت اور اس کا غرور بھلا دیا ہے۔تفصیلی تشریح:کرو کج جبیں پہ سر کفن: روایتی طور پر کفن کا سرا سیدھا رکھا جاتا ہے تاکہ چہرہ کھلا رہے۔ یہاں شاعر کہتا ہے کہ کفن کو ذرا ترچھا (کج) کر کے پیشانی پر ڈالو، جو کہ فخر اور خودداری کی علامت ہے۔قاتلوں کو گماں نہ ہو: عاشق اپنے محبوب اور زمانے کو اپنے قاتل قرار دیتا ہے کیونکہ انہی کے ظلم و ستم نے اس کی جان لی ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ مرنے کے بعد بھی قاتل یہ سمجھیں کہ انہوں نے عاشق کو ہرا دیا ہے۔غرور عشق کا بانکپن: عشق کا غرور اور اس کا بانکپن یہ ہے کہ عاشق ہر قسم کے دکھ، ستم اور موت کو خندہ پیشانی سے قبول کرے لیکن محبوب کے سامنے اپنی خودداری پر حرف نہ آنے دے۔پسِ مرگ ہم نے بھلا دیا: عاشق عہد کرتا ہے کہ مرنے کے بعد بھی اس کے عشق کی آن، بان اور شان و شوکت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ وہ اپنے آخری وقت تک محبوب سے عشق کا بھرم قائم رکھنا چاہتا ہے۔یہ شعر عاشق کی اس لازوال استقامت کو ظاہر کرتا ہے کہ موت بھی اس کے عشق کے جذبے اور شان کو پست نہیں کر سکتے۔اگر آپ کو فیض ses
2026-06-19 00:42:38
29
Shamsur Rahman :
کرو کج جبیں پہ سر کفن مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو
کہ غرور عشق کا بانکپن پس مرگ ہم نے بھلا دیا
آسان الفاظ میں مطلب:
اے میرے قاتلو! میرا کفن میرے سر پر ذرا ترچھا رکھنا۔ ایسا نہ ہو کہ تمہیں یہ گمان ہو جائے کہ مرنے کے بعد ہم نے عشق کا غرور اور اس کا بانکپن، یعنی شان و شوکت بھلا دی ہے۔
*تشریح:*
عاشق کہہ رہا ہے کہ میں عشق میں مارا گیا ہوں، لیکن موت کے بعد بھی میرا غرورِ عشق قائم ہے۔ کفن کو بھی ترچھا رکھو تاکہ میری بے نیازی اور اکڑ باقی رہے۔ مرنے کے بعد بھی میں قاتل کے سامنے جھکنا پسند نہیں کروں گا۔ یہ عشق کی انتہا اور خودداری کا اظہار ہے کہ موت بھی محبوب کے آگے عاشق کا سر نہیں جھکا سکی۔
شاعر یہاں "بانکپن" یعنی ترچھی ٹوپی رکھنے کا انداز، اکڑ، اور شان مراد لے رہے ہیں۔ یعنی مرنے کے بعد بھی عاشق کا انداز وہی مغرورانہ ہے۔
2026-06-19 06:45:53
12
Abid Shah :
da de c we pake ....
2026-06-19 10:35:35
1
Betaj Badshah :
واہ مولانا ! آپ کے فہم وفراست کو سلام🌹🌹
2026-06-19 11:46:43
4
Muhammad Ibrahim :
mawlana good
2026-06-19 09:59:40
1
Zesan Marwat :
شعر حاضر ہے 👇 اسٹیج پر لگا دیتے ہیں 😄
*دل کی بات لب پر لانا آسان نہیں ہوتا*
*ہر زخم زمانے کو دکھانا آسان نہیں ہوتا*
کیسا لگا؟
اگر کسی خاص موضوع پر شعر چاہیے - محبت، دوستی، صبر - تو بتا دیں، اسٹیج سجا دوں گا 🔥
2026-06-19 13:57:01
1
Zesan Marwat :
"میرے دشمنوں کو گھوما دو" کا مطلب ہے:
*1. انہیں پریشان کر دو* - ایسا چکر میں ڈال دو کہ وہ سمجھ نہ پائیں کیا ہو رہا ہے
*2. انہیں ناکام بنا دو* - ان کی چالیں الٹ دیں، وہ خود اپنی چال میں پھنس جائیں
*3. اللہ سے دعا* - اکثر لوگ یہ دعا کے طور پر کہتے ہیں: "اے اللہ، میرے دشمنوں کو گھما دے" یعنی انہیں اپنی سازشوں میں ہی الجھا دے
یہ فقرہ غصے میں بھی بولا جاتا ہے اور دعا کے طور پر بھی۔
آپ نے کہاں سنا یہ جملہ؟ کوئی خاص بات ہے؟
2026-06-19 13:57:21
0
janiii668 :
2026-06-20 08:16:39
0
❤️ علی معاویہ بھائی بھائی ❤️ :
🥰🥰🥰
2026-06-20 02:46:34
1
Agha sab :
😭😭😭
2026-06-19 06:08:15
1
Fatah Khan Babar :
🌸🌸🌸
2026-06-19 14:11:30
1
Ibrahim Khan :
🥰🥰🥰
2026-06-19 01:57:46
1
💪💪💪🦅گجر 888🦅💪💪 :
❤️❤️❤️
2026-06-19 10:04:26
2
𝐖𝐚𝐡𝐢𝐝𝐊𝐡𝐚𝐧 35 :
♥️♥️♥️
2026-06-19 10:05:29
1
🇸🇦Tauقeer Aحmad SaنaN🇬🇧 :
🤲🤲🤲
2026-06-19 08:13:13
1
عمرحیات باجوڑے جانان :
🌹🌹🌹
2026-06-19 06:58:51
1
قائد کا دیوانہ :
😭😭😭
2026-06-18 22:48:14
1
حافظ حمد اللہ صاحب :
🌹🌹🌹
2026-06-19 05:45:06
1
𒆜Äʍ𝑚ⲗ𝐫𝒻𝒻𒆜 :
❣️❣️❣️
2026-06-19 08:15:32
1
عبدالسلام :
💕💕💕
2026-06-18 19:15:23
1
To see more videos from user @islamic.max.offic, please go to the Tikwm
homepage.