@isabella.lauren: and one canceled flight later 🧍‍♀️

isy
isy
Open In TikTok:
Region: US
Thursday 18 June 2026 20:21:33 GMT
67203
2720
26
26

Music

Download

Comments

bob.downnow
Bob Downnow :
Oh no all your commitments will be delayed
2026-06-18 21:31:17
38
spilltheteawithshaili
spilltheteawithshaili :
I go home when it’s delayed the second time
2026-06-18 20:29:49
3
will_b_king
WillBKing :
In charlotte? Lol that’s where mine got canceled
2026-06-19 13:20:29
4
domperignon81
Dom Perignon :
You look alike too much
2026-06-24 15:25:32
0
simon.rebel5
Simon Rebel5 :
you are so funny when you go nuts 😉😎😁
2026-06-18 20:33:42
0
gr1820
GR1820 :
Fatal Attraction (1987) a must-see
2026-06-18 21:42:39
0
deadbod71
DeadBod :
Very real
2026-06-19 00:41:43
1
tik.tok....admin
TikTok_Administrator :
These filters are wild
2026-06-19 01:40:18
0
dadasmurf
Dada Smurf :
Gorgeous ❤️
2026-06-19 09:59:30
0
darkright123
Darkright123 :
I do love you bb
2026-06-18 21:19:30
0
sweet.candy767
Dulce like Sweet 🍭 :
😭😭😭lol
2026-06-18 22:50:12
0
casias97
Casias97 :
I recall sleeping under a bench at DIA overnight during a snow storm. This resonates
2026-06-18 20:51:27
0
flowerlover3000000000
Jonathan :
I’m turning 27
2026-06-18 20:43:09
0
trivialotter
TrivialOtter :
Obsession was so dam good...and delays suck.
2026-06-18 21:54:11
2
javier.urquidi
Javier :
Me right now at ONT 😂
2026-06-20 23:23:58
0
marco.debruyne
Marco De Bruyne :
Welcome to Europe 😅
2026-06-18 20:28:58
1
virajthom
Viraj :
🥰🥰🥰
2026-06-19 00:15:04
1
keveddyhaettich33
KevEddy Haettich :
😂😂😂😂😂
2026-06-18 20:37:43
1
76kclark
Kevin :
😲😲😲😳😳😳😖😖😖😖
2026-06-20 20:25:37
0
back.at.itagain_84
back.at.itagain_84 :
😍😍😍
2026-06-19 13:46:08
0
oceanview.man
Oceanview man :
🤣🤣🤣
2026-06-19 00:39:11
0
To see more videos from user @isabella.lauren, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

