@fani.2424: یہ الفاظ دراصل اُس معاشرتی بیماری پر چوٹ ہیں جہاں کچھ لوگ اپنی کمزوریوں، ناکامیوں یا احساسِ کمتری کو چھپانے کے لیے دوسروں کی عزت پر حملہ کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر کسی اچھے انسان کا کردار مشکوک بنا دیا جائے تو ان کا اپنا مقام بلند ہو جائے گا، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ خاندان انسان کو پہچان ضرور دیتا ہے، مگر اصل مقام اس کے اپنے کردار، ظرف، اخلاق اور عمل سے بنتا ہے۔ اگر کسی کا خون خاندانی بھی ہو لیکن زبان گندی، نیت خراب اور کردار دوسروں کو گرانے والا ہو تو اُس کی خاندانی نسبت بھی اُسے عزت نہیں دلا سکتی۔ کردار کشی ایک ایسا ہتھیار ہے جو پہلے استعمال کرنے والے کی شخصیت کو زخمی کرتا ہے۔ جو شخص دوسروں کے عیب تلاش کرنے میں مصروف رہتا ہے، وہ دراصل اپنی خوبیوں کے خالی پن کا اعلان کر رہا ہوتا ہے۔ کیونکہ مضبوط انسان اپنی شناخت بنانے میں وقت لگاتا ہے، جبکہ کمزور انسان دوسروں کی شناخت مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ اصل اوقات یہ نہیں کہ انسان کتنے لوگوں کو نیچا دکھا سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کتنی طاقت، اختیار اور غصے کے باوجود اپنے اخلاق کو بلند رکھ سکتا ہے۔ عزت چھیننے سے نہیں ملتی، عزت کردار، سچائی اور خودداری سے کمائی جاتی ہے۔ اس لیے یاد رکھو، جو شخص دوسروں کی عزت اچھال کر اپنی عزت بنانا چاہتا ہے، وہ ریت پر محل تعمیر کرتا ہے؛ #شاطر #بھیڑیا🐺🔥 #معاشرتی_حقیقت #سچائی #foryou