تاریخِ کربلا جب بھی لکھی جائے گی، آسمان ہمیشہ خون کے آنسو روئے گا۔ ہم سب نے میدانِ کربلا کے دردناک واقعات سنے ہیں، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ 10 محرم کے اس تپتے ہوئے صحرا میں، یزیدی لشکر کے سامنے ایک ایسی وفادار ہستی بھی موجود تھی، جو انسان نہیں تھی؟ ​ایک ایسا سچا ساتھی... جس نے اپنے آقا کی حفاظت کے لیے اپنے جسم کو زندہ ڈھال بنا لیا، دشمن کے وار اپنے سینے پر لیے، اس پر زہر آلود تیروں کی بارش کی گئی، مگر وہ ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹا۔ آخر وہ ساتھی کہاں سے آیا تھا؟ اس کا اصل نام کیا تھا؟ اور کربلا کے میدان میں آقا کی شہادت کے بعد اس کے ساتھ کیا آخری واقعہ پیش آیا؟ روایات کے مطابق یہ مبارک گھوڑا رسولِ مقبول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے خاص اصطبل کا تھا۔ ​جب امام حسینؑ چھوٹے بچے تھے، تو آپ کو اس گھوڑے سے خاص انسیت تھی۔ رسولِ پاک ﷺ اکثر اپنے پیارے نواسے کو اس پر بٹھایا کرتے تھے۔ نانا جان کی رحلت کے بعد، یہ گھوڑا امام حسینؑ کی سب سے پسندیدہ یادگار بن گیا۔ ​اس کا اصل نام 'مرتجز' تھا، جس کا مطلب ہے 'خوش آواز'۔ لیکن کربلا کے میدان میں جب اس نے اپنی وفاداری، چستی اور دلیری دکھائی، تو اسے 'ذوالجناح' کا لقب دیا گیا، جس کے لغوی معنی ہیں 'دو پروں والا'۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے میدانِ جنگ میں یہ مظلومِ کربلا کی حفاظت کے لیے پرواز کر رہا ہے۔ ​10 محرم کا وہ قیامت خیز دن ​تصور کیجیے... 10 محرم الحرام کا دن ہے، تین دن کی سخت پیاس ہے، تپتا ہوا صحرا ہے اور امام حسینؑ کے تمام انصار، پیارے بھائی، جوان بیٹے اور ننھے علی اصغرؑ ایک ایک کر کے راہِ خدا میں قربان ہو چکے ہیں۔ اب خاندانِ نبوت کے آخری چراغ، سید الشہداء کی باری تھی۔ امامِ عالی مقام نے خیمے میں جا کر الوداعی سلام کیا اور ذوالجناح پر زین کسی۔ ​ذوالجناح خود بھی تین دن سے پیاسا تھا، اس کے حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے، لیکن اپنے آقا کی خدمت کے لیے اس کے جذبے میں کوئی کمی نہیں آئی۔ جب یزیدی لشکر نے ہر طرف سے امامِ مظلوم پر گھیرا تنگ کر دیا اور ہزاروں کی تعداد میں تیروں، تلواروں اور نیزوں کی بارش شروع کر دی، تو ذوالجناح نے اپنے جسم کو ڈھال بنا لیا۔ تاریخ لکھتی ہے کہ دشمنوں کے زہر آلود تیر امام حسینؑ کو لگنے سے پہلے ذوالجناح کے جسم میں پیوست ہو رہے تھے، لیکن اس نے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹایا۔ ​اور پھر وہ کائنات کا سب سے سیاہ لمحہ آیا... جب زخموں سے چور امامِ عالی مقام ذوالجناح کی پیٹھ سے زمینِ کربلا پر تشریف لائے۔ ذوالجناح نے اپنے گھٹنے ٹیک دیے تاکہ اس کے آقا کو زمین پر آنے میں کوئی تکلیف نہ ہو۔ جب شمرِ ملعون نے امام حسینؑ کا سرِ مبارک تن سے جدا کر دیا، تو کائنات کی ہر چیز رو پڑی۔ ​اپنے آقا کی شہادت کے بعد ذوالجناح تنہا رہ گیا۔ اس بے زبان جانور نے جب دیکھا کہ اس کا مالک اب اس دنیا میں نہیں رہا، تو اس کا غم قابو سے باہر ہو گیا۔ وہ دوڑتا ہوا امام حسینؑ کے جسدِ مبارک کے پاس آیا۔ اس نے اپنا سر امام کے خونِ پاک میں بھگویا، اپنی ایال کو سرخ کیا اور مقتل کی زمین پر اپنا سر مارنا شروع کر دیا اور ایسی دردناک آوازیں نکالیں جیسے کوئی انسان بین کرتا ہے۔ ​آقا کی شہادت کا یقین ہونے کے بعد، ذوالجناح نے ایک آخری اور سب سے دردناک فرض نبھایا۔ وہ خالی زین اور خون سے لت پت جسم کے ساتھ خیموں کی طرف بھاگا۔ وہ بار بار زمین پر اپنے کھر مارتا اور ہنہناتا تھا تاکہ خیموں میں موجود خواتینِ اہلٔ بیت کو معلوم ہو جائے کہ کیا قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ ​جسیے ہی بی بی زینبؑ اور امام کی معصوم بیٹی بی بی سکینہؑ نے خیمے سے باہر دیکھا، تو سامنے امام نہیں بلکہ ان کا خون میں ڈوبا ہوا گھوڑا کھڑا تھا جس کی زین الٹی ہوئی تھی۔ یہ منظر دیکھتے ہی خیموں میں کہرام مچ گیا۔ امام کی چھوٹی بیٹی بی بی سکینہؑ روتی ہوئی دوڑیں اور ذوالجناح کے پیروں سے لپٹ گئیں۔ انہوں نے روتے ہوئے پوچھا: ​
تاریخِ کربلا جب بھی لکھی جائے گی، آسمان ہمیشہ خون کے آنسو روئے گا۔ ہم سب نے میدانِ کربلا کے دردناک واقعات سنے ہیں، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ 10 محرم کے اس تپتے ہوئے صحرا میں، یزیدی لشکر کے سامنے ایک ایسی وفادار ہستی بھی موجود تھی، جو انسان نہیں تھی؟ ​ایک ایسا سچا ساتھی... جس نے اپنے آقا کی حفاظت کے لیے اپنے جسم کو زندہ ڈھال بنا لیا، دشمن کے وار اپنے سینے پر لیے، اس پر زہر آلود تیروں کی بارش کی گئی، مگر وہ ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹا۔ آخر وہ ساتھی کہاں سے آیا تھا؟ اس کا اصل نام کیا تھا؟ اور کربلا کے میدان میں آقا کی شہادت کے بعد اس کے ساتھ کیا آخری واقعہ پیش آیا؟ روایات کے مطابق یہ مبارک گھوڑا رسولِ مقبول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے خاص اصطبل کا تھا۔ ​جب امام حسینؑ چھوٹے بچے تھے، تو آپ کو اس گھوڑے سے خاص انسیت تھی۔ رسولِ پاک ﷺ اکثر اپنے پیارے نواسے کو اس پر بٹھایا کرتے تھے۔ نانا جان کی رحلت کے بعد، یہ گھوڑا امام حسینؑ کی سب سے پسندیدہ یادگار بن گیا۔ ​اس کا اصل نام 'مرتجز' تھا، جس کا مطلب ہے 'خوش آواز'۔ لیکن کربلا کے میدان میں جب اس نے اپنی وفاداری، چستی اور دلیری دکھائی، تو اسے 'ذوالجناح' کا لقب دیا گیا، جس کے لغوی معنی ہیں 'دو پروں والا'۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے میدانِ جنگ میں یہ مظلومِ کربلا کی حفاظت کے لیے پرواز کر رہا ہے۔ ​10 محرم کا وہ قیامت خیز دن ​تصور کیجیے... 10 محرم الحرام کا دن ہے، تین دن کی سخت پیاس ہے، تپتا ہوا صحرا ہے اور امام حسینؑ کے تمام انصار، پیارے بھائی، جوان بیٹے اور ننھے علی اصغرؑ ایک ایک کر کے راہِ خدا میں قربان ہو چکے ہیں۔ اب خاندانِ نبوت کے آخری چراغ، سید الشہداء کی باری تھی۔ امامِ عالی مقام نے خیمے میں جا کر الوداعی سلام کیا اور ذوالجناح پر زین کسی۔ ​ذوالجناح خود بھی تین دن سے پیاسا تھا، اس کے حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے، لیکن اپنے آقا کی خدمت کے لیے اس کے جذبے میں کوئی کمی نہیں آئی۔ جب یزیدی لشکر نے ہر طرف سے امامِ مظلوم پر گھیرا تنگ کر دیا اور ہزاروں کی تعداد میں تیروں، تلواروں اور نیزوں کی بارش شروع کر دی، تو ذوالجناح نے اپنے جسم کو ڈھال بنا لیا۔ تاریخ لکھتی ہے کہ دشمنوں کے زہر آلود تیر امام حسینؑ کو لگنے سے پہلے ذوالجناح کے جسم میں پیوست ہو رہے تھے، لیکن اس نے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹایا۔ ​اور پھر وہ کائنات کا سب سے سیاہ لمحہ آیا... جب زخموں سے چور امامِ عالی مقام ذوالجناح کی پیٹھ سے زمینِ کربلا پر تشریف لائے۔ ذوالجناح نے اپنے گھٹنے ٹیک دیے تاکہ اس کے آقا کو زمین پر آنے میں کوئی تکلیف نہ ہو۔ جب شمرِ ملعون نے امام حسینؑ کا سرِ مبارک تن سے جدا کر دیا، تو کائنات کی ہر چیز رو پڑی۔ ​اپنے آقا کی شہادت کے بعد ذوالجناح تنہا رہ گیا۔ اس بے زبان جانور نے جب دیکھا کہ اس کا مالک اب اس دنیا میں نہیں رہا، تو اس کا غم قابو سے باہر ہو گیا۔ وہ دوڑتا ہوا امام حسینؑ کے جسدِ مبارک کے پاس آیا۔ اس نے اپنا سر امام کے خونِ پاک میں بھگویا، اپنی ایال کو سرخ کیا اور مقتل کی زمین پر اپنا سر مارنا شروع کر دیا اور ایسی دردناک آوازیں نکالیں جیسے کوئی انسان بین کرتا ہے۔ ​آقا کی شہادت کا یقین ہونے کے بعد، ذوالجناح نے ایک آخری اور سب سے دردناک فرض نبھایا۔ وہ خالی زین اور خون سے لت پت جسم کے ساتھ خیموں کی طرف بھاگا۔ وہ بار بار زمین پر اپنے کھر مارتا اور ہنہناتا تھا تاکہ خیموں میں موجود خواتینِ اہلٔ بیت کو معلوم ہو جائے کہ کیا قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ ​جسیے ہی بی بی زینبؑ اور امام کی معصوم بیٹی بی بی سکینہؑ نے خیمے سے باہر دیکھا، تو سامنے امام نہیں بلکہ ان کا خون میں ڈوبا ہوا گھوڑا کھڑا تھا جس کی زین الٹی ہوئی تھی۔ یہ منظر دیکھتے ہی خیموں میں کہرام مچ گیا۔ امام کی چھوٹی بیٹی بی بی سکینہؑ روتی ہوئی دوڑیں اور ذوالجناح کے پیروں سے لپٹ گئیں۔ انہوں نے روتے ہوئے پوچھا: ​"اے میرے بابا کے وفادار گھوڑے! مجھے سچ سچ بتا، کیا میرے بابا کو رخصت ہونے سے پہلے ایک قطرہ پانی ملا تھا یا وہ پیاسے ہی شہید کر دیے گئے؟" ​ذوالجناح نے جواب میں اپنا سر بی بی سکینہؑ کے قدموں میں رکھ دیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ ​دوسری روایت: بعض روایات میں آتا ہے کہ وہ خیموں کے پاس سے دوڑتا ہوا صحرا کی گہرائیوں میں غائب ہو گیا اور پھر کسی انسان نے اسے کبھی نہیں دیکھا۔ ​حقیقت جو بھی ہو، لیکن ایک بات طے ہے کہ اس وفادار جانور نے اپنے آقا کے بعد اس دنیا میں جینا گوارا نہیں کیا اور تاریخ میں ہمیشہ کے لیے وفاداری کی سب سے اعلیٰ علامت بن گیا۔ ​اللہ پاک ہمیں اہلٔ بیتِ اطہارؑ کی سچی محبت اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ ​اگر آپ کو یہ پوسٹ پسند آئی ہو تو اسے لائک اور شیئر کریں، اور کمنٹ سیکشن میں 'لبیک یا حسینؑ' ضرور لکھیں۔ #10muharram #fyp #urduwaqiyat #tranding #fyppppppppp

